Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

بلوچستان میں گمشدگیوں کا مسئلہ

By Akhtar Rasool
نومبر 24, 2021 5 Min Read
0

لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کی تقریر نے جہاں ایک طرف ملک میں سول ملٹری تعلقات، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے برابر حقوق کی بحث کو ایک بار پھر گرما دیا ہے، وہیں انہوں نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی سنگینی کو بھی ملک کے بااختیار طبقے کے سامنے اجاگر کیا ہے

ان کے بقول ملک میں آئین و قانون کی خلاف ورزی اور شہریوں کو انصاف سے محروم رکھنے کے اس ’مذاق‘ کو اب ختم ہو جانا چاہیے

نومبر کے اوائل میں کوئٹہ میں جامعہ بلوچستان کے دو طلبہ کی ’جبری گمشدگی‘ سے صوبے میں طلبہ مظاہروں کی ایک نئی لہر شروع ہوئی ہے، جو ہنوز جاری ہے۔ یہ طلبہ اب تک لاپتہ ہیں۔ باقی طلبہ میں خوف پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی جامعہ کے احاطے میں بھی محفوظ نہیں ہیں

حکومت نے خود بلوچستان اسمبلی میں یہ اعتراف کیا کہ اس وقت جامعہ میں ایک سو ساٹھ کیمرے نصب ہیں، لیکن جب پوچھا گیا کہ اس کے باوجود طلبہ وہاں سے کیسے لاپتہ ہوئے، تو یہ بتایا گیا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کیمروں کا بیک اپ موجود نہیں۔ طلبہ اپنے احتجاج میں حق بجانب ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا ملال ہے کہ ان کا تحفظ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے

بلوچستان میں حالیہ سیاسی بحران کے بعد اب ایک نیا وزیر اعلیٰ اور کابینہ آگئے ہیں، لیکن یہ توقع رکھنا کہ اس پیش رفت سے صوبے میں نئی عوام دوست پالیسیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی، خود فریبی ہوگی

طلبہ کے پرزور مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبے میں جو چند گھمبیر مسائل عرصہ دراز سے حل طلب ہیں، محض چشم پوشی، انکار اور ٹال مٹول سے حل نہیں ہوں گے

دوسری طرف ماوررائے عدالت کارروائیوں کے خلاف جو سیاسی و سماجی کارکن متحرک ہیں، وہ اپنی جدوجہد سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ انہیں خاموش کرنے کی تمام تراکیب بےسود ثابت ہوئیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک بدستور مصمم اور توانا ہے

لاپتہ افراد کا معاملہ اور دیگر غیر طے شدہ مسائل وقتاً فوقتاً نمودار ہو کر حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ اس حوالے سے کافی عرصے سے صوبائی حکومتوں کا طریقہ واردات یہ رہا ہے کہ وہ اسے سکیورٹی اور خفیہ اداروں کے علاوہ بلوچ قوم پرستوں کا باہمی قضیہ قرار دے کر خود کو لاتعلق کرتی آ رہی ہیں

ایک طرح سے یہ اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔ تمام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور جو حکومت یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتی، تو شہری بلاشبہ اس کے وجود اور جواز پر سوال اٹھانے کا حق رکھتے ہیں

لیکن خود صوبائی وزرا اور اہلکار نجی مجلسوں میں یہ کہہ کر اپنی بےبسی کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ’نازک معاملات‘ ان کے اختیار سے باہر ہیں۔ لہٰذا وہ اس مسئلے کو اگر حل کرنا بھی چاہیں، تو کچھ نہیں کر سکتے

یہی وجہ ہے کہ تین ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے طلبہ کی بازیابی میں تاخیر کی وجہ صوبائی حکومت کبھی یہ بتاتی ہے کہ وزیراعلیٰ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی، تو کبھی کہتی ہے کہ دراصل آئی جی صاحب اپنے بھائی کی فاتحہ خوانی کے سلسلے میں کوئٹہ سے باہر تھے۔ اس معاملے میں حکومت تو انتظار کرسکتی ہے، لیکن ایسا کلیجہ کہاں سے لائیں، جو لاپتہ افراد کی غم زدہ ماؤں کو حکومت کی ’مجبوریوں‘ اور بہانوں کو سمجھانے پر قائل کرے؟

بلوچستان میں جاری شورش میں پچھلی دو دہائیوں سے کئی اتار چڑھاو آئے۔ کئی بار مذاکرات کی بات ہوئی، تو کئی نئی تنظیمیں بن کر سامنے آئیں، لیکن اس تمام عرصے میں ایک بات جو تواتر سے دیکھنے میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ صوبے میں شاید ’ملک دشمن عناصر‘ سے نمٹنے کا ایک طریقہ جبری طور پر لاپتہ کرنا ہے

ترقی یافتہ دنیا میں زیادہ تر پالیسیاں، سروے نتائج اور اعداد و شمار (ڈیٹا) کو مدنظر رکھ کر مرتب کی جاتی ہیں کہ کون سی پالیسی موثر ہے اور کون سی کام نہیں کر رہی۔ لیکن ہمارے ہاں سائنسی بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کو آئین و قانون کے مطابق گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے لاپتہ کرنے سے ملک کو زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے

اخباری رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت کم ایسے لاپتہ افراد ہیں، جن کا تعلق بلوچ مسلح تنظیموں سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلح تنظیمیں زیادہ تر شہر سے باہر اپنے مورچوں میں رہتی ہیں یا پہاڑی علاقوں میں کارروائی کرتی ہیں اور دوسری بات یہ ہے مسلح افراد کو جب بھی حکومتی اہلکار گرفتار یا لاپتہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو فریقین کے درمیان خونی جھڑپیں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر نہتے شہری بالخصوص کالج اور جامعات کے نوجوان طلبہ ہی جبری گمشدگیوں کی اس متنازع پالیسی کا شکار بنتے ہیں

لاپتہ افراد کے والدین کو فوری طور پر یہی خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے بچوں کو گمشدگی کے دوران ہی مار نہ دیا جائے۔ اس بات کے پیش نظر اگر ان کے بچے کا تعلق کسی سیاسی جماعت یا سوچ و فکر سے رہا بھی ہے تو وہ اس امید سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کے بیٹے کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا کہ شاید اس بنیاد پر ان کی اولاد کو بری کر دیا جائے

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس کے حل کے لیے ایک کمیشن بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گمشدگیوں کی وجوہات کئی ہوسکتی ہیں

تعلیمی پسماندگی کا تو یہ عالم ہے کہ دیہی بلوچستان میں بیشتر والدین پڑھ لکھ نہیں سکتے۔ بیشتر کو اردو بولنا تک نہیں آتی۔ چنانچہ وہ ایف آئی آر درج کر سکتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے فراہم کردہ خاصا پیچیدہ اور تفصیلی کوائف نامہ بھر سکتے ہیں۔ بےبسی کا یہ عالم ہے کہ بہت سارے والدین کو پریس ریلیز لکھنا آتا ہے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دینا

سیاست جرم نہیں ہے۔ سیاسی سوچ رکھنا اور کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کرنا اور اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی سزا اتنی بھاری نہیں ہونی چاہیے۔ والدین کو اپنے بچوں کی سیاست میں شمولیت پر شرمندہ یا معذرت خواہ نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کو مشروط نہیں ہونا چاہیے

بظاہر لگتا ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ ادارے ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، چنانچہ ملکی سلامتی اور مفاد کے نام پر غیرانسانی اور غیرقانونی عمل بلاخوف وخطر سرانجام پاتے ہیں

لاپتہ افراد کے معاملہ نے بلوچستان کے عام شہری کا اعتبار قومی اداروں پر سے اٹھا لیا ہے۔ جوں جوں اداروں پر عوامی بھروسہ ختم ہوتا جاتا ہے، اس کا فائدہ صوبہ میں علیحدگی پسند قوتوں کو ہوگا، جن کی بقا اور کامیابی اسی بات پر منحصر ہے کہ حکومت کس حد تک ناکام ہوتی ہے اور لوگ کب تھانوں اور عدالتوں کے دروازوں پر دستک دینا چھوڑ دیں گے

نوٹ: یہ کالم انڈپینڈنٹ کے شکریے کے ساتھ شایع کیا گیا، جو مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں. آپ اس تحریر کو ذیل میں دیے گئے لنکس پر شیئر بھی کر سکتے ہیں.

Tags:

Balochistan Missing PersonsForcefully DisappearancePakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کو روکنے کا مطالبہ

Next

لفظ گر (اردو ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme