Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادّہ دریافت

By Akhtar Rasool
نومبر 15, 2021 2 Min Read
0

کیلیفورنیا : کئی عشرے قبل ایک معدن کی پیشگوئی کی گئی تھی، جو اب زمین کی چھ سو ساٹھ کلومیٹر گہرائی سے دریافت ہوئی ہے

اس معدن کے آثار ایک ہیرے کے اندر ملے ہیں، جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ اس معدن کو ’ڈیوموآئٹ‘ کا نام دیا گیا ہے

اگرچہ اس کی ملتی جلتی قسم دنیا میں ملتی ہے، لیکن ڈیوموآئٹ زمین کی گہرائی میں بلند درجہ حرارت اور دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے

افریقی ملک بوٹسوانہ سے ملنے والے اس ہیرے کے اندر سیاہ معدن کے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہیں، جن کی تلاش ایک عرصے سے جاری تھی

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور نواڈا یونیورسٹی میں ارضیاتی کیمیا کے سربراہ اولیور شونر نے اسے ڈیوموآئٹ کا نام دیا ہے۔ یہ کیلشیئم سیلیکیٹ CaSiO3 پر مشتمل ہوتی، ہے لیکن اس میں یورینیئم، تھوریئم اور پوٹاشیئم کے تابکار ہم جا (آئسوٹوپس) موجود ہو سکتے ہیں

نظری طور پر 1967 میں اس معدن (منرل) کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ماہرین نے اس کا مقام زمین کی گہرائی یعنی مینٹل کو قرار دیا گیا جہاں درجہ حرارت بلند اور دباؤ غیر معمولی ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ مینٹل زمینی قشر (کرسٹ) اور قلب (کور) کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اس طرح ڈیوموآئٹ کو سمجھ کر خود ہم زمینی ساخت، پلیٹ ٹیکٹونکس اور ارضیات کو جان سکتے ہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدن خاص حالات کے تحت 660 سے 2700 کلومیٹر گہرائی میں تشکیل پاتی ہے، جہاں حرارت اور دباؤ کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہیرے کے اندر دیکھا گیا ہے، جو بلند درجہ حرارت پراپنا وجود برقرار رکھتا ہے

اگرچہ کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے، لیکن قدرتی طور پر پہلی مرتبہ اسے دیکھا گیا ہے

واضح رہے کہ 1987ع میں اس ہیرے کو بوٹسوانہ کی ایک کان سے برآمد کیا گیا تھا، لیکن وہ مختلف جگہوں سے ہوتا ہوا کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پہنچا، جہاں کئی برس تک اس پر تحقیق کی گئی اور 11 نومبر کو اس کا اعلان ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں کیا گیا

پہلے اسے لیزر سے چھیدا گیا تو اندر کیلشیئم کے آثار ملے۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ کیلشیئم سلیکیٹ ہے اور آخرکار معلوم ہوا کہ یہ کرسٹل حقیقت میں کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ ہے۔ زمینی مینٹل کا پانچ سے سات فیصد حصہ اسی معدن پر مشتمل ہو سکتا ہے

واضح رہے کہ یہ دریافت سیکڑوں میل کی گہرائی میں نہیں ہوئی ہے، بلکہ ہیرے کی ایک کان سے ملی ہے اور خیال ہے کہ یہ کسی عمل کی بدولت اوپر تک پہنچا ہوگا.

Tags:

CaSiO3Diamond
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فحش فلموں کے مقدمے کے بعد شلپا اور راج کندرا ایک اور مشکل میں پھنس گئے

Next

نواز شریف پر اَسی لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی وصولی کے لیے حکومت متحرک

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme