کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تمام رکاوٹیں عبور کرکے ڈی چوک پہنچیں گے، عمران خان

نیوز ڈیسک

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں مارچ کا مرکزی قافلہ 6 بجے اٹک پل پر حکومت پنجاب کی جانب سے کھڑی کی گئیں رکاوٹیں ہٹانے کے بعد پنجاب کی حدود میں داخل ہوگیا

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں مارچ کا مرکزی قافلہ 6 بجے اٹک پل پر حکومت پنجاب کی جانب سے کھڑی کی گئیں رکاوٹیں ہٹانے کے بعد پنجاب کی حدود میں داخل ہوگیا

اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل صوابی انٹرچینج پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، تمام رکاوٹیں عبور کرکے ڈی چوک جارہے ہیں

اسلام آباد کی جانب اپنے لانگ مارچ شروع ہونے سے قبل صوابی انٹرچینج پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جا رہے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا. ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے اور تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے ہم اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے پیشِ نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

پاکستان میں انٹرنیٹ کی دو بڑی کمپنیوں کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔ ٹرانس ورلڈ اور پائی پورے پاکستان کو انٹرنیٹ سروسز فراہم کرتی ہیں

ٹرانس ورلڈ کی انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں جب کہ پائی کو بند کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے ترجمان خرم مہران نے بتایا ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ سروسز معطل نہیں کی جا رہی ہیں. ان کے مطابق اس وقت ٹرانس ورلڈ کی سروسز سے ویسے ہی کوئی مسئلہ ہے، جسے دیکھا جا رہا ہے

دوسری جانب تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کا قافلہ اٹک پل پہنچ گیا ہے، اٹک پل سے کنٹینر ہٹا دیے گئے ہیں ہم کچھ دیر میں پنجاب میں داخل ہو جائیں گے

ان کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ مزاحمت اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں لیکن عوام رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھ رہی ہے ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور پر امن ہی رہیں گے

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب بلاول ،فضل الرحمان آئے تھے تو کیا ہم نے کنٹینر رکھا تھا ہمیں خوف نہیں تھا اس لئے نہ گرفتاری کی نہ کنٹینر رکھا لیکن ان کو خوف تھا اس لئے انہوں نے کنٹینرز رکھے اور گرفتاریاں کیں

انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ہمارے لوگوں کو روکا جا رہا ہے اور رات گئے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، رات کو ہمارے کارکنان کے گھروں میں چھلانگیں مار کر گھر سے پکڑا اور ان کی عورتوں کو تنگ کیا

عمران خان نے کہا ہے کہ میں حکومت کو صوابی انٹرچینج سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ جو بھی رکاوٹیں ڈالیں گے ہم تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے

قبل ازیں لاہور میں بتی چوک اور بھاٹی چوک پر پی ٹی آئی کے مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ کی وڈیوز ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پنجاب میں سیاسی صورتحال کشیدہ ہوگئی

تازہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب حکومت کی جانب سے مارچ کی اجازت نہ ملنے کے صرف ایک روز بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز اپنے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب ’حقیقی آزادی‘ کے لیے مارچ کرنے کی تلقین کی، عمران خان نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت رکاوٹیں دور کریں

بعد ازاں عمران خان خیبرپختونخوا کے ولی انٹر چینج سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے، اس کے بعد پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی کے جھنڈوں سے مزین ٹرک پر کھڑے عمران خان کی حامیوں کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے تصویر ٹوئٹ کی گئی

دریں اثنا میڈیا پر اس قسم کی رپورٹس پھیلا دی گئیں، جن کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہد طے پا گیا ہے، جس کے تحت صرف جلسہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے

چیئرمین پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کسی قسم کے معاہدے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

جھڑپیں، گرفتاریاں اور تصادم

اس سے قبل لاہور کے بتی چوک پر تصادم کے بعد 10 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، دیگر شہروں میں جھڑپوں کی فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں جن میں جھڑپیں اور پولیس اہلکاروں کو مارچ کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے

فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئیں جب کارکنان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کے لیے جمع ہو ئے اور شپنگ کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی ، ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکاروں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق مارچ کرنے والوں کو شاہدرہ کے علاقے میں بھی روک دیا گیا

بعد میں ایک ٹویٹ میں پارٹی نے کہا کہ شاہدرہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینر کو ہٹا دیا گیا ہے

نیازی چوک پر بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹا کر آگے کی جانب مارچ کیا

پونے دو بجے کے بعد پولیس نے ایوان عدل کے قریب آنسو گیس اور شیلنگ دوبارہ شروع کی، پولیس نے آزادی مارچ کے شرکا کی بس میں موجود پچاس سے زائد وکلا اور کارکنان کو بھی گرفتار کر کے پرزنر وین میں منتقل کر دیا

پولیس کی جانب سے بسوں پر لاٹھیوں اور پتھر بھی برسائے گئے جبکہ متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، اطلاعات کے مطابق اس دوران پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان بسوں کے اندر موجود تھیں

پولیس نے مؤقف اپنایا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر یہ گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں، ٹکسالی چوک کے قریب پولیس اور کارکنان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کو سلسلہ جاری ہے

دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو لاہور میں پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم پی ٹی آئی کارکنان حماد اظہر کو گرفتاری سے بچانے میں کامیاب رہے

قبل ازیں حماد اظہر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ’کالا شاہ کاکو کے قریب ہماری ریلی پر شدید شیلنگ کی گئی لیکن ہم ان شا اللہ اس رکاوٹ کو بھی دور کر لیں گے‘

حقیقی آزادی مارچ کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب قافلے کے ہمراہ گامزن حماداظہر کو روکنے کے لیے پولیس نے بدترین آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ پولیس نے چہروں کے نشانہ لے کر آنسوگیس کے شیل فائر کیے ہیں آنسوگیس کا شیل چہرے پر لگا جس سے زخمی ہو گیا

اس سے قبل لاہور میں حماد اظہر نے کہا تھا کہ بتی چوک، راوی پل اور شاہدرہ پر رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو عوام نے صاف کر دیا ہے

دریں اثنا لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خواتین رہنما یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا ہے

اس سے قبل ایک اور فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ لاہور میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب پولیس سابق وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی گاڑی کو روک رہی ہے، پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کے بعد فریقین کے درمیان الفاظ کا تبادلہ بھی دیکھا گیا

اس دوران ڈاکٹر یاسمین راشد کی گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی اور انہیں پتھر بھی لگے

بعدازاں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بوکھلا گئی ہے، میں نے اپنی گاڑی بہت مشکل سے نکالی ہے، میں 80 سال کی ہوں اس حکومت کو مجھ سے کیا خطرہ ہے جو مجھ پر شیلنگ کی گئی

انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ہم اپنا مطالبہ منوا کے آئیں گے، پر امن احتجاج کو روکنا کون سا جمہوری فیصلہ ہے، ہم اسلام آباد پہنچ کے رہیں گے

سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ لال حویلی میں پولیس داخل ہوچکی ہے اور 60 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے

فیصل آباد، گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر تمام شہروں میں روڈ مکمل طور پر بلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ، کراچی میں کیپری سینما سے نمائش چورنگی کی جانب مین ایم اے جناح روڈ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے

پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے سلسلے میں پی ٹی آئی کارکنوں پر شاہراہ قائدین پر پولیس نے شیلنگ سے کئی افراد زخمی ہوگئے، پتھراؤ سے دو پولیس افسر بھی زخمی ہوئے

پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے سلسلے میں نمائش چورنگی پر دھرنے میں آنے کیلیے تحریک انصاف کے کارکنوں کو شاہراہ قائدین پر پولیس نے روکنے کی کوشش کی اور مظاہرین پر شیلنگ بھی کی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا، پولیس نے مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جن میں سے کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ دوسری جانب مظاہرین کے پتھراؤ کے باعث ایس پی گلشن اقبال عبد الخالق اور ایس ایچ او خالد رفیق زخمی ہوگئے

پولیس نے شاہراہ قائدین سے شاہراہ قائدین سے 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے دوسری جانب خداداد کالونی کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کئی گئی اس کے علاوہ قائد آباد سے دھرنے میں شرکت کیلیے آنے والے پی ٹی آئی کے قافلے کو سی پیک داؤد خیل کے قریب روک دیا گیا اور رکاوٹ لگا کر راستے کو بند کردیا گیا۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی

اسلام آباد میں پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ سے چند کلومیٹر دور بنی گالہ میں نیازی چوک کو بند کر دیا ہے، جبکہ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں

اسلام آباد کے داخلی راستے پر واقع سنگجانی ٹول پلازہ، جی ٹی روڈ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے. یہاں لوگ کنٹینرز کے باعث سڑک کے بجائے آس پاس موجود دشوار گزار راستہ استعمال کر رہے ہیں

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع علاقے فیض آباد کے قریب پولیس نے پی ٹی آئی کی سابق رکن اسمبلی پر راجہ خرم نواز اور دیگر کی گاڑی پر آنسو گیس کے شیل پھینکے

اطلاعات ہیں کہ سابق ایم این اے راجہ خرم نواز، صداقت عباسی اور سدیر چوہدری شیلنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے

انھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ شیل لگنے سے ان کی گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے

دریں اثنا گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان آمنے سامنے کی اطلاع ملی جب پولیس نے خانکی ہیڈ ورکس کے قریب رکاوٹیں لگا کر انہیں روکنے کی کوشش کی، تاہم مارچ کرنے والوں نے رکاوٹوں کو عبور کیا اور آگے بڑھ گئے

چوہدری احمد چٹھہ کی قیادت میں قافلہ اب اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے

پی ٹی آئی کے گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری طارق گجر کے مطابق کارواں کے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے

فیصل آباد میں بھی کمال پور انٹر چینج پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آگئے

ایس پی مدینہ ٹاؤن ڈویژن اور ایس ایچ او چک جھمرہ رائے آفتاب بھی موقع پر موجود تھے، کارکنان نے ایف ڈی اے سٹی کی دیوار توڑ کر گاڑیاں نکال لیں، متعدد گاڑیاں گزر جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی، پولیس کی نفری اور ڈولفن پہنچ گئی

پولیس کی بھاری نفری موٹروے پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کےلئے جدوجہد کرنے لگی، کارکنان کی بڑی تعداد نے پولیس کو پیچھے ہٹا دیا اور رکاوٹیں ہٹا کر موٹروے پر گاڑیاں چڑھانے لگے

ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر علی اسجد ملہی کے ڈیرے پر پولیس نے چھاپہ مارا، پولیس کی بھاری نفری نے ڈیرے پر موجود کارکنوں کو دفعہ 144 کے تحت گرفتار کرنے کی کوشش کی

گرفتاری سے بچنے کے لیے کارکن پولیس کو دیکھ کر منتشر ہو گئے، علی اسجد ملہی کی قیادت میں این اے 75 کے تمام کارکنوں نے بڑے قافلے کی صورت میں اس ڈیرہ سے روانہ ہونا تھا

اطلاعات کے مطابق تا حال ڈسکہ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما اور کارکنان ٹولیوں کی شکل میں نکلنے میں کامیاب رہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close