کیا ڈپریشن کے بارے میں اب تک کیے جانے والے دعوے بے بنیاد تھے؟

ویب ڈیسک

سنگت میگ میں گزشتہ روز طبی تاریخ کے ایک بڑے انکشاف پر مبنی ایک تازہ تحقیق کے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس نے ڈپریشن کے بارے میں پرانا نظریہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے

نئی تحقیق کے نتائج میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈپریشن انسان میں ’ہیپی ہارمون‘ یعنی سیروٹونن کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا، جیسا کہ اب تک سمجھا جاتا رہا تھا

اس طرح اس تحقیق نے ان تمام دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جن سے جوڑ کر ڈیپریشن کو دیکھا اور سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں جو ایک بڑا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ کیا ڈپریشن کے علاج کے طور پر سیروٹونن بڑھانے کی دوا مریضوں کو دینی چاہیے؟

ذہن میں رہے کہ نئی تحقیق میں ایسا بالکل نہیں کہا گیا ہے کہ یہ ادویات ڈیپریشن سے مقابلہ کرنے میں مدد نہیں کرتیں

یہی وجہ ہے کہ یو سی ایک جینیٹک انسٹیٹیوٹ برطانیہ سے وابستہ اعزازی پروفیسر ڈیوڈ کُٹریس نے اس مطالعے کے نتائج پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے ”شدید ڈپریشن میں مبتلا افراد کی ادویات کے استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہیے“

انہوں نے کہا ”یہ بہت واضح ہے کہ ڈپریشن کی بیماری دماغ کی فعالیت میں کسی نہ کسی خلل کا نتیجہ ہے، ہم فی الحال اس کے اصل محرکات سے واقف نہیں ہیں، مگر اینٹی ڈپریسنٹ شدید ڈپریشن میں مبتلا افراد کے لیے مناسب علاج ہیں‘‘

تاہم جو سب سے بڑا سوال سامنے آیا ہے وہ یہ کہ ہم ذہنی امراض اور ڈیپریشن کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں، انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس سے لڑنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟

برطانیہ میں رہنے والی سارا ذہنی امراض سے متاثر ہیں۔ جب انہیں پہلی بار دورہ پڑا تو ان کی عمر قریب بیس سال تھی

ڈاکٹروں نے ان کو بتایا کہ ان کے علاج کے لیے جو ادویات دی جا رہی تھیں، وہ اسی طرح ضروری تھیں، جیسے شوگر کی بیماری میں انسولین ضروری ہے

سارا کو بتایا گیا کہ یہ ادویات ان کے دماغ میں کیمیائی عدم توازن کو سدھاریں گی اور انہیں یہ ادویات زندگی بھر استعمال کرنا ہوں گی

سارا کی والدہ بھی ٹائپ ون شوگر کا شکار ہیں، اس لیے انہوں نے ڈاکٹروں کی بات کو بہت سنجیدگی سے لیا

لہٰذا سارا یہ ادویات استعمال کرتی رہیں۔ حالانکہ ان کا کہنا ہے ”ان ادویات کا مجھ پر منفی اثر ہوا اور مجھے طرح طرح کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ مجھے ایسی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں، جو مجھ سے خود کی جان لینے کو کہتی تھیں“

سارا کو دیے گئے اس مشورے کی کوئی طبی بنیاد نہیں تھی کہ ان کی ادویات شوگر کے علاج کی طرح ان کے مرض کے خلاف کام کریں گی

سارا کہتی ہیں ”ایسے میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ ان ہی لوگوں نے آپ کو دھوکا دیا، جن پر آپ نے یقین کیا“

سارا کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے، جس کے بعد انہیں بولنے اور چلنے میں مسائل پیش آنے لگے۔ انہیں بہت زیادہ طاقتور ادویات دی گئی تھیں۔ وہ واحد مریض نہیں جن کے ساتھ ایسا ہوا

نئی تحقیق کے حوالے سے متعدد ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انہیں پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ ڈپریشن سیروٹونن کی کم سطح کے باعث نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس تحقیق میں کہی جانے والی باتیں کوئی نئی نہیں ہیں

حالانکہ اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد جس قسم کا رد عمل سامنے آیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے، جنہیں اس بارے میں علم نہیں تھا

متعدد لوگوں کا خیال ہے کہ اینٹی ڈپریسینٹ ادویات ذہن میں کیمیکلز کے عدم توازن کو ٹھیک نہیں کرتیں۔ اور متعدد کا خیال یہ بھی ہے کہ ان ادویات کا ڈیپریشن سے مقابلہ کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا

ایسی صورتحال میں طبی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ادھوری معلومات کی بنیاد پر بہت سے مریض ادویات کا استعمال چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے ’وِدڈرال‘ یعنی دستبرداری یا دوا چھوڑنے کے اثرات کا سامنا ہوگا۔ یعنی اچانک ادویات چھوڑنے سے انہیں مختلف قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

برطانیہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ کیئر کا کہنا ہے کہ ان ادویات کا استعمال اچانک نہیں روکنا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق آہستہ آہستہ ان کی خوراک کو کم کیا جائے

نئی تحقیق میں کیا پتا چلا؟

اس تحقیق میں سترہ مختلف مطالعات کو شامل کیا گیا اور معلوم ہوا کہ صحتمند اور ڈپریشن سے متاثرہ افراد کے دماغ میں سیروٹونن ہارمون کی سطح الگ الگ نہیں تھی

تحقیق میں جس ایک اہم دعوے کو غلط قرار دیا گیا، وہ یہ کہ ادویات دماغ میں سیروٹونن کی کمی کو پورا کر کے ڈپریشن کا مقابلہ کرنے میں مد کرتی ہیں

لندن کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر مائیکل بلوم فیلڈ کہتے ہیں ”ہم لوگ جانتے ہیں کہ سر درد سے لڑنے کے لیے پیراسیٹامول کھائی جاتی ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ دماغ میں پیراسیٹامول کی کمی کی وجہ سے سر درد ہوتا ہے؟“

ایسے میں نئی تحقیق کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اینٹی ڈپریسینٹ ادویات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟

محققین کا دعویٰ ہے کہ ڈپریشن کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات اسی طرح کام کرتی ہیں، جیسے میٹھی گولیاں۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ یہ میٹھی گولی آپ کی دوائی ہے تو آپ ذہنی طور پر خود بخود بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں

لیکن محقیق کے درمیان یہ موضوع بھی زیر بحث ہے کہ ایسا کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟

تاہم یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بہت سے لوگ اینٹی ڈپریسینٹ ادویات کھانے کے بعد بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن نسخہ لکھتے وقت ڈاکٹروں کو نہیں پتا ہوتا کہ کن مریضوں کو اس سے فائدہ ہوگا

برطانیہ کے رائل کالج آف سائیکیٹرسٹس کی پروفیسر لنڈا گاسک کا کہنا ہے ”اینٹی ڈپریسینٹ ایسے بہت سے لوگوں کے معاملے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، خاص طور پر بہت مشکل اوقات میں۔۔“

لیکن سیروٹونن اور ڈپریشن کے تعلق کے بارے میں اس نئے ریسرچ پیپر کو لکھنے والے سائنسدانوں میں سے ایک پروفیسر مونکریف کا کہنا ہے ”ادویات بنانے والی کمپنیاں جو تحقیق کرتی ہیں، وہ بہت کم عرصے پر مبنی ہوتی ہے۔ اور ڈپریشن کے مریض علاج کے چند ہی ماہ کے اندر کیسا محسوس کرنے لگتے ہیں، اس بارے میں ابھی زیادہ معلومات نہیں“

پروفیسر گاسک کہتے ہیں ”آپ کو مریضوں کو بتانا ہوگا کہ آپ ان کی ادویات کی ضرورت پر بار بار غور کرتے رہیں گے اور اُس سے زیادہ عرصے تک ادویات کھانے کا مشورہ نہیں دیں گے، جتنی ضرورت ہوگی“

ان کا خیال ہے کہ عام طور پر ڈاکٹر ایسا نہیں کرتے

سیروٹونن سے متعلق تحقیق کرنے والے سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ بات واضح ہونے کی ضرورت ہے کہ جہاں ایک طرف اس بات کا خطرہ ہے کہ ڈپریشن علاج کے بغیر اور بگڑتا نہ چلا جائے، وہیں دوسری جانب یہ خدشہ بھی ہے کہ اینٹی ڈپریسینٹس کے استعمال سے کچھ لوگوں کو شدید منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس کے مطابق منفی اثرات کے طور پر متاثرین کو خودکشی کرنے کے خیالات آ سکتے ہیں، وہ خود اپنی جان بھی لے سکتے ہیں، جنسی تعلقات قائم کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے، جذباتی طور پر وہ سُن محسوس کر سکتے ہیں یا انہیں نیند نہ آنے کا مسئلہ بھی پیش آ سکتا ہے

گزشتہ موسم خزاں سے برطانیہ میں طبی ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈپریشن کے کم سنجیدہ متاثرین کو ادویات دینے سے پہلے تھیریپی، ورزش اور مراقبہ کرنے کا مشورے دیں

نئی تحقیق کے بارے میں گمراہ کن رد عمل

اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد گمراہ کن رد عمل بھی سامنے آئے، جنہوں نے ڈپریشن کے علاج کے اب تک کے طریقہ کار کے بارے میں بے یقینی کو فروغ دیا

مثال کے طور پر یہ رد عمل کہ ”ڈپریشن کے خلاف ادویات کا استعمال افسانوی دعووں پر مبنی ہے“

حالانکہ تحقیق میں ایٹی ڈپریسینٹ ادویات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا

واضح رہے کہ سیروٹونن ہارمون موڈ کو بہتر بنانے کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ بھلے کسی شخص میں اس کی کمی نہ ہو لیکن اس کی خوراک دیے جانے سے انسان میں خوشی کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بھلے تھوڑی ہی دیر کے لیے صحیح

اور خوشی کی حالت یا پھر کم مایوس ذہنی کیفیت میں انسان حالات، ماحول اور لوگوں کے ساتھ نئے تعلقات قائم کر سکتا ہے

متعدد لوگوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس تحقیق کے مطابق ڈپریشن کبھی ذہنی مسئلہ تھا ہی نہیں، بلکہ اس کا تعلق انسان کے ماحول سے ہے

ریسرچ پیپر کے مصنف ڈاکٹر مارک ہورووتس کا کہنا ہے ”بے شک ذہنی اور ماحولیاتی دونوں ہی عناصر ذمہ دار ہیں“

انہوں نے مثال دی کہ ”یہ آپ کے جینیاتی نطام پر مبنی ہے کہ آپ دباؤ یا اسٹریس کے لیے کتنے حساس ہیں“

ڈاکٹر مارک کا یہ بھی خیال ہے کہ مشکل وقت میں واضح ہونے والے ذہنی مسائل یا پریشانیوں میں ’کونسلنگ، معاشی مسائل سے نمٹنے کے مشورے اور نوکری بدلنے جیسے اقدامات‘ بھی کارگر ثابت ہو سکتے ہیں

آسٹریلیا کی رہائشی زوئی کو ڈیپریشن اور دیگر ذہنی مسائل کا سامنا رہ چکا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ڈپریشن کو دکھ بتا کر یہ جتانا کہ سماجی مسائل کو دور کر کے ڈپریشن کو دور کیا جا سکتا ہے، ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا کر کے آپ ذہنی صحت جیسے مسئلے کو معمولی بتا کر نظر انداز کر رہے ہیں

ان کے خاندان میں متعدد لوگ ذہنی مسائل سے متاثر ہیں۔ زوئی کو امتحان یا کسی اور شدید ذہنی دباؤ کی صورت میں دورہ پڑ جاتا ہے

زوئی کا خیال ہے کہ اگر حساب کر کے معقول مقدار میں ہی ضرورت کے مطابق ادویات کا استعمال کیا جائے تو شدید دوروں سے بچا جا سکتا ہے

تاہم طبی ماہرین کی ایک بڑی اکثریت ماہرین ایک بات پر متفق ہے کہ مریضوں کو اس بارے میں مزید معلومات ہونی چاہیے اور انہیں اس بارے میں تفصیل سے بتایا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے حالات کے مطابق خود اپنے حق میں صحیح فیصلہ کر سکیں

یہ خبر بھی پڑھیں:


ڈپریشن کا علاج: نئی تحقیق نے پرانا نظریہ ہی بدل کر رکھ دیا!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close