Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

قائمہ کمیٹی میں قومی نصاب پر بحث: ’ہم آنے والی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہیں‘

By Akhtar Rasool
جنوری 12, 2022 3 Min Read
0

اسلام آباد – سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی و شعبہ جاتی تعلیم نے واحد قومی نصاب میں پاکستان کی جمہوری تاریخ، قومی سطح پر کی گئی ’غلطیوں‘ اور معاشرے کی زبوں حالی کے اسباب شامل کرنے کی سفارش کی ہے

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں بدھ کو ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے متفقہ طور پر واحد قومی نصاب میں وہ تمام تاریخی حقائق شامل کرنے کی سفارش کی جنہیں اب تک چُھپانے کی کوششیں کی گئی

کمیٹی چئیرمین عرفان الحق صدیقی نے اراکین سے اس سلسلے میں سفارشات طلب کیں، جو بعد ازاں واحد قومی نصاب تیار کرنے کے ذمہ دار ادارے نیشنل کریکولم کونسل کو ارسال کی جائیں گی

قائمہ کمیٹی میں واحد قومی نصاب پر بحث کے دوران اراکین نے نئی چھاپی گئی کتابوں میں غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ واحد قومی نصاب کا ’آئیڈیا کنفیوژن‘ کا شکار ہو رہا ہے

اس موقع پر نیشنل کریکولم کونسل کی ڈائریکٹر مریم چغتائی نے چھپی ہوئی کتابوں میں سے غلطیاں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی

چئیرمین کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ ’بحیثیت پاکستانی ہم سب اپنے آپ اور آنے والی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکن سینیٹ عرفان الحق صدیقی کا کہنا تھا کہ ’مستقبل کے معماروں سے پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ ہونے والے سلوک کو چھپایا جاتا ہے، اور آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا جاتا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی کیا وجوہات تھیں۔‘

’ہم انہیں نہیں بتاتے کہ بنگلہ دیش جو ہمارا ایک چھوٹا سا حصہ تھا، آج اتنی ترقی کیوں کر پایا، اور ہم کیوں ہر لحاظ سے پیچھے ہیں۔‘

عرفان الحق صدیقی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سب منافقت سے کام لیتے ہوئے خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بچوں کو حساب اور سائنس تو پڑھاتے ہیں، لیکن انہیں جمہوریت کی تعریف، فوائد اور حمود الرحمن کمیشن کے متعلق نہیں بتاتے، ان چیزوں کو ہم بڑے آرام سے نصاب میں سے نکال دیتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کے پاکستانی نوجوان کو بالکل نہیں معلوم کہ جمہوریت کیا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کے لیے کس نے کیا قربانی دی ہے۔‘

’ہم اپنی جڑوں سے علیحدہ ہو گئے ہیں اوپر ایک خوبصورت گملا رکھ دیا گیا ہے، ہم بچوں کو نہیں بتاتے کہ آمروں نے اس ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا، اس طرح صرف خود کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی دھوکا دے رہے ہیں۔‘

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ پاکستان میں منافقت آج نہیں آئی، بلکہ یہ پہلے سے موجود ہے

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نیا نصاب کامیابی سے پڑھایا جا رہا ہے اور اس میں کوئی مسائل نہیں ہیں

چیئرمین عرفان صدیقی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’ڈاکٹر صاحبہ میرا مطلب آپ کی حکومت سے نہیں تھا، بلکہ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ شروع سے منافقت سے کام لیا گیا ہے۔‘

سینیٹر جام مہتاب حسین ڈھر نے کہا کہ ہم سب اراکین کمیٹی اور سینیٹرز اللہ اور اپنے ضمیر کو جواب دہ ہیں، اور ہمیں تاریخی غلطیوں کی درستی کی یہ کوشش ضرور کرنا چاہیے

اس موقع پر چئیرمین کمیٹی نے تمام اراکین سے دریافت کیا کہ کیا یہ چیزیں واحد قومی نصاب میں شامل کی جانی چاہئیں؟ تو سب نے اس کے حق میں ہاتھ اٹھا کر تائید کی

قائمہ کمیٹی کے چئیرمین نے اراکین کو اس سلسلے میں اپنی تجاویز دینے کو کہا جو نیشنل کریکولم کونسل کو ارسال کی جائیں گی

نیشنل کریکولم کونسل کی ڈائریکٹر مریم چغتائی نے کمیٹی چئیرمین سے استدعا کی کہ انہیں اس کارروائی کے منٹس مہیا کیے جائیں جن کی مدد سے وہ ان سفارشات پر کام کر سکیں گی

اس پر چئیرمین اور بعض دوسرے اراکین نے ڈاکٹر مریم چغتائی کو کہا کہ ان کے لیے مسائل بن سکتے ہیں، جس پر نیشنل کریکولم کونسل کی ڈائریکٹر نے کہا: ’تبھی تو میں منٹس مانگ رہی ہوں آپ سے۔‘

اس سے قبل واحد قومی نصاب پر بحث کے دوران فوزیہ ارشد کا کہنا تھا کہ سکول میں مذہبی تعلیم سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ’ہمارے ہاں فقہ الگ الگ ہے جب کہ ہر بچہ گھر میں قرآن اور نماز سیکھتا اور پڑھتا ہے۔‘

جماعت اسلامی کے مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ پرائمری کلاسوں میں صرف قرآن پڑھایا جاتا ہے، جب کہ بڑی جماعتوں میں اس کا ترجمہ اور کوئی فقہی تعلیم نہیں دی جاتی.

Tags:

Equal Syllabus Pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

طلباء الرٹ: ایچ ای سی نے پاکستان میں جعلی، غیر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں اور اداروں کی فہرست جاری کر دی

Next

کوئٹہ میں پولیس کے لاٹھی چارج سے 10 ڈاکٹرز زخمی، 25 گرفتار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme