قسمت بدلنے کے دعوے کرکے پام آئل کی بڑی کمپنیوں نے مقامی قبائلیوں کو لاکھوں ڈالر سے کیسے محروم کیا؟

نیوز ڈیسک

میٹ یادی ایک دریا کے ساتھ ساتھ چلے جا رہے ہیں اور ان کا نیزہ شکار کے لیے تیار ہے۔ لیکن آج، اکثر دنوں کی طرح انہیں کچھ بھی نہیں ملا

وہ کہتے ہیں ’پہلے بہت سارے جنگلی سور، ہرن، بارہ سنگھے اور ساہی شکار کو مل جاتے تھے، لیکن اب شاید ہی کوئی جانور یہاں بچے ہوں‘

میٹ یادی کا تعلق انڈونیشیا کے آخری خانہ بدوش قبائل میں سے ایک قبیلے، اورنگ رمبا، سے ہے۔ گذشتہ کئی نسلوں سے وہ سماٹرا کے جزیرے پر جنگل میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ لوگ درختوں سے ربڑ اتارنے کے ساتھ ساتھ شکار کرتے ہیں اور پھل بھی جمع کرتے ہیں

یہ بات ہے سنہ 1990ع کی دہائی کی جب ایک پام آئل کمپنی مقامی لوگوں کی غربت دور کرنے اور ترقی کے وعدوں کے ساتھ ان کے دور افتادہ علاقے ٹیبنگ ٹنگی پہنچی تھی

اورنگ رمبا قبیلے کے لوگوں کے مطابق کمپنی نے اُن کی آبائی زمین پر قبضہ کے بدلے میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے آدھے سے زیادہ حصے پر پام آئل کے درخت لگا کر انھیں یہ زمین لوٹا دے گی اور یہ ایک ایسی حیرت انگیز فصل ہو گی جس کی مانگ دنیا میں روز بروز بڑھ رہی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ یہ منصوبہ اورنگ رمبا قبیلے کی قسمت بدل دے گا

بعد کے پچیس برسوں کے دوران پام کے درخت بڑے ہو گئے اور اُن کے چمکدار نارنجی پھل سے کمپنی کے گودام اور ملز بھر گئیں۔ اس پھل کا اصلی مالک سالم گروپ تھا جو لاکھوں ڈالر مالیت کا خوردنی تیل کیڈبری چاکلیٹ، پاپ ٹارٹس اور کرنچی نٹ کلسٹرز جیسی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کو فروخت کرتا رہا ہے

لیکن میٹ یادی کو وہ سب کچھ نہیں ملا جس کا وعدہ کمپنی نے کیا تھا

میٹ یادی کا خاندان آج بھی پام کے باغات کے اندر ایک عارضی جھونپڑی میں رہتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمیں کچھ بھی واپس نہیں کیا گیا۔ وہ ہم سے سب کچھ لے گئے۔’

اورنگ رمبا قبیلے کے بہت سے دیگر لوگوں کی طرح ضعیف عمر سیتی مانینہ پھل چُن کر گزر بسر کرتی ہیں۔ پام کے پھل کی کٹائی کے وقت جو چھوٹے پھل زمین پر گر جاتے ہیں وہ انھیں جمع کرتی ہیں۔

اگر وہ آج پھل چننے کے معاملے میں خوش قسمت رہیں تو وہ اپنے خاندان کو ایک دن کا کھانا کھلانے کے لیے ایک آدھ سیر چاول اور کچھ سبزیاں خریدنے کے قابل ہو جائیں گی، لیکن وہ پھر بھی کہتی ہیں کہ اُن کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

انڈونیشیا کے رکن پارلیمان ڈینیئل جونز جو زراعت اور جنگلات کے شعبے کو دیکھتے ہیں اور جنھوں نے قبیلے کے لیے آواز اٹھائی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف ایک مثال ہے‘ اور ’ایسا ہر جگہ ہو رہا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’کارپوریشن والے لالچی ہیں۔‘

خیال رہے کہ پام آئل کے باغات کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع والے جنگلات کے وسیع و عریض خطوں کو صاف کر دیا گیا ہے۔ کبھی جنگلات سے پوری طرح ڈھکے ہوئے انڈونیشیا کے بورنیو اور سماٹرا کے جزیروں پر اب پام کے درختوں کی شجرکاری تا حد نظر پھیلی ہوئی نظر آتی ہے

اورنگ رمبا اور دیگر مقامی قبائل کو امید دلائی گئی تھی کہ نجی اور سرکاری کمپنیوں سے معاہدوں کے بعد ان پر معاشی ترقی کے دروازے کھل جائیں گے۔ مقامی لوگوں کی مدد اور سرکاری امداد حاصل کرنے کے لیے بہت سی کمپنیاں اکثر ’پلازما‘’ کے نام سے معروف پلاٹوں سے ہونے والی فصل کو گاؤں والوں کے ساتھ بانٹنے کا وعدہ کرتی تھیں۔ یوں سنہ 2007ع میں کمپنیوں کے لیے کسی بھی نئی شجرکاری کا پانچواں حصہ مقامی آبادیوں کو دینا قانونی ضرورت بن گیا

جن مقامات پر اس سکیم نے کام کیا وہاں اس نے دیہی برادریوں کو غربت سے نکالنے میں مدد کی اور انھیں 50 ارب ڈالر سالانہ کی اس صنعت میں حصہ بھی دیا، لیکن اکثر یہ شور سُنائی دیتا ہے کہ کمپنیاں پلازما سکیم کے تحت کیے جانے والے اپنے وعدوں سے منھ پھیر لیتی ہیں اور معاہدے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کرتیں

یہ مسئلہ کتنا بڑا ہے اور کہاں تک پھیلا ہوا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل رہا ہے۔ اسی لیے گذشتہ دو برسوں میں بی بی سی کی ایک ٹیم، جس میں تحقیقاتی صحافتی تنظیم جیکو پراجیکٹ اور ماحولیاتی نیوز سائٹ مونگابے شامل ہیں، نے مل کر کام کیا

حکومتی اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہمیں تحقیقات سے پتہ چلا کہ کمپنیوں نے صرف بورنیو کے وسطی کلیمنتان صوبے میں ایک لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ، یعنی امریکی شہر لاس اینجلس جتنا علاقہ، جو قانونی طور پر انھیں مقامی لوگوں کو دینا چاہیے تھا وہ انھوں نے نہیں دیا

پام آئل سے حاصل ہونے والا منافعے کا اگر بہت کم اور محتاط اندازہ بھی لگایا جائے تو ہر سال مقامی لوگوں کو تقریباً نو کروڑ ڈالر سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے یہ صوبہ انڈونیشیا میں کمپنیوں کے زیر انتظام چلنے والے پام کے باغات کا صرف پانچواں حصہ ہے

انڈونیشیا کی وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ پام آئل پیدا کرنے والے دوسرے بڑے صوبوں میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے اور ملک میں پلازما کے تحت مقامی لوگوں کو واجب ادا سالانہ رقوم کروڑوں ڈالر تک جا سکتی ہیں

اور یہ چیز صرف سرکاری اعداد و شمار میں دکھائی نہیں دیتی

ہماری ٹیم نے ان کمپنیوں کا ایک ڈیٹا بیس بنایا جن پر وعدوں سے مکرنے یا کمیونٹیز کو اپنے باغات میں حصہ نہ دینے کی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا گیا ہے

اس ڈیٹا بیس سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ چھ سال سے اوسطاً ہر ماہ پلازما کے متعلق شکایت پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لیکن ریاست مظاہروں کو دبانے میں اکثر تیزی دکھاتی ہے اور انھیں پرتشدد طریقوں سے روکا جاتا ہے

سنہ 2015ع میں سالم گروپ نے مقامی سیاست دانوں کی ثالثی میں اورنگ رمبا کو پلازما فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ایک نئے تحریری معاہدے پر دستخط کیے تھے

لیکن جنوری سنہ 2017ع تک بھی اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا تھا۔ اس وقت تک قبیلے کو انتظار کرتے کرتے دو عشرے گزر چکے تھے

