Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

کھلونا کار اور خالق کافلسفہ

By Akhtar Rasool
دسمبر 25, 2021 2 Min Read
0

میں نے ایک دن بیٹھے بیٹھے سوچا کہ کیوں ناں ریموٹ والی کھلونا کار بنائی جائے.. چنانچہ الیکٹرونکس مارکیٹ کا رخ کیا اور کار بنانے کا سارا سامان لے آیا.

پورا دن تو لگ گیا، لیکن کار بن کر تیار ہو گئی. اب ریموٹ کا بٹن دبانے پہ کار آگے کی طرف بھاگنے لگتی اور دوسرا بٹن دبانے پر کار پیچھے کی طرف بھاگی چلی آتی. ایک بٹن مزید دبانے پہ کار سائرن بجانے لگتی اور اس کے اوپر لگی بتیاں جلنے بجھنے لگتیں.

کار نے جب خود کو آگے پیچھے دوڑتا سائرن بجاتا اور اپنے اپنے اوپر لگی خوبصورت بتیوں کو جلتے بجھتے دیکھا، تو پگلی خود کو خودکار سمجھ بیٹھی اور اپنے آپ کو سمجھدار گردانتے ہوئے اترانے لگی، لیکن وہ اپنی چھوٹی سی عقل کے باعث جانتی ہی نہیں تھی کہ اس کی ان دیکھی طنابیں اس کے خالق کے ہاتھ میں ہیں.

اس کو دوڑا دوڑا کر ریموٹ کے سیل ختم ہو گئے اور کار جہاں تھی، وہیں رک گئی.. اس کی بتیوں نے بھی جلنا بجھنا چھوڑ دیا. اس اچانک افتاد پر کار بہت گھبرا گئی.

دوبارہ سیدھے راستے پر چلانے کے لئے اس کے خالق نے ریموٹ میں نئے سیل ڈال کر، نئے سگنل بھیجے تو کار کی بتیاں دوبارہ جل اٹھیں اور وہ سیدھے راستے پر فراٹے بھرنے لگی. کار کو محسوس ہو گیا کہ کوئی تو ہے جس نے اس کو بنایا ہے اور اس کا نظام چلا رہا ہے.

چنانچہ وہ سوچنے لگی کہ اسے کس نے تخلیق کیا ہے؟

اس نے اپنے خالق کا سراپا سوچنا شروع کر دیا…

کئی دنوں تک مسلسل غور و خوض کے بعد اس کی ننھی سی عقل میں خالق کا سراپا کچھ یوں آیا کہ اس کا خالق سائز میں اس سے بہت بڑا ہو گا. اس کے چار بڑے بڑے پہیے ہوں گے اور اس کے اوپر لگے سائرن تو بہت ہی بڑے ہوں گے. اس پر جلنے بجھنے والی بتیوں کی روشنی بہت دور دور تک دکھائی دیتی ہوگی اور اس کی رفتار تو میری رفتار سے کئی سو گنا تیز ہوگی. وہ جب مجھ سے مقابلہ کرے گی، تو میری اس کے سامنے کوئی وقعت نہیں ہوگی.

لامحدود طاقتوں کا مالک اس کا خالق، اس کی چھوٹی سی عقل میں آنے والی محدود سوچوں پر مسکرا رہا تھا. کیونکہ اسے معلوم تھا کہ کار اپنے چھوٹے سے ذہن پر جتنا مرضی زور دے لے، اپنے خالق کا سراپا اور اس کی طاقتوں کے بارے جاننا اس کے لئے قطعی ناممکن ہے!

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کوئی ہے جو کارونجھر کو بچائے؟

Next

بلوچستان اور پنجاب میں موسم سرما کی پہلی بارش، پاکستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری متوقع

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme