لیونل میسی ہمارے عہد کے عظیم کھلاڑی ہیں ۔ یہ وہ دعویٰ ہے جو دنیا بھر کے میسی فینز دہراتے رہتے ہیں ۔ ان سے گر پوچھا جائے ؛ کیوں اور کیسے میسی عظیم ہیں؟ وہ دماغ کو تھکا دینے والے اعداد و شمار رکھ دیں گے ۔ اتنے گول کئے ، اتنے اسسٹ ، فلاں لیگ جیتا ، فلاں کپ جیتا ، یہ اور وہ ۔۔ سب بکواس ۔
کیا کوئی فٹ بال شائق میراڈونا کے اعداد و شمار جانتا ہے؟ ۔ کیا پیلے کو اعداد و شمار سے ناپا جا سکتا ہے؟ ۔ رابرٹو باجیو ، گارنشا ، رونالڈو نزاریو ۔۔۔۔۔ لمبی فہرست ۔ کسی بھی بڑے کھلاڑی کے اعداد و شمار عام فٹ بال شائق کو یاد ہی نہیں رہتے ۔ یاد رہتا ہے تو انداز ۔ جیسے چلی کے تخلیق کار رامون اُنزاگا!
رامون جنہوں نے 1927 میں ایک نئی حرکت ایجاد کی ۔ جسم ہوا میں ، پیٹھ زمین کی طرف اور ٹانگیں قینچی کی مانند ، پیچھے کی طرف شاٹ اور گول ۔ برسوں تک یہ انداز چلی کی مناسبت سے ”چلینا“ کہلاتا رہا پھر برازیلیوں نے اسے مزید خوب صورت بنا کر ”بائی سائیکل گول“ کے نام سے معروف کر دیا ۔ رامون اُنزاگا کے اعداد و شمار کہاں ہیں؟
لیونل میسی بھی ایک دن ریٹائر ہو جائیں گے ۔ برسوں بعد یہ اعداد و شمار کسی کو یاد بھی نہ ہوں گے، مگر میسی ۔۔۔۔۔ پھر بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہیں گے ۔ یہی ان کی عظمت ہے ۔ آئیے اعداد و شمار کو ٹھوکر مار کر میسی کو پڑھتے ہیں ، لاطینی امریکا کے فٹ بال کو سمجھتے ہیں ۔
لوئر مڈل کلاس میسی ارجنٹینا کی گلیوں میں فٹ بال کھیلتے بڑے ہوئے ۔ بیماری کے باعث ان کی جسمانی بڑھوتری کی رفتار سست ہو گئی ۔ جسم نے ساتھ نہ دیا تو انہوں نے نگاہوں کو بڑھانا شروع کر دیا ۔ مختصر پاس ، مسلسل حرکت ، خالی جگہوں کی تلاش ؛ انہوں نے سیکڑوں جوانوں کی طرح اسپین کی لاماسیا اکیڈمی سے یہ سب سیکھا مگر ارجنٹینا کے فٹ بالی شعور نے اس سیکھ کو شاعری میں بدل دیا ۔
وہ پہلے لیفٹ ونگر بنے ۔ رائٹ میں رونالڈینہو ۔ بارسا فینز اس حسین دور کو کبھی نہیں بھول سکتے جہاں ایک طرف برازیلی سامبا رقص اور دوسری طرف ارجنٹینا کی فطری شاعری ۔
پھر وہ ”فالس نائن“ بن گئے ۔ اس پوزیشن پر کوئی بھی کھیل سکتا ہے مگر اس کو بلندی تک پہنچانے کا سہرا بلاشبہ میسی کے سر بندھتا ہے ۔ حملے کی پوری ترتیب وہی بناتے تھے ۔ یہی وہ دور تھا جب رئیل میڈرڈ کو 2:6 سے شکست دی گئی جس کے محور کوئی اور نہیں میسی تھے ۔ مگر ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔
میسی کی عمر بڑھتی گئی ۔ دیر تک دوڑنا ممکن نہ تھا ۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر خود کو وقت کے ساتھ ڈھال لیا ۔ ان کی بصیرت بڑھتی گئی ۔ وہ کسی یونانی فلسفی کی طرح گہرے ہوتے چلے گئے ۔ جدید فٹ بال رفتار پر زور دیتا ہے جیسے ایمباپے ؛ رفتار ان کے بس میں نہ تھی، پھر کیا کیا جائے؟ ۔ انہوں نے انتظار کی تکنیک ایجاد کی ـ بعض اوقات طویل اور بظاہر تھکا دینے والا انتظار ۔ کہاں رکنا ہے ، کب چلنا ہے اور کب اس ایک لمحے کا فائدہ اٹھانا ہے، جہاں مخالف دفاع تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے ۔ وہ پورے میچ میں ٹہلتے ہوئے ، گم صم دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے میدان میں ان کا کوئی مصرف ہی نہیں ہے ـ نہ کوئی جوش، نہ جذبہ، نہ چیخنا اور نہ ہی چلانا بس خاموش ـ مگر درحقیقت وہ میدان اور 21 کھلاڑیوں کا گہرا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں ۔
یہ میسی نہ لیفٹ ونگر ہیں اور نہ ہی فالس نائن ۔ یہ ایک پلے میکر ہیں ۔ ایک آزاد تخلیق کار ۔ ٹیم مشکل میں گِھر جاتی ہے ، ہار رہی ہوتی ہے ، سب دروازے بند نظر آتے ہیں ۔ تب ارجنٹینا کے یہ یونانی فلسفی خاموشی سے آ کر پوری میچ کی سمت بدل دیتے ہیں ۔ وہ اسسٹ نہیں کرتے بلکہ ایسے پاس دیتے ہیں جس سے گول دینا آسان لگے ۔ شائق، ارجنٹینا کا دل شکستہ پرستار بھی لمحے بھر سمجھ نہیں پاتا؛ ہائیں ہم جیت گئے!
میراڈونا کی فطرت میں بغاوت تھی ، میسی کے فٹ بال میں توازن ہے ۔ جدید فٹ بال رفتار ، شدید جسمانی ، پیچیدہ حکمت عملیوں اور کمپیوٹر گرافنگ سے عبارت ہے ۔ اس مصنوعی دور میں بھی میسی نے تخلیقی آزادی کا پرچم اٹھا کر توازن ، زاویوں اور انفرادی فہم و فراست سے فتوحات کیں ۔ یورپ نے انفرادیت پر اجتماعیت کو ترجیح دی ۔ میسی نے انفرادیت اور اجتماعیت کو ایک توازن میں ڈھال کر خود کو اس کا سنگم بنا دیا ۔
ہم جیسے لیارین فٹ بال شائقین کو اعداد و شمار سمجھ نہیں آتے ۔ ہم خالق ڈاڈا (کراچی پورٹ ٹرسٹ کے کھلاڑی اور کارساز بم دھماکے کے شہید) کے پرستار ہیں جن کے فن کو اعداد و شمار سے ناپنا فٹ بال کی توہین ہے ۔ لیونل میسی کو بھی اعداد و شمار سے ناپنا ان کے عظیم فن کی توہین ہے ۔
سالوں بعد کسی کو یاد بھی نہ ہوگا میسی نے کتنے گول کئے ۔ کیا کیا جیتا ۔ ان کی میراث کا بڑا حصہ وہ فن کاری ہے جو سالوں بعد میچ دیکھتے کسی شائق کے لبوں پر آئے گا ۔ جب کوئی کھلاڑی گیند سے باتیں کرتا دو دفاعی کھلاڑیوں کے درمیان سے بال نکالے گا ۔ تب آواز آئے گی :
”اڑے ! یہ تو بالکل میسی کی طرح کھیلتا ہے۔“
_____________________
بھیک میں ملے سکوں سے ورلڈ کپ کے اسٹیج تک: ایرانی گول کیپر علیرضا بیرانوَند کی ناقابلِ یقین داستان