Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

’یہ تو ایسے ہی چلے گی‘

By Akhtar Rasool
فروری 20, 2022 4 Min Read
0

پی ٹی آئی حکومت کو اب تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھی بھرپور حمایت و تعاون حاصل رہا ہے اور حزبِ اختلاف نے بھی کبھی بائیکاٹ کر کے تو کبھی غائب رہ کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسودے منظور کرانے کے سلسلے میں ہمیشہ بھرپور تعاون کیا اور کبھی پی ٹی آئی کو قوانین کی پارلیمانی منظوری کے دوران شکست کا داغ نہیں لگنے دیا

چنانچہ اس غیر معمولی و مثالی ساجھے داری کے سبب پی ٹی آئی حکومت نے ایک ہی دن میں تیس سے زائد قوانین بھی قومی اسمبلی سے پاس کروائے اور پھر یہی قوانین سینیٹ سے بھی منظور کروائے جہاں اس کی اکثریت بھی نہیں

اس قدر سازگار فضا کے باوجود پی ٹی آئی حکومت جب سے منڈھے چڑھی ہے تب سے ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہے

محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا،
نا جانے کون کہاں راستہ بدل جائے (عبید اللہ علیم)

اس خوف کے سبب اتنی وفادار پارلیمنٹ کے ہوتے بھی پی ٹی آئی حکومت اب تک کے ساڑھے تین سالہ دور میں 70 سے زائد صدارتی آرڈیننس جاری کروا چکی ہے اور ابھی اس کی مدتِ اقتدار کا ڈیڑھ برس باقی ہے (اگر سب ٹھیک رہا)

پی ٹی آئی شاید خود کو لاشعوری محاصرے میں مورچہ بند پاتی ہے اور یہ آرڈیننس اسے مورچے کے اردگرد حصار باندھنے والی ریت کی بوریاں محسوس ہوتے ہوئے وقتی سکون فراہم کرتے ہیں

اس کے سپاہی فرضی و حقیقی دشمن کی ہر اصلی و تصوراتی گولی کا جواب برسٹ مار کے دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر کمینہ دشمن ہے کہ نہ مرتا ہے نہ دفعان ہوتا ہے

اس حصاری ذہنیت کے سبب بنیادی مسائل کما حقہہ توجہ سے مسلسل محروم ہیں اور ان کا حل عارضی اقتصادی پین کلرز اور براہِ راست و بالواسطہ ٹیکسوں میں مسلسل اضافے میں ڈھونڈا جاتا ہے

مگر معیشت وہ حرافہ ہے جو حکومت کو کمر پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہی اور اپنے ساتھ سرکار کو بھی تگنی نچا رہی ہے

یہ شاید یوں ہے کہ جب کوئی جماعت سیاسی بلوغت کے اعتبار سے پچھلے ساڑھے سات برس سے کنٹینر پر چڑھی ہو اور اس کی پوری سوچ، حکمتِ عملی اور توانائی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیسے موزی دشمنوں کے ارد گرد 24 گھنٹے تانڈو ناچ اور سنگ باری نے چوس لی ہو تو پھر یہ بھی تمیز نہیں رہ پاتی کہ آپ حزبِ اختلاف میں ہیں یا اب اقتدار کی کرسی پر براجمان ہیں

اقتدار کی کرسی پر جمے رہنے کے باوجود سوچ حزبِ اختلافی ہی رہے تو وہی ہوتا ہے جو نظر آ رہا ہے

چنانچہ بس کس پر چلے؟ بس سب سے کمزور ستون پر ہی چل سکتا ہے اور وہ ہے میڈیا اور سوشل میڈیا۔ حالانکہ دونوں کو جانے کتنی بار خبردار کیا جا چکا ہے کہ جس طرح تشدد صرف ریاستی اداروں کی ملکیت ہے اسی طرح کھلی کھلی زبان پر بھی صرف سرکارِ ذی وقار کی مونوپلی ہے

جس طرح تشدد کے بارے میں حقِ ریاست کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اسی طرح بدتمیزی کے معاملے میں سرکار کی رٹ کوئی مائی کا لال چیلنج نہیں کر سکتا

یہ اصول منوانے کے لئے تازہ ترین اقدام یہ کیا گیا ہے کہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سائبر کرائم ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر کسی بھی شخص ( یہاں مراد ہے کابینہ و حکمران پارٹی کے عہدیدار) کی پگڑی اچھالنے یا طنز کا نشانہ بنانے کو قابلِ تعزیر جرم سمجھا جائے گا

اس کی سزا دو برس سے بڑھ کر پانچ برس تک ہو جائے گی اور عدالت کو لازماً چھ ماہ کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ (حالانکہ عدالتی نظام پہلے ہی ایک ملین سے زائد زیرِ تصفیہ مقدمات کے بوجھ تلے سسک رہا ہے)

پاکستان میں ذاتی ہتکِ عزت، حکومتی اداروں اور حساس شخصیات کی توہین کے سلسلے میں کئی پرانے اور نئے قوانین موجود ہیں اور ان کے تحت مقدمات اور دعوی بھی دائر ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا کو لگام دینے کے لئے ادارے اور قوانین بھی نافذ ہیں

ان سب کے اوپر ایک اور ترمیمی قانون لے آنا ایسے ہی ہے گویا ایک دروازہ جس پر پانچ تالے پہلے سے پڑے ہوں اس پر چھٹا تالا بھی منڈھ دیا جائے۔ اس سے دروازے کی سیکیورٹی میں تو زیرو اضافہ ہوگا مگر آپ کا احساسِ عدم تحفظ مزید کھل کے سامنے آ جائے گا

پر کیا کریں؟ کئی برس پہلے میں انڈین الیکشن کی رپورٹنگ کرنے گیا۔ دلی سے باہر ہریانہ جانے والی ہائی وے پر کالا دھواں چھوڑتی آڑی آڑی چلنے والی ایک لاری کے پچھلے بمپر پر ہندی میں لکھا تھا ’یو تو نوئی چلے گی‘۔ (یہ تو ایسے ہی چلے گی).

حوالہ : بی بی سی اردو

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سائنس تاریخ کو کس طرح متاثر کر رہی ہے؟

Next

سرگودھا سے 151 مغوی لڑکیاں بازیاب کرانے کا انکشاف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme