Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

فطرت کی مُہر: انسانی انگلی کے نشان جیسا حیرت انگیز ’فنگرپرنٹ جزیرہ‘

By Akhtar Rasool
دسمبر 10, 2021 2 Min Read
0

زغرب – کروشیا سے متصل بحیرہ ایڈریاٹک میں واقع ایک چھوٹے سے ویران جزیرے ’بالژیناک‘ کو اگر اونچائی سے دیکھا جائے، تو یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی انسان کی انگلی کا نشان ہو اور اس پر بہت سارے فنگر پرنٹس بھی بنے ہوئے ہوں

اپنی اس حیرت انگیز ہئیت کی وجہ سے یہ جزیرہ اپنے اصل نام ’بالژیناک‘ کے بجائے عام طور پر ’فنگرپرنٹ جزیرہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے

اونچائی سے دیکھنے پر یہاں نظر آنے والے نشانات دراصل وہ سفید پتھروں سے بنائی گئی، وہ چھوٹی چھوٹی دیواریں ہیں جن کی اونچائی بمشکل تین سے چار فٹ ہے، یہ بلکل انگلی کے پوروں پر بنی لکیروں کی طرح لگتی ہیں

کروشیائی مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان دیواروں کو انیسویں صدی عیسوی میں قریبی ساحل پر رہنے والے لوگوں نے اس جزیرے بنایا تھا

ان کی تعمیر کا مقصد یہ تھا کہ تیز سمندری ہواؤں کی شدت کم کرتے ہوئے، یہاں مختلف فصلیں اگائی جا سکیں

اس طرح کی دیواریں مختلف یورپی ممالک میں بھی بنائی گئی ہیں، لیکن بالژیناک جزیرے پر یہ دیواریں پیچ در پیچ انداز میں اتنی زیادہ ہیں کہ انہوں نے پورے جزیرے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے

حیران کن بات یہ ہے کہ بالژیناک جزیرے کا رقبہ صرف 0.14 مربع کلومیٹر ہے، لیکن یہاں دیواروں کے جال کی مجموعی لمبائی تقریباً 23 کلومیٹر ہے

ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ بالژیناک جزیرے پر یہ دیواریں سلطنتِ عثمانیہ کے فوجی حملوں سے بچاؤ کے لیے بنائی گئی تھیں، لیکن اس خیال کی تائید یہاں موجود دوسرے آثارِ قدیمہ سے نہیں ہوتی

سوشل میڈیا کے بعد سے اس جزیرے کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ہر سال یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے

ایک جانب تو سیاحت کے فروغ کے حوالے سے یہ ایک خوش آئند بات ہے، لیکن ساتھ ہی سیاحوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے اس جزیرے کے قدیم خدوخال اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے

اب کروشیائی حکومت نے یونیسکو سے درخواست کی ہے کہ بالژیناک جزیرے کو ’’عالمی ورثے‘‘ میں شامل کیا جائے، تاکہ اس کی مناسب حفاظت ممکن بنائی جاسکے۔ تاہم یہ معاملہ ابھی تک التوا کا شکار ہے اور اس ضمن میں مزید پیش رفت سامنے نہیں آئی.

Tags:

Finger PrintThumb Print
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کنے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا

Next

وزيراعظم آزاد کشمیر نے ”صحافیوں کو جوتے مارنے“ کی بات کس کے لیے کہی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme