سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو، جنہیں مرنے کے بعد ’مچھلی والا بابا‘ بنا دیا گیا!

ویب ڈیسک

سندھ کے کلہوڑا دور کے مشہور حکمران غلام شاہ کلہوڑو کی مزار پر ہر جمعرات کی دوپہر سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور مزار کا احاطہ مچھلی کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے

مزار کے احاطے میں مچھلی سالن اور فرائی دونوں صورتوں میں بنائی جاتی ہے، یہاں آنے والوں میں واضح اکثریت خواتین کی ہوتی ہے

یہ مناظر صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں واقع غلام شاہ کلہوڑو کے مزار کے ہیں، جن کی شناخت اب ’مچھلی والے بابا‘ کے طور پر مشہور ہے

غلام شاہ کلہوڑو، سندھ کے حکمراں میاں نور محمد کلہوڑو کے چھوٹے بیٹے تھے۔ سندھ میں جن دنوں کلہوڑو خاندان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کا سورج طلوع ہو رہا تھا، ان دنوں مغلیہ سلطنت کا سورج غروب ہو رہا تھا

مغل دور میں کلہوڑو حکمران عتاب کا اس حد تک شکار رہے کہ اس خاندان کی پہلی نامور شخصیت آدم کلہوڑو کو پھانسی دی گئی اور اس کے بعد آنے والے وقتوں میں اُن کے بیٹوں کو بھی موت کی سزائیں سُنائی گئیں

سندھی ادب اور تاریخ کے استاد سارنگ جویو بتاتے ہیں کہ کلہوڑو حکمرانوں کا پہلا دور حب الوطنی کا دور تھا جس میں آدم شاہ کلہوڑو سے لے کر میاں دین محمد کے واقعات آتے ہیں، جنہوں نے مغل بادشاہوں کے خلاف جنگیں لڑیں

اسی خاندان میں آگے چل کر آنے والے میاں یار محمد نے اپنے بھائیوں اور بزرگوں کی ہلاکتوں کے بعد مفاہمتی پالیسی اختیار کی جس کے تحت نصف سندھ مغلوں کے حوالے کر دیا۔ اسی دور میں غلام شاہ کلہوڑو کے والد میاں نور محمد گدی نشین ہوئے

حکومت سندھ کی جانب سے تاریخ اور شخصیات پر بنائے گئے ’سندھیانہ انسائیکلوپیڈیا‘ کے مطابق کچھ عرصے بعد سندھ مغلیہ تسلط سے نکل کر ایرانی نرغے میں آیا، جہاں نادر شاہ کی حکومت تھی

نادر شاہ سندھ پر بھی حملہ آور ہوئے اور انہوں نے سندھ کے کلہوڑو خاندان سے بعض علاقوں کے علاوہ ایک کروڑ روپے خراج طلب کیا اور ضمانت کے طور پر اس وقت کے گدی نشین میاں نور محمد کے بیٹوں، غلام شاہ کلہوڑو اور ان کے بھائی مرادیاب، کو ساتھ لے گئے۔ یہ دونوں بھائی اُس وقت تک قید میں رہے، جب تک نادر شاہ کی موت نہیں ہوئی

نادر شاہ کے بعد سندھ احمد شاہ ابدالی کے زیرِ اثر آیا اور میاں نور محمد اب انہیں خراج ادا کرنے لگے ۔ میاں نور محمد کی وفات کے بعد ابتدا میں اُن کے بڑے بیٹے مرادیاب (غلام شاہ کلہوڑو) کو مسند پر بٹھایا گیا لیکن امور سلطنت میں کارگر نہ ہونے کی وجہ سے انھیں ہٹا کر غلام شاہ کو حکمران بنا دیا گیا

سندھیانہ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بار بار افغان مداخلت کی وجہ سے سندھ میں پائیدار حکومت نہیں بن پا رہی تھی۔ اس وجہ سے غلام شاہ نے حکمرانی کے چار دور دیکھے، اس عرصے میں ان کو بارہا حکمرانی سے معزول ہونا پڑا۔ بھائیوں کے ساتھ جنگوں کے علاوہ انییں مقامی خانہ جنگی کا بھی سامنا کرنا پڑا

’ان کو سندھ پر افغان تسلط پسند نہیں تھا۔ ایک بار انھوں نے دربار میں موجود امرا اور سپہ سالار کو کہا کہ تیار رہیں ہم کسی وقت بھی قندھار کو فتح کرنے کا ارادہ کر سکتے ہیں۔ وہ مکمل آزادی اور افغانستان سے نجات چاہتے تھے اور اس کی گواہی ایسٹ انڈیا کمپنی کی رپورٹس سے بھی ملتی ہے۔‘

کلہوڑو دور حکومت میں سندھ کی تخت گاہیں خدا آباد، محمد آباد اور مراد آباد میں رہیں۔ غلام کلہوڑو نے ابتدا میں الٰہ آباد اور اس کے بعد شاہ پور کے نام سے شہر تعمیر کرائے، لیکن یہ سیلابی پانی کا مقابلہ نہیں کر سکے جس کے بعد انھوں نے حیدرآباد میں ’گنجو ٹکر‘ نامی پہاڑی سلسلے پر شہر بنوایا

حیدرآباد کی تاریخ پر کتاب کے مصنف عشرت خان بتاتے ہیں کہ ان دنوں میں دریائے سندھ پر بند نہیں باندھے گئے تھے اور نہ ہی ڈیمز وغیرہ تھے۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ ہر سال جولائی اور اگست میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے دریائے سندھ بپھر جاتا اور سیلابی پانی شہروں کو ڈبو دیتا تھا

لہٰذا غلام شاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسا کوئی شہر بنائیں جو آئندہ پانی میں نہ ڈوبے، اس میں ان کی آنے والی نسلیں رہیں اور انہیں یاد بھی رکھا جائے

عشرت کے مطابق ’گنجو ٹکر پہاڑی دو حصوں میں تقیسم تھی۔ پانی سے ستاون فٹ بلند جگہ کو دیکھ کر انہوں نے سوچا کہ سیلابی پانی اتنا اوپر نہیں آ سکتا لہٰذا یہاں قلعہ تعمیرکروایا گیا، جو اڑتیس ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس کا قطر ایک میل کے اندر ہے۔ ایک وقت تھا جب آبادی اسی قلعے کے اندر تک محدود تھی۔‘

غلام شاہ کلہوڑو کے دور میں حیدرآباد کے پکے قلعے کے ساتھ کچا قلعہ بھی تعمیر کیا گیا، اس کے علاوہ ٹھٹہ میں ’شاہ بندر‘ نامی بندرگاہ تعمیر ہوئی۔ انہوں نے سندھی زبان کے بڑے شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار سمیت اپنے بزرگوں کے بھی مقبرے تعمیر کروائے اور تعمیرات میں ان کی اسی دلچسپی کے باعث انہیں ’سندھ کا شاہجہاں‘ کہا جاتا ہے

سارنگ جویو کے بقول: غلام شاہ پہلے کلہوڑو حکمران تھے، جنہوں نے سندھ کو جغرافیائی کے ساتھ سیاسی اور اقصادی طور پر آزاد کروایا

مصنف دادا سندھی لکھتے ہیں: میاں غلام شاہ نے پران ندی پر بند تعمیر کروایا، جس کی وجہ سے تھر کے علاقے میں زراعت بہتر ہوئی اور سالانہ آمدن اَسّی لاکھ تک پہنچ گئی، وہ امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ’گلدستہ نور بہار‘ کے منصف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’راستوں پر امن اور رعیت کی بہبود اعلیٰ درجے پر تھی۔ مسافر اور مقامی لوگ اپنے کاروبار میں مصروف رہتے اور مسافر بے خوف دن رات سفر کر سکتے تھے۔‘

’تحفۃ الکرام‘ کے مصنف میر علی شیر قانع لکھتے ہیں کہ غلام شاہ کی وفات سے ایک مدبر، دور اندیش اور باہمت حکمران کا دور اختتام پذیر ہوا۔ انھوں نے سفارتکاری، سیاست اور فوجی طاقت میں کئی کامیابیاں حاصل کیں

کلہوڑو خاندان پیری فقیری سے حکمرانی کے منصب تک پہنچے۔ اس خاندان کی پہلی بزرگ شخصیت میاں آدم شاہ ’مہدوی تحریک‘ سے وابستہ تھے۔ تحفۃ الکرام کے مصنف میر علی شیر قانع لکھتے ہیں کہ میاں آدم شاہ ’سہروردی‘ طریقے سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے بعد میں میراں محمد جونپوری سے تعلق جوڑا

سندھ کے ایک اور تاریخ نویس مولائی شیدائی لکھتے ہیں کہ انھوں نے لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری میں ’دائرہ‘ (صوفی اصطلاح) قائم کیا تھا

ڈاکٹر غلام محمد لاکھو تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ میاں آدم شاہ کا مغلوں کے نوابوں اور مقامی زمین داروں کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کی اصل وجہ دراصل مہدی جونپوری سے ان کی نبست تھی

یاد رہے کہ مہدوی تحریک کی بنیاد پندرہویں صدی عیسوی میں سید محمد جونپوری نے رکھی تھی، جن کا تعلق بھارت سے تھا اور ان کی وفات موجودہ افغانستان میں ہوئی، بلوچستان کے ذکری کمیونٹی ان کی ہی پیروکار ہے

حیدرآباد کی تاریخ کے مصنف عشرت خان بتاتے ہیں کہ کلہوڑو ’صوفی ازم‘ کے پیروکار تھے اور ان کے دور میں صوفی ازم نے فروغ پایا

وہ کہتے ہیں ’صوفی نفیس نستالیق لوگ ہوتے تھے، ملنے ملانے والے ہوتے تھے، وہ لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیتے ہیں۔ غلام شاہ کلہوڑو نے بھی لوگوں کو اپنا گرویدہ کیا ہوگا تو یہ بات پھیلی کہ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ بادشاہی میں بھی ان میں فقیری ہے، ورنہ انھوں نے خود کو کبھی پیر نہیں بنایا تھا۔‘

غلام شاہ کلہوڑو نے سندھ میں شرعی نظام کا نفاذ بھی کیا تھا۔ مخدوم محمد شاہ ٹھٹوی کے مصنف ڈاکٹر عبدالرسول قادری لکھتے ہیں کہ 1759 میں مخدوم ہاشم ٹھٹوی نے شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا اور غلام شاہ نے پروانہ بھی جاری کیا، جس میں شرعی، علمی اور عملی دستور شامل تھا

مچھلی والے بابا

حیدرآباد قلعے کی تعمیر کے چند سالوں کے بعد غلام شاہ کلہوڑو پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ انتقال کر گئے۔ حیدرآباد سینٹرل جیل کے قریب ان کا مقبرہ واقع ہے۔ وہ کلہوڑو حکمرانوں میں پہلے حاکم تھے، جن کے مقبرے پر سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا

عشرت علی خان بتاتے ہیں کہ غلام شاہ کی وصیت کے مطابق ان کے بیٹے سرفراز شاہ نے ان کی تدفین حیدرآباد میں کی۔ ان کا مقبرہ اسی گنجو ٹکر پہاڑی کے جنوبی سرے پر تعمیر کیا گیا، جہاں چاروں طرف کچی دیوار سے کوٹ بنایا گیا

اب غلام شاہ کلہوڑو کی مزار پر ہر جمعرات کی دوپہر سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جن میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے۔ وہاں موجود خواتین سے جب پوچھا گیا کہ یہ (غلام شاہ) کون تھے اور ان کا حیدرآباد سے کیا تعلق تھا؟ تو اکثریت کو تاریخ کا پتہ نہیں تھا

وہاں موجود ایک عقیدت مند صائمہ سلیم نے بتایا ”یہ برسوں سے ’مچھلی والے بابا‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہاں لوگ اینٹوں کا رسمی گھر بناتے ہیں اور یہ کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی اپنا ذاتی گھر بنا لیں“

وہاں موجود کراچی سے تعلق رکھنے والی شمع نامی کا کہنا تھا کہ ان بزرگ کا نام غلام شاہ کلہوڑو ہے اور انہوں نے حیدرآباد کا قلعہ فتح کیا تھا

اپنی خالہ کے ساتھ یہاں آئی ہوئی رابعہ کا کہنا تھا کہ جب لوگوں کی منت پوری ہوتی ہے تو یہاں مچھلی پکا کر لاتے ہیں، خود بھی کھاتے ہیں اور لوگوں میں بھی تقیسم کرتے ہیں

رابعہ کے مطابق انہوں نے سُن رکھا ہے کہ ان بابا کو مچھلی پسند تھی اس لیے لوگوں یہاں پر مچھلی بنا کر لاتے ہیں

سندھ کی تاریخ میں تو غلام شاہ کلہوڑو حاکم اور ’سندھ کے شاہجہاں‘ کے طور پر زندہ ہیں لیکن ان کی شناخت اپنے شہر میں اب بانی کے بجائے ایک پیر کی بن چکی ہے، جنہیں مچھلی کا سالن پسند تھا!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close