Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Home/ادب/کتاب: میمری پولیس
The Memory Police novel analysis
ادباہم ترینتازہ ترین

کتاب: میمری پولیس

اکتوبر 25, 2026 5 Min Read
0

مصنفہ: یوکو اوگاو
تبصرہ: شاہد رضا

ناول ’’میمری پولیس‘‘ جاپانی ناول نگار یوکو اوگاوا کا لکھا ہوا ہے۔ یوکو اوگاوا جاپان کی معروف ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کی پیدائش 30 مارچ 1962ء کو ہوئی۔ وہ اب تک جاپان کے کئی اہم ادبی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں، جن میں اکوتاگاوا پرائز اور یومیوری پرائز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں عالمی سطح پر شرلی جیکسن ایوارڈ اور امریکن بُک ایوارڈ بھی مل چکے ہیں، جبکہ ان کا ناول ’’میمری پولیس‘‘ 2020ء میں انٹرنیشنل بُکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ بھی ہوا تھا۔ ان کے مشہور ناولوں میں Revenge، Hotel Iris، The Housekeeper and the Professor اور The Diving Pool شامل ہیں۔ یہ مشہور ناول نوجوان شاعر اور افسانہ نگار اختر حفیظ نے سندھی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔

’’میمری پولیس‘‘ ایک ڈسٹوپین ناول ہے، جو ایک نامعلوم جزیرے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے، جہاں وقت گزرنے کے ساتھ ہر چیز مٹتی جا رہی ہے۔ لوگوں کی یادیں ان سے چھینی جا رہی ہیں۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اشیا ایک ایک کرکے غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جزیرے پر رہنے والے لوگوں کو کسی بھی وقت میمری پولیس نامی ادارہ گرفتار کرکے غائب کر دیتا ہے۔

ناول کی مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہے جو ناول نگار بھی ہے۔ وہ ناول لکھنا چاہتی ہے اور اپنے ایڈیٹر کو میمری پولیس سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ٹائپسٹ بھی ہے اور ٹائپنگ کا کورس بھی کر رہی ہے، جہاں وہ اپنے ناول کو ٹائپ کرتی ہے۔

لڑکی کا والد پرندوں کے مطالعے کا ماہر ہے۔ وہ ایک تجربہ گاہ میں کام کرتا تھا۔ اس نے کئی سال اور مہینے اعداد و شمار جمع کیے، پرندوں کی زندگی کی تصاویر بنائیں، ان کے انڈوں پر تحقیق کی اور جنگلی حیات کے حوالے سے کام کیا۔ لیکن میمری پولیس اس کے والد کو گرفتار کرکے غائب کر دیتی ہے۔ بعد میں وہ اس کے تمام کاغذات، نوٹس، ڈرافٹس، کتابیں اور تصاویر بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔

ناول نگار نے اس کردار کے ذریعے میمری پولیس کے ظلم و جبر کو نمایاں کیا ہے کہ کس طرح ایک باپ کی یادیں، جو اس کی بیٹی کے پاس محفوظ تھیں، بھی اس سے چھین لی جاتی ہیں اور وہ کچھ نہیں کر پاتی۔

ناول کے صفحہ 19 پر ایک منظر میں لکھا ہے کہ میمری پولیس کے سپاہی اپنی جیکٹوں سے نکالی ہوئی بڑی کالی تھیلیوں میں کاغذات، تصاویر، تحقیقی مقالے، ذاتی خطوط اور خاندانی دستاویزات ڈالتے جاتے ہیں۔ لڑکی بے بسی کے عالم میں انہیں دیکھتی رہتی ہے اور پولیس کے سپاہیوں سے کہتی ہے:

’’یہی تو وہ چیزیں ہیں جو بابا سے مجھے ملی ہیں۔‘‘

سارا کمرہ بدل گیا تھا۔ بابا کی موجودگی کی نشانیاں، جنہیں میں نے بڑی محبت سے سنبھال کر رکھا تھا، ایک خالی پن کے ساتھ غائب ہو گئی تھیں۔ یہ خالی پن کبھی پُر نہیں ہو سکتا تھا۔

بے بسی کے عالم میں اور وقت کی ظالم بندوق برداری کے سامنے انسان کتنا بے بس ہے! پیاروں کا بچھڑ جانا اور گم ہو جانا اپنی جگہ، مگر ان کی بچی ہوئی وہ چیزیں بھی، جن کے ساتھ یادیں وابستہ ہوتی ہیں، جب میمری پولیس چھین کر لے جائے تو انسان کے پاس آخر کیا باقی رہ جاتا ہے؟

والد کے بعد اس کی ماں، جو ایک سنگ تراش فن کار تھی اور پتھر سے مجسمے تراشتی تھی، جزیرے کے ایک خفیہ تہہ خانے میں کام کرتی رہتی ہے۔ بعد میں میمری پولیس اس سنگ تراش ماں کو ایک نوٹس بھیجتی ہے اور اسے دفتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کرتی ہے، لیکن وہ میمری پولیس کے دفتر سے کبھی واپس نہیں آتی۔

ناول کی مرکزی کردار اپنے ایک دوست ’’آر‘‘ کو اپنے گھر میں ایک خفیہ کمرہ بنا کر دیتی ہے اور اس میں اس کے رہنے کا انتظام کرتی ہے۔ آر کی خدمت کے لیے ایک بوڑھا شخص بھی ان کے ساتھ رہتا ہے، جو ایک قابلِ اعتماد انسان ہے۔

میمری پولیس نے لوگوں کو اس قدر خوف زدہ کر رکھا ہے کہ بوڑھے شخص کی سالگرہ بھی خفیہ طور پر منائی جاتی ہے۔ ایک دن میمری پولیس گھر پر چھاپہ مارتی ہے۔ وہاں دعوت کے لیے رکھے گئے برتنوں کو دیکھ کر انہیں شک ہوتا ہے کہ یہاں اتنے زیادہ برتن کیوں رکھے گئے ہیں۔ اسی شک کی بنیاد پر وہ بوڑھے شخص کو گرفتار کرکے لے جاتے ہیں۔

اس کے بعد لڑکی اپنے دوست آر کو بتائے بغیر خوف کے عالم میں میمری پولیس کے دفتر جاتی ہے۔ اس منظر کی منظرکشی ناول نگار نے انتہائی خوبصورتی سے کی ہے۔ بعد میں وہ بوڑھا شخص رہا کر دیا جاتا ہے۔

لیکن کچھ دن بعد لڑکی کے پڑوس میں رہنے والے ایک خاندان کے تمام افراد کو میمری پولیس گرفتار کرکے لے جاتی ہے۔ اس خاندان کا ایک کتا پیچھے رہ جاتا ہے، جسے بعد میں لڑکی اپنے پاس رکھ لیتی ہے اور اس کا نام ڈان رکھتی ہے۔

پورے ناول میں میمری پولیس کا ظلم اور خوف چھایا ہوا ہے۔ لوگ مسلسل خوف زدہ رہتے ہیں۔ اس ناول میں میمری پولیس ایک فاشسٹ ادارے کے طور پر سامنے آتی ہے، جو عوام کو ذہنی طور پر پریشان کرنے سے لے کر ان کے روزمرہ معمولات اور ذاتی زندگی میں مداخلت تک، ہر سطح پر اپنا اختیار قائم رکھتی ہے۔

میمری پولیس محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ ایسی علامت جو کسی بھی ملک میں نمودار ہو سکتی ہے؛ جو لوگوں کو جب چاہے گرفتار کرکے غائب کر سکتی ہے اور ان کی زندگیوں، یادوں، آزادی اور شناخت کو ان سے چھین سکتی ہے۔ یہاں تک کہ ایسے نظام میں لوگوں کے چچڑے ہوئے لاشے سڑکوں، راستوں اور چوراہوں پر پھینک دیے جاتے ہیں۔

اس اعتبار سے ’’میمری پولیس‘‘ محض ایک جاپانی ڈسٹوپین ناول نہیں، بلکہ جبر، خوف، آمریت، جبری گمشدگی اور انسانی آزادی کی پامالی کی ایک گہری علامتی داستان ہے۔ ناول یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اگر کسی انسان سے اس کی یادیں، اس کے پیاروں کی نشانیاں اور اس کی ذاتی شناخت چھین لی جائے تو پھر اس کی زندگی میں باقی کیا رہ جاتا ہے؟

’’میمری پولیس‘‘ کا سندھی ترجمہ کرکے اختر حفیظ نے سندھی ادب کے قارئین کو عالمی ادب کے ایک اہم اور فکر انگیز ناول سے متعارف کرایا ہے۔ یہ ترجمہ سندھی ناول اور عالمی ادب کے درمیان ایک اہم ادبی ربط قائم کرتا ہے اور سندھی ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔


بس اسی کی کسر تھی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)

Tags:

Akhtar Hafeezauthoritarianismbook reviewdystopian fictionDystopian Novelforced disappearancesFreedom and OppressionJapanese Literaturejapanese novelsLiterary Reviewmemory and identityShahid RazaSindhi Literaturesindhi translationThe Memory PoliceThe Memory Police Book ReviewTotalitarianismworld literatureYoko OgawaYoko Ogawa Books
Author

Sangat Mag

Follow Me
Other Articles
Ballon dor
Previous

رونالڈو کی برتری، میسی کا تاریخی ریکارڈ؛ BOAT پول میں کون بنے گا نمبر ون؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • کتاب: میمری پولیس
  • رونالڈو کی برتری، میسی کا تاریخی ریکارڈ؛ BOAT پول میں کون بنے گا نمبر ون؟
  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا

All Catergories

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
  • کتاب: میمری پولیس
  • رونالڈو کی برتری، میسی کا تاریخی ریکارڈ؛ BOAT پول میں کون بنے گا نمبر ون؟
  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme