موبائل فون کے جنون میں مبتلا افراد کیلئے ’تیسری آنکھ‘ ایجاد

نیوز ڈیسک

جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر نے اسمارٹ فون کی دنیا میں کھوئے رہنے والوں کے لیے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جس کی مدد سے وہ راہ چلتے ہوئے خود کو ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھ سکیں گے

اٹھائیس سالہ پینگ من ووک نامی اس ڈیزائنر نے ایک روبوٹک آئی بال ڈیولپ کیا ہے، جسے کوئی بھی موبائل فون کا جنونی شخص اپنے ماتھے پر نصب کرسکے گا، اس آلے کو پینگ من نے ’تیسری آنکھ‘ کا نام دیا ہے۔

جبکہ اسے فونو ساپینز بھی کہا جاتا ہے، یہ اس وقت کام شروع کر دیتا ہے جب اس کا استعمال کنندہ اپنی نگاہیں اسمارٹ فون پر جمائے رکھتا ہے اور جب وہ اسمارٹ فون میں گم ہو کر رہ جاتا ہے اور کسی رکاوٹ یا خطرے سے ایک یا دو میٹر دور ہوتا ہے تو یہ آلہ ایک بیپ پر مبنی وارننگ جاری کرنا شروع کردیتا ہے

اس آلے کے ڈیزائنر پینگ، جو کہ رائل کالج آف آرٹ اینڈ امپیریل کالج کے ڈیزائن انجینئرنگ میں پوسٹ گریجویٹ ان انوویشن کا طالب علم ہے، کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں کے مستقبل کی تیسری آنکھ ہوگی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close