تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار کیا ہے اور کامیابی یا ناکامی پر کیا ہوتا ہے؟

نیوز ڈیسک

اسلام آباد – پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی

تحریک عدم اعتماد کو ملکی سیاست میں کئی ماہ کی غیریقینی صورتحال کے بعد جمع کرایا گیا جس کا اعلان پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 11 فروری کو کیا تھا

ملکی سیاست میں حالیہ دنوں میں کافی ہلچل دیکھنے میں آئی، جس کے دوران حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں ہوئیں، حزب اختلاف کی جماعتوں کے اجلاس ہوئے اور سیاسی شخصیات نے اپنے اپنے مؤقف کی لابنگ کی

تو اب آگے کیا ہوگا؟ تحریک عدم اعتماد میں رائے شماری کا طریقہ کار کیا ہے؟ سب سے اہم کیا پی ٹی آئی حکومت گھر واپس جارہی ہے؟

نمبرز گیم

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے حزب اختلاف کو سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی یعنی قومی اسمبلی کے 342 میں سے 172 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوگی

حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ اسے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کا تو کہنا ہے کہ وہ یہ تعداد 180 تک پہنچانا چاہتے ہیں

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 ارکان، ایم کیو ایم کے 7، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، مسلم لیگ (ق) کے 5 ارکان، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کا ایک رکن شامل ہے

جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 56 ، متحدہ مجلس عمل کے 15، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4، عوامی نیشنل پارٹی کا ایک، جمہوری وطن پارٹی کا ایک اور اس کے علاوہ 4 آزاد اراکین شامل ہیں

علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نمبرز گیم کے حوالے سے کہا ہے کہ 172 میں سے 162 اراکین حزب اختلاف کی جماعتوں جبکہ ایک جماعت اسلامی کا ہوگا

انہوں نے مزید کہا کہ حکمران جماعت کے 2 اراکین حکومت کی ‘کھلی مخالفت’ کررہے ہیں جس کے بعد 7 ووٹ باقی رہ جاتے ہیں

ان کا کہنا تھا ‘ہمارے پاس نمبروں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے’

سنیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اس وقت حزب اختلاف بظاہر پنجاب اور بلوچستان کے کمزور اراکین قومی اسمبلی پر توجہ مرکوز کررہی ہے

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد حزب اختلاف کا ‘آخری پتا’ ہے تو وہ اس کا استعمال اس وقت تک نہیں کرتی، جب تک اسے مکمل اعتماد نہ ہوتا

انہوں نے مزید کہا ‘وہ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واحد آپشن عام انتخابات میں جانے کا ہوگا’

تحریک عدم اعتماد کا طریقہ کار

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شمای کے لیے قومی اسمبلی کے 20 فیصد یا 68 اراکین کے دستخطوں سے ایوان کا اجلاس بلانے کی درخواست جمع کرائی جاتی ہے، جس کے دوران تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوتی ہے

آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریکوزیشن آنے کے بعد ایوان کا اجلاس بلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 14 دن ہوتے ہیں

اجلاس طلب کرنے کے بعد سیکریٹری قومی اسمبلی اس نوٹس کو اراکین کو بھیجیں گے اور عدم اعتماد کی قرارداد اگلے دن (ورکنگ ڈے پر) پیش کی جائے گی

جس دن قرارداد پیش کی جاتی ہے، قواعد کے مطابق اس پر ” تین دن سے پہلے یا سات دن کے بعد ووٹ نہیں دیا جائے گا”

وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری اوپن ووٹ کے ذریعے ہوتی ہے

مظہر عباس کے مطابق جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا تو پہلے گھنٹی بجائی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی رکن باہر ہو تو وہ اسمبلی ہال میں پہنچ جائے اور اس کے بعد دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں

اس کے جو اراکین تحریک عدم اعتماد کے حق میں ہوتے ہیں وہ ایک دروازے سے باہر نکلتے ہیں جبکہ اس کے مخالف دوسرے دروازے سے باہر جاتے ہیں

جب وہ باہر نکل رہے ہوتے ہیں تو گنتی کا آغاز ہوجاتا ہے اور جب ہال مکمل خالی ہوجاتا ہے اور رائے شماری مکمل ہوجاتی ہے تو پھر سب دوبارہ ہال میں داخل ہوتے ہیں

اس کے بعد اسپیکر کی جانب سے نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو تو اسپیکر کی جانب سے نتیجے کو تحریری طور پر صدر مملکت کے پاس جمع کرایا جائے گا اور سیکریٹری کی جانب سے گزٹڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا

اگر اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہو تو اس پر رائے شماری خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتی ہے

اسمبلی کے قوانین کے مطابق اس رائے شماری کے دوران اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اسمبلی سیشن کی صدارت نہیں کرسکتے

قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد سے ہٹ کر کوئی کارروائی نہیں ہوتی

اگر اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک کامیاب ہوجائے تو گزٹڈ نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے

اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟

آئین کے مطابق اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں اکثریت سے کامیاب ہوجائے تو وزیراعظم مزید عہدہ نہیں سنبھال سکتے

جب وزیراعظم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیئے جاتے ہیں تو ان کی کابینہ بھی تحلیل ہوجاتی ہے

وکیل عبدالمعیز جعفری نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ‘کابینہ وزیراعظم کے اختیار کی طاقت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایک کابینہ وزرا، مشیران پر مشتمل ہوتی ہے مگر ایک کابینہ قائد ایوان کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی۔ کابینہ قائد ایوان کی معاونت کرتی ہے’

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی اسمبلی قائد ایوان کے بغیر کام نہیں کرسکتی

ان کا کہنا تھا ‘جب الیکشن ہوتا ہے تو سب سے پہلے آپ اسپیکر کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ ایوان کا ایک نگران ہو اور اسپیکر کے منتخب ہونے کے بعد قائد ایوان کا انتخاب ہوتا ہے تاکہ اس کی سمت کا تعین کیا جاسکے، مگر جب قائد ایوان برقرار نہ رہے تو آپ کو لازمی طور پر کسی اور کو متنخب کرنا ہوتا ہے’

عبدالمعیز جعفری نے مزید کہا کہ اگر کوئی قائد ایوان نہ ہو تو صدر اسمبلی کو تحلیل کرکے عام انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں

اس کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے اسپیکر کو ہٹانے پر ڈپٹی اسپیکر عارضی طور پر اسپیکر کے فرائض اس وقت تک سرانجام دیتے ہیں جب تک نئے اسپیکر کا انتخاب نہ ہوجائے

دوسری جانب وکیل سالار خان کا اس طریقہ کار کے بارے میں مؤقف تھوڑا سا مختلف تھا اور انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ہٹنے کے بعد کی صورتحال کسی حد تک غیریقینی ہے

قوانین کہتے ہیں ‘عام انتخابات کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب یا کسی بھی وجہ سے وزیراعظم کا عہدہ خالی ہونے پر اسمبلی کو مزید کوئی کارروائی کیے بغیر مسلمان اراکین میں سے کسی ایک کو بطور وزیراعظم منتخب کرنا ہوگا’

قومی اسمبلی کے قوانین کی شق 32 کے مطابق اسمبلی کو بغیر کسی اور کارروائی کے نئے وزیراعظم کو منتخب کرنا ہوگا مگر سالار خان نے بتایا کہ شق 37 کے مطابق اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ملتوی نہیں ہوسکتا جب تک تحریک مسترد نہ ہوجائے یا اس پر رائے شماری نہ ہوجائے

انہوں نے کہا ‘تو ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ آپ کو فوری طور پر نئے وزیراعظم کو متنخب کرنا ہے، آپ سیشن کو ملتوی کرسکتے ہیں مگر مزید کوئی نئی کارروائی نہیں کرسکتے’

ماضی کے واقعات

پاکستان میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف دو بار تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی

سب سے پہلے ایسا 1989 میں بے نظیر بھٹو کے خلاف کیا گیا تھا مگر تحریک عدم اعتماد صرف 12 ووٹوں سے ناکام رہی تھی، 5 ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے اور بے نظیر بھٹو کو 125 ووٹ ملے تھے، تحریک عدم اعتماد کے حق میں107 آئے تھے، جب کہ کامیابی کے لیے اپوزیشن کو 119 ووٹ چاہیے تھے

اگست 2006 میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام رہی تھی۔اس موقع پر تحریک عدم اعتماد پر حزب اختلاف کے حصے میں 342 میں سے 136 ووٹ ہی آسکے تھے جبکہ تحریک کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار تھے

قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر چوہدری امیر حسین کے خلاف 2 بار تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی، ایک بار جون 2003 اور دوسری بار اکتوبر 2004 میں، وہ دونوں بار بچنے میں کامیاب رہے

جون 2003 میں تحریک عدم اعتماد اس لیے ناکام رہی کیونکہ حزب اختلاف نے بحث کے بعد رائے شماری کا بائیکاٹ کیا تھا

اس سے سترہ سال قبل اس وقت کے قومی اسمبلی کے اسپیکر سید فخر امام کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا، جس کی حمایت اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے کی تھی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close