قبیلے کے مایوس افراد نے کمپنی کے باغات پر قبضہ کر لیا لیکن کمپنی نے ان کی جھونپڑیوں کو اکھاڑ پھینکا۔ اس کے بعد گاؤں والوں نے باغات کے اندر ایک چوکی کو آگ لگا دی اور کمپنی کے دفتر کی کھڑکیاں بھی توڑ دیں۔۔

گاؤں والوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے چالیس سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور پولیس نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک شخص نے کہا: ’بغیر کسی پوچھ گچھ کے، ہمیں بری طرح مارا پیٹا گیا۔‘ سات افراد کو توڑ پھوڑ کا مرتکب ٹھہرایا گیا اور ہر کسی کو 18 ماہ قید کی سزا سُنائی گئی

ہم نے اس حوالے سے انڈونیشیا کی پولیس سے رجوع کیا لیکن انھوں نے ہماری درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی

دیگر قانون سازوں کے ساتھ احتجاج کے فوراً بعد ٹیبنگ ٹنگگی کا دورہ کرنے والے ڈینیئل جوہان کہتے ہیں: ’انھوں نے ہر طرح سے مزاحمت کی، یہاں تک کہ اپنی جانیں بھی قربان کر دیں، لیکن پھر بھی کوئی حل نہیں نکل سکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام ناکام ہو گیا ہے۔‘

احتجاج کے بعد پارلیمانی کمیشن کے ذریعے سالم گروپ کو اورنگ رمبا کی آبائی زمین واپس کرنے کے لیے کہا گیا لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود قبیلے والے ابھی تک اپنی زمینوں کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں

سالم گروپ اور اس کی ذیلی کمپنیاں جو باغات کو کنٹرول کرتی ہیں، ان سب نے ہمیں انٹرویو دینے سے انکار کر دیا

جب یہ قبائل وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی شکایت کرتے ہیں، تو حکومت زیادہ تر ثالثی پر انحصار کرتی ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف 14 فیصد مذاکرات کا نتیجہ کسی معاہدے کی شکل میں نکلا

انڈونیشیا کے پام آئل پیدا کرنے والے سب سے بڑے صوبے ریاؤ میں ایک پلانٹیشن آفس کے سربراہ شمس القمر کا کہنا ہے کہ وہ پلازما کے بارے میں ’تقریباً ہر ہفتے‘ ایک نئی شکایت درج کرتے ہیں لیکن ان کی نگرانی میں موجود 77 کمپنیوں میں سے صرف چند ہی ایسی ہیں جو ان پر عمل در آمد کرتی ہیں

پھر بھی اپنے بہت سے ہم منصبوں کی طرح وہ بھی انتباہ جاری کرنے سے زیادہ کچھ نہیں کر پاتے

لیکن ہم نے اپنی تحقیق میں ایسی تیرہ بڑی کمپنیوں کی نشاندہی کی جن میں کولگیٹ، پالمولیو اور ریکٹ شامل ہیں، جنھوں نے ایسے ٹھیکیداروں سے پام آئل حاصل کیا ہے جنھیں گذشتہ چھ برس میں مقامی کمیونٹیز سے ناجائز منافع کمانے کے الزامات کا سامنا رہا ہے

جانسن اینڈ جانسن اور کیلوگز دونوں پام آئل سالم گروپ سے خریدتے ہیں، جو اورنگ رمبا کی زمینوں پر باغات کا مالک ہے

ہماری تحقیقات کے جواب میں ان کمپنیوں کا اصرار تھا کہ وہ اپنے سپلائرز سے قانون پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بہت سی کمپنیوں کے سپلائی چین میں ایسے لوگوں سے رابطے ہیں جنھیں ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے پلازما کے کارو بار سے الگ کیا جا چکا ہے۔ ان میں کئی سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں

مثلاً جانسن اینڈ جانسن، کیلوگز اور مونڈیلیز نے بورنیو کے ایک باغ سے پام آئل حاصل کیا ہے جسے فروری میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا

جانسن اینڈ جانسن نے کہا کہ وہ ’ان الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ اور انھوں نے شکایت کے ازالے کا عمل شروع کر دیا ہے

جبکہ کیلوگز نے کہا کہ وہ الزامات کی تحقیقات کرے گی اور ’اگلے اقدامات کا تعین کرنے کے لیے اپنے سپلائرز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرے گی۔‘ کیڈبری کی مالک کمپنی مونڈیلیز کا کہنا ہے کہ اس نے ماہرین سے رابطہ کیا ہے تاکہ ’مسئلے کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور دیکھا جائے کہ کمپنی مستقبل میں اس سے کیسے نمٹ سکتی ہے۔‘

ہمارے سوالوں کے جواب میں ریکٹس نے لکھا کہ تحقیقی رپورٹ میں جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ ’بہت حد تک نظام کے مسائل کی جانب اشارہ کرتی ہیں‘ جن کو حل کرنے کے لیے ’مختلف سرکاری اور نجی سٹیک ہولڈرز کے ذریعے مزید تحقیقات اور مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔‘

جبکہ کولگیٹ پالمولیو نے کہا کہ کمپنی یہ معلوم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرے گی کہ آیا واقعی اس کے سپلائرز پلازما فراہم کر رہے ہیں یا نہیں

بورنیو میں پام آئل کے باغات کے پیچھے گولڈن ایگری ریسورسز گروپ کارفرما ہے، جو انڈونیشیا کا پام آئل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس کے تحت کام کرنے والوں کے باغات پانچ لاکھ ہیکٹر اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں

کمپنی یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس نے پلازما فراہم کرنے کی اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا ہے، لیکن کمپنی نے کہا کہ وہ ایسا کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس پر ابھی ’کام جاری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ بورنیو میں اپنے ذیلی اداروں میں اگلے سال پلازما لگانے کی امید کر رہے ہیں جسے ایک مقامی سیاست دان نے بند کر دیا تھا

گولڈن ایگری ریسورسز اور دیگر کمپنیاں جن کو ہم نے لکھا تھا ان کا کہنا ہے کہ پلازما سکیموں کے لیے زمین تک رسائی حاصل کرنا ان کے لیے ایک چیلنج ہے

لیکن بورنیو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان جیا کا کہنا تھا کہ انھوں نے کمپنیوں کے گروپ کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کمپنی اپنی اراضی شیئر کرے

انھوں نے کہا کہ ’میں مزید کوئی بہانہ نہیں سُننا چاہتا۔ کیونکہ یہ آسان ہے: پلازما کو پام آئل کے دوسرے باغات کے ساتھ مل کر بنایا جانا چاہیے۔ وہاں مین پلانٹیشن تو ہے لیکن پلازما پلانٹیشن کیوں نہیں ہے؟‘

حکومت کی جانب سے خوردنی تیل کی عالمی برآمدات پر پابندی ہٹانے کے بعد انڈونیشیا سے پام آئل کی عالمی ترسیل پیر کو دوبارہ شروع ہو گئی ہے

یاد رہے کہ حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مقامی سپلائی کو محفوظ بنانے کی کوشش میں گذشتہ ماہ کے آخر میں پام آئل کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی

عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کی وجہ سے ملک میں پام آئل کی پیداوار میں تیزی لانے والی کمپنیوں نے رواں سال اپنے منافع میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا ہے

انڈونیشیا میں انتہائی امیر افراد کی فہرست میں پام آئل کے ارب پتیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔وڈجاجا خاندان، جو گولڈن ایگری ریسورسز کو کنٹرول کرتا ہے، انڈونیشیا کے لیے فوربز میگزن کی جانب سے جاری کردہ امیروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ سالم گروپ کے سی ای او انتھونی سایم تیسرے نمبر پر ہیں

لیکن اورنگ رمبا والے اپنی قسمت بدلنے کا انتظار ہی کر رہے ہیں

پام کے درختوں تلے بیٹھی بوڑھی یلن ایک لوک گیت گاتی ہیں۔ وہ گیت کا مطلب بتاتی ہیں کہ ’اگر ہمارے پوتے پوتیاں صحت مند ہیں تو ہمارا دل بھرا ہوا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آبائی زمینیں ہمیں واپس کر دی جائیں تاکہ ہمارے پوتے پوتیاں صحیح معنوں میں دوبارہ جینے لگیں۔ ہم بس اتنا چاہتے ہیں۔‘

حوالہ:بی بی سی اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close