Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پشاور: چابی سے کھلنے والا ’اخروٹ‘

By Akhtar Rasool
مارچ 17, 2022 4 Min Read
0

پشاور – خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آج کل ایک خاص قسم کے خشک میوے کی بڑے چرچے ہیں، اور وہ میوہ ہے ’چابی والا اخروٹ‘

یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ خشک میوہ جات کیلریز کا منبع ہوتے ہیں، تاہم ان میں انسانی جسم کے لیے درکار ضروری اور اہم اجزا جیسے کہ فائبر، پروٹین، وٹامن، منرلز اور صحت کے لیے ضروری چکناہٹ وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں

روئے زمین پر انسان جہاں بودوباش کے نت نئے طریقے جان گیا ہے، وہیں انسانوں میں تجسس اور سیکھنے کی صلاحیت نے اسے انواع و اقسام کے پھلوں، پودوں اور درختوں سے روشناس کروایا ہے

آج سے تقریباً پانچ صدی قبل آسٹریلیا کے مقامی باشندوں نے ایک ایسا خشک میوہ دریافت کیا، جو اپنی مٹھاس اور ذائقے کی وجہ سے ان میں اس قدر مقبولیت حاصل کر گیا کہ وہ بطور خاص اس پھل کو حاصل کرنے کے لیے آسٹریلیا کے شمالی ڈھلوانوں کا سفر کرتے تھے

آسٹریلیا کے یہ مقامی لوگ اس خشک میوے کو مختلف ناموں جیسے ’جینڈل‘،’کینڈل کینڈل‘، ’بوپل‘ اور بومبرا‘ کے ناموں سے یاد کرتے تھے۔ تاہم جدید دنیا میں اس کا نباتاتی نام ’میکیڈیمیا‘ لکھا جاتا ہے

رفتہ رفتہ میکیڈیمیا کی شہرت دیگر ممالک میں بھی پھیل گئی، تاہم ہر ملک کی آب و ہوا اس کے لیے موزوں نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کاشت عالمی سطح پر محدود ہوکر رہ گئی

آج میکیڈیمیا کے مہنگے ترین داموں فروخت ہونے کی ایک دلیل یہی بتائی جاتی ہے

جبکہ دوسری بڑی دلیلوں میں میکیڈیمیا کے درخت کا سات سال بعد پھل دینا اور اس پودے کے دس اقسام میں سے صرف ایک میں پھل دینے کی صلاحیت کا پایا جانا شامل ہیں

دنیا میں میکیڈیمیا کی 90 فیصد کاشت امریکا کی ریاست ہوائی میں کی جاتی ہے، کیوں کہ وہاں کی آب و ہوا اس درخت کے لیے موزوں ترین ثابت ہوئی ہے۔ جہاں معیاری میکیڈیمیا کی پیداوار ان کے لیے کسی رحمت سے کم نہیں سمجھا جاتا

ہوائی کے جزیروں کی سیر پر جانے والے سیاح اپنے پیاروں کے لیے ائیر پورٹ اور بازاروں میں میکیڈیمیا کا تحفہ لینا اپنے دورے کا ایک لازمی جز سمجھتے ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی ہے

’ہوائی اوشن پراجیکٹ‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق، پہلا میکیڈیمیا درخت 1881ع میں ولیم پرویس نے بگ آئی لینڈ پر لگایا تھا جو کہ اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے بہت جلد عوام الناس خصوصاً ان کارخانہ داروں میں جو چینی کے کارخانے لگانے میں دلچسپی رکھتے تھے، میں شہرت حاصل کر گیا، جس کی بدولت آج 90 فیصد میکیڈیمیا ہوائی کی سرزمین پر اگایا جاتا ہے

پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ابھی تک اس پھل کے نام اور شکل سے بھی ایک بڑی تعداد نا آشنا ہے

حال ہی میں پشاور میں ایک فروٹ فروش نے اپنی دکان میں اس میوے کو دستیاب کرکے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں اس کو متعارف کروانے کا اعزاز صرف انہیں حاصل ہوا ہے

حیات آباد کارخانو مارکیٹ میں واقع نایاب فروٹ فروش کے مالک گل ولی خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہمیشہ نایاب خشک میوہ جات جمع کرنے اور فروخت کرنے کا شوق رہا ہے، اور یہی شوق انہیں میکیڈیمیا کو جاننے میں مددگار ثابت ہوا

انہوں نے کہا ”یہ اخروٹ جو ذائقے کے اعتبار سے پستے، بادام، کاجو سے بھی زیادہ ذائقہ دار ہے، ایک چابی سے کھلتا ہے۔ اس کا خول اتنا سخت ہے کہ اس کو ٹرک کے نیچے بھی رکھ دو تو یہ نہیں ٹوٹے گا“

گل ولی نے بتایا ”میں نے یہ میوہ آسٹریلیا سے منگوایا ہے، اور اس کی چابی بھی وہیں سے اس میوے کے ساتھ وہ درآمد کرتے ہیں۔“

ان کا کہنا ہے کہ ”جو بھی دکان پر آتا ہے اور اس کا ذائقہ چکھتا ہے، وہ اس کو ضرور خریدتا ہے اور آگے دوستوں کو بھی گفٹ کرتا ہے“

گل ولی نے فی کلو میکیڈیمیا کی قیمت پانچ ہزار بتائی، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کی قیمت اوپر جا سکتی ہے

دکان پر انٹرویو کے دوران کئی خریداروں نے ’چابی والے اخروٹ‘ نام لے کر اس کے بارے میں پوچھا، تاہم اکثریت قیمت کا سن کر لوٹ گئی

تاہم آس پاس کے دیگر خشک میوہ فروخت کرنے والے جن کے پاس میکیڈیمیا دستیاب نہیں تھا، انہوں نے اس میوے کو ایک دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا ”چین نے مصنوعی انڈہ تک ایجاد کرلیا، مصنوعی اخروٹ ایجاد کرنا کون سا مشکل ہے۔ یہ پھل نہیں کوئی دھوکہ نظر آتا ہے“

میکیڈیمیا کے حوالے سے چند حقائق

کہا جاتا ہے کہ جس قدر یہ پھل انسانوں کے لیے بعض اہم نباتاتی اجزا کی وجہ سے اہم سمجھا جاتا ہے، اسی قدر یہ کتوں اور بلیوں کے لیے نقصان دہ ہے اور اگر وہ اس کو کھالیں تو ان میں تقریباً بارہ گھنٹے کے لیے چلنے پھرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے

اس میں چکناہٹ کی وافر مقدار کی وجہ سے میکیڈیمیا کا تیل بالوں کی خشکی دور کرنے کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے

میکیڈیمیا کو انگریزی میں زیادہ تر ’نٹ‘ کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ دراصل ایک بیج ہے

بعض طبی ویب سائٹس کے مطابق، میکیڈیمیا میں کاپر، میگنیز اور تھایامن وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ کاپر انسانی جسم میں آئرن کو جذب کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، جب کہ میگنیز اور تھایامن جسم میں کاربوہائیڈریٹ میٹابولزم کے لیے ضروری ہوتے ہیں

طبی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دس سے بارہ میکیڈیمیا بیج میں 203 کیلیوریز اور 21.4 گرام چکناہٹ ہوتی ہے

تاہم جن میکیڈیمیا بیجوں کے اوپر چاکلیٹ کی تہہ جمائی گئی ہوتی ہے، اس میں کیلوریز کی تعداد مزید زیادہ بڑھ جاتی ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری: انوکھا اعزاز پانے والے پشاور کے باپ بیٹی کی کہانی

Next

صرف ساڑھے تین سال

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme