ملیر کا کامریڈ محمد علی بلوچ

محمد بلوچ

ملیر کراچی کی سرسبزی و شادابی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اسی لئے یہ کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا آیا ہے. یہ خطہ مردم خیز بھی رہا ہے، جہاں ایسی نامور شخصیات کا جنم بھی ہوا، جنہوں نے تعلیم، زراعت ،کھیل کود اور سیاست کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی. انہی میں سے ایک نام محمد علی بلوچ کا بھی ہے. محمد علی بلوچ تمام عمر ایک سیاسی کارکن کے طور پر متحرک رہے. یہاں ہم  ان کی زندگی کا ایک مختصر خاکہ پیش کر رہے ہیں.

تعلیم و تربیت:
محمد علی ایک نہایت غریب بلوچ گھرانے میں پیدا ہوئے. ان کے والد دو ڈھائی سال کی عمر میں یتیم ہوگئے تھے، کسی وبائی مرض کے باعث ان کے دادا دادی کا ایک ہی روز انتقال ہوا تھا. ان کے والد، جو بچپن میں ہی یتیم ہو چکے تھے، وہ  آج سے ایک سو سال پہلے کیسے پلے بڑھے، یہ ایک الگ کہانی ہے.

اسکول ریکارڈ کے مطابق محمدعلی کی پیدائش کا سال 1942 ہے. اور جائے پیدائش حاجی شنبے گوٹھ شرافی ہے. ان کے والد، ڈیزل انجن کے میکینک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کسان بھی تھے. ان کے والد صاحب جلد ہی حاجی شنبے گوٹھ چھوڑ کر پہلے اپنے چچا حاجی امید علی کے باغ میں آکر رہے، پھر حاجی میاں داد گوٹھ میں مستقل رہائش اختیار کی.

محمد علی نے ابتدائی پرائمری تعلیم اولڈ تھانہ کے پرائمری اسکول میں محترم سائیں محمد سلیمان سے حاصل کی. پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے کزنز محمد خلیل اور حاجی عبدالرحیم کے ساتھ آسو ولیج کے لوئر سیکنڈری اسکول میں داخل ہوئے، لیکن پھر جلد ہی جام مراد علی سیکنڈری اسکول میں محترم سائیں جان محمد بلوچ کی سرپرستی میں پڑھنے لگے. انہوں نے فائنل اسی اسکول سے پاس کیا. پھر غربت کی وجہ سے اور بڑے بیٹے ہونے کے ناتے محنت مزدوری کرکے اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے. ان کے والد رزق کی تلاش میں کبھی کہیں تو کھبی کہیں بٹھکتے رہے. انہوں نے زیادہ تر ضلع ٹھٹہ کے مختلف علائقوں میں بحثیت میکینک و کسان کام کیا.

تعلیم کے شوق و لگن کی وجہ سے انہوں نے 1975 میں میٹرک (پرائیوٹ) کا امتحان پاس کیا. اور پھر اسی طرح انٹر، بی اے اور ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی.

ملازمت و سیاست:
جب آپ ٹھٹہ کے مختلف علاقوں میں اپنے والد کے ساتھ محنت مزدوری کرنے کے بعد تھک ہار کر دوبارہ ملیر پہنچے، تو صالح محمد گوٹھ کو اپنا مسکن بنالیا. یہاں پہنچ کر وہ سرکاری نوکری کی تلاش میں نکلے. رشتے میں اپنے ماموں حاجی نبی بخش بلوچ کی مدد سے وہ ضلع کونسل کراچی اولڈ تھانہ ڈسپنسری میں بحثیت MCD ( منشی کم ڈریسر)  کی نوکری پر 1964 میں فائز ہوئے. واضح رہے کہ اس وقت فائنل پاس (ہفتم پاس) سرکاری نوکری کے لئے اہل ہوتے تھے.
اسی دوران وہ سندھی ادب کی طرف راغب ہوئے. سندھی موسیقی کے وہ پہلے ہی زیر اثر آچکے تھے. سندھی ادب میں وہ امر جلیل، موہن کلپلنا، پوپٹی ہیرا نندانی اور بہت سارے لکھاریوں سے متاثر ہوئے. سندھی موسیقی میں ماسٹر محمد ابراھیم، جیونی بائی، ماسٹر چندر اور استاد جمن جب کہ اردو میں کندن لال سہگل، سی ایچ آتما، پنکج ملک وغیرہ ان کے پسندیدہ فنکاروں میں شامل تھے. اردو ادب میں خلیل جبران کے تراجم اور کرشن چندر کے کتابوں کے زیر اثر رہے. شاہ عبداللطیف بھٹائی ان کے پسندیدہ شاعر تھے. شاہ صاحب کو پڑھنے اور سمجھنے کے لئے  وہ اپنے استاد محمد سلیمان سے رہنمائی لیتے رہتے تھے.

1970 سے چند سال پہلے، جب بھٹو صاحب نے میدان سیاست میں اتر کر پی پی پی کی بنیاد رکھی اور اپنے انقلابی منشور، انقلابی نعرے، مائو طرز کی ٹوپی اور جذبات سے گرجتی تقاریر سے لوگوں کو متاثر کیا، تو محمدعلی بھی اس سیاسی سحر میں گرفتار ہوئے. وہ اس نئی نویلی پارٹی میں اپنے بہت سارے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر سرگرم ہوئے. انہوں نے بھٹو صاحب کے جلسوں اور جلوسوِں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا. بھٹو صاحب کے علاوہ وہ معراج محمد خان اور ٹی وی کمپیئر طارق عزیز کے انداز خطابت کے شیدائی تھے.

دسمبر 1970 میں جب انتخابات کا اعلان ہوا، تو وہ پی پی کی انتخابی سرگرمیوں میں جٹ گئے. اچانک ان کے خالہ زاد بھائی، ملیر کی مشہور و معروف شخصیت حاجی داد رحیم کلمتی بلوچ نے ملیر کی صوبائی نشت پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا. اس اعلان سے مضبوط  معاشرتی روایات کے ماحول میں محمد علی اور باقی برادری کے وہ نوجوان سکتے میں آگئے، جو پی پی میں سر گرم تھے. محمد علی پر ان کے  گھر اور خاندان کی طرف سے شدید دباؤ ڈالا گیا کہ الیکشن میں انہیں ہر حال میں حاجی صاحب کو ہی سپورٹ کرنا پڑے گا.

اس صوبائی نشست پر حاجی داد رحیم کے مقابلے میں پی پی کے حاجی ولی محمد جاموٹ تھے.  جماعت اسلامی نے حاجی داد رحیم کے سامنے اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا تو حاجی صاحب پر سیاسی طور پر جماعت اسلامی کا ٹھپہ لگ گیا. ممکن ہے وہ مذہبی حوالے سے جماعت اسلامی کے قریب رہے ہوں، مگر وہ جماعت کے باقائدہ ممبر نہیں تھے.

اس دوران محمد علی ان کے خاندان کے میمبرز اور برادری کی اکثریت ما سوائے چند کے حاجی داد رحیم صاحب کے الیکشن کمپین میں سرگرم ہوگئے. اسی علاقے کی قومی اسیمبلی کی نشت پر پی پی امیدوار عبدالحفیظ پیرزادہ کے مد مقابل جماعت اسلامی کے مولانا ذاکر تھے.
7 دسمبر کو قومی اسمبلی کی نشت پر پی پی کے عبدالحفیظ پیرزادہ بھاری اکثریت سے جیت گئے. 9 دسمبر کو صوبائی نشست پر ہونے والے الیکشن سے ایک دن پہلے اچانک حاجی داد رحیم بلوچ نے الیکشن سے دست برداری کا اعلان کر دیا. یہ اعلان ان کے ہمدردوں پر حیرت کا پہاڑ بن کر گرا اور یہ صوبائی نشست باآسانی پی پی کے حاجی ولی محمد جاموٹ کے حصے میں آگئی.
70 کے الیکشن کے بعد ملک ایک ایسے سیاسی بحران سے دوچار ہوا، جس نے ملک کو دو لخت کر دیا.

محمد علی اور ان کے قریبی دوست و کزن محمد خان کچھ عرصہ خاموشی اختیار کرنے کے بعد سندھی قوم پرست سياست میں سرگرم یو گئے. بقول محمد علی کے "ہمیں قوم پرستی کی طرف مائل کرنے میں اس وقت کے سندھی جریدوں اور سندھی مزاحمتی افسانوں نے اہم کردار ادا کیا. ماہوار سندھی جریدوں” سوہنی” اور "تحریک” کے ایڈیٹوریلز نے ہمیں سیاسی شعور دے کر قوم پرست سیاست میں سرگرم کیا.”
ان ہی سرگرمیوں کے دوران وہ اور محمد خان تھیاسوفیکل ہال صدر میں ایک جلسے میں شریک ہوئے اور ان کو اسٹیج بھی دیا گیا. جس میں انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ بھی ملا. اس پروگرام میں ان کی ملاقات لیاری  سے تعلق رکھنے والے سرگرم نعپ کارکن حیدر قوم سے ہوئی. حیدر قوم سے رشتہ جڑنے کے بعد وہ لالہ لعل بخش رند تک پہنچے. لالہ لعل بخش نے ان کو سیاسی طور پر قائل کرکے اپنے قافلے میں شامل کردیا. اس دوران بلوچستان میں نعپ کی حکومت کو معزول کیا گیا تو پورے بلوچستان کے ساتھ ساتھ کراچی میں نعپ حکومت کے خاتمے کے خلاف ایک بھرپور احتجاجی تحریک شروع ہوگئی. محمد علی اور محمد خان نے اس جدوجہد میں سرگرمی سے حصہ لیا اور ملیر میں نعپ کے حوالے سے کام کرنا شروع کیا. انہوں نے نعپ سے قربت رکھنے والے بی ایس او کے ایک گروپ کو بھی ملیر میں فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا. اس احتجاجی تحریک کے نتیجے میں لالہ لعل بخش رند اور ان کے ساتھی گرفتار ہوئے، جن میں محمد علی بھی شامل تھا. محمد علی کے ملیر کے ساتھی محمد خان اور سائین داد چانگ کے گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے، لیکن وہ انڈر گراؤنڈ ہو گئے. گرفتاری کے بعد ان کو مختلف تھانوں میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں.  لالہ لعل بخش رند پر تو ٹارچر سیلوں میں بے پناہ تشدد کیا گیا. محمدعلی ایک مہینے کی قید کاٹ کر رہا ہوئے.

رہائی کے بعد وہ دوبارہ نعپ کے ساتھیوں کے رابطے میں رہے. جب بھی نعپ کے ساتھیوں کو کورٹ میں پیش کیا جاتا وہ ان سے ملاقات کے لئے پہنچ جاتے. اس دوران محمد علی نے اپنے فرسٹ کزن محمد خلیل کی مدد سے مسلم کمرشل بینک میں بحیثیت کلرک ملازمت اختیار کی اور ضلع کونسل ڈسپنسری کی نوکری کو خیرباد کہہ دیا. یہ غالباً 1976ء کے ابتدائی دنوں کی بات ہے.

چونکہ نعپ کی ساری قیادت جیل میں تھی اور نعپ پر پابندی عائد کردی گئی تھی، تو کچھ عرصہ بعد نعپ کے متبادل کے طور پر نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹیNDP تشکیل دی گئی. جس کی لیڈر شپ میں بیگم نسیم ولی خان و شیر باز مزاری سامنے آئے. کراچی میں یوسف مستی خان این ڈی پی کو منظم کرنے لگے، اس قافلے میں بہت سارے ساتھیوں کے ساتھ محمد علی بھی شامل ہو گئے.

1977ء کے الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے بھٹو حکومت کے خلاف ایک سیاسی اتحاد "پاکستان قومی اتحاد” (PNA) کے نام سے تشکیل پایا. این ڈی پی بھی اس اتحاد کا حصہ بن گئی. اس سیاسی اتحاد میں نو پارٹیاں شامل تھیں، جنہوں نے 1977ء کے الیکشن میں مشترکہ طور پر ہل کے انتخابی نشان کے ساتھ حصہ لیا.

پی این اے نے سرگرمی سے الیکشن مہم کا آغاز کیا. ملیر کے قومی و صوبائی نشستوں پر اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے امیدوار کھڑے کئے گئے. محمد علی پی این اے کے پلیٹ فارم سے ان امیدواروں کی کامیابی کے لئے سرگرم ہوگئے. اس وقت ملیر کی اہم شخصیت و زمیندار سیٹھ محمد عمر سمیت بہت سارے ساتھی بھی پی این اے کے قافلے میں شامل ہوگئے.
اس الیکشن مہم کے دوران پہلی جھڑپ کا واقعہ ملیر کے گوٹھ جام کنڈہ میں پیش آیا، جس میں پی این اے کا ایک کارکن مارا گیا. جس کے نتیجے میں پی این اے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں. اس طرح محمدعلی بلوچ دوبارہ گرفتار ہوئے ، لیکن کچھ دن تھانوں کی اذیتیں جھیل کر وہ رہا ہو گئے.

1977 کے الیکشن کے نتائج کو پی این اے نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا. پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور جنرل ضیاء ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا. کچھ عرصے بعد جب  نعپ کی اعلی’ قیادت کو جیل سے رہائی ملی تو محمد علی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رہا ہونے والے نعپ قائد میر بزنجو کو صالح محمد گوٹھ کے سیٹھ عمر باغ ملیر میں استقبالیہ دیا، جو ایک جلسے کی شکل اختیار کر گیا.

نعپ کی قیادت باہر آکر پی این اے میں NDP کی شمولیت اور افغان انقلاب کی کچھ حکمت عملیوں پر اختلاف کا شکار ہو گئی. اس طرح نعپ کے دو اہم قائدین ولی خان اور میر بزنجو کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے. میر صاحب نے اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان نیشنل پارٹی تشکییل دی، محمد علی بھی پی این پی میں  متحرک ہوگئے. بعد ازاں انہوں نے ایم آر ڈی موومنٹ میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا.

1989ء میں میر صاحب کی وفات پر وہ ان کے جنازے کے ہمراہ نال پہنچے اور ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے. 1996ء میں پی این پی بھی بحرانی کیفیت سے دو چار ہوئی، پی این پی کی اکثریت نے پارٹی کا نام بدل کر بلوچستان نیشنل پارٹی رکھ دیا. جس پر سندھ اور پنجاب کے پی این پی ورکرز سیشن  سے واک آوٹ کر گئے اور بدستور پی این پی کے نام سے کام کرنے کا اعلان کر دیا. پی این پی کے اس قافلے میں بلوچستان سے رازق بگٹی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ محمد علی اور راقم الحروف بھی شامل تھے. آگے چل کر پی این پی کو ورکرز پارٹی اور پھر عوامی ورکرز پارٹی میں تبدیل کیا گیا اور محمد علی اپنے زندگی کے آخری ایام تک عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ جڑے رہے.

اس کے بعد محمدعلی نے طبعیت کی ناسازی کی بنا پر بینک کی نوکری سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے لی.  بعد میں ان کی صحت دن بہ دن خراب رہنے لگی. انہیں SIUT میں داخل کیا گیا، اسی دوران ان کی ابتدائی سیاسی زندگی کے رفیق لالہ لعل بخش رند کو بھی SIUT میں داخل کیا گیا. کارزارِ سیاست کے یہ مسافر اب زندگی کی آخری جنگ لڑ رہے تھے. لالہ لعل بخش رند شدید بیماری کی حالت میں 15 آگسٹ اور محمد علی 17 اگسٹ 2010 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close