Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ہرنائی کوئلہ کان میں پھنسے کان کنوں کو چار دن بعد ’معجزانہ طور‘ پر زندہ کیسے نکالا گیا

By Akhtar Rasool
مارچ 27, 2022 3 Min Read
0

کوئٹہ – بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلے کی کان میں تقریباً تیرہ سو فٹ گہرائی میں پھنسے ہوئے تین کان کنوں