دو افسانچے
پِنک اسکوٹی وہ گھر کے صحن میں چارپائی پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔ قصبے کی جامع مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز ابھرتی ہے اور فضا میں پھیل جاتی ہے۔ وہ کلائی گھما کر بے دلی سے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتا ہے،…
عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ ششم)
برٹش فلم اسکالر لورا مالوی (Laura Mulvey) کے طویل مضمون Visual pleasure and narrative cinema کو سینما کے فیمن اسٹ مطالعے میں سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے ـ ان کے مطابق کمرشل سینما ”مردانہ نگاہ“ (male gaze) پر مبنی ہے ، کیمرہ، ہیرو اور فلمی بیانیہ مل کر عورت…
کھنڈر سے برآمد ہوئی نامعلوم شاعر کی ایک نظم
امر گل شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا برگد تھا۔ اس کی جڑوں میں مٹی نہیں، مہر شدہ سرکاری فائلیں دبی تھیں جن میں انسانوں کی خاموشی لپٹی تھی۔ عجیب برگد تھا جس کے پتے زرد نہیں ہوتے تھے، صرف رنگ بدلتے تھے: کبھی آئینی سبز، کبھی قانونی نیلا، کبھی اقتدار کا سنہری۔…
پاگل پن کا قانون (افسانہ)
اس ملک میں پاگل پن کی وبا پوری طرح پھیل چکی تھی، لوگ چلتے پھرتے عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتے تھے لیکن حکام یہ ماننے سے ابھی تک انکاری تھے کہ ملک میں پاگل پن کے مریضوں کی تعداد میں کوئی خاص اضافہ ہوا ہے۔ وہ ہر روز یہ بیان جاری کرتے کہ سب…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
نیکی کر، دریا میں ڈال (افسانہ)
استاد خدابخش انجمن کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، گاؤں کے تمام معززین اجلاس میں شریک تھے۔ اس انجمن کو استاد خدابخش نے بڑی محنت اور جانفشانی کے بعد بنایا تھا۔ انجمن کی کوششوں سے گاؤں میں ایک لائبریری بھی قائم کی جا چکی تھی، اس کے علاؤہ استاد خدابخش شام کے…
زندگی کا راز (افسانہ)
(الوالعزم چیلے نے گرو سے پوچھا، مہاراج زندگی کا کیا راز ہے؟ گرو نے ایک بار آنکھیں کھول کر کہا، ”موت!‘‘ اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔) دریا کے کنارے بیٹھا شب دیال اپنے خیالات کی دنیا میں کھو گیا تھا۔ دور افق میں لال لال بدلیاں نیلی ہو گئی تھیں اور مٹیالے رنگ…
اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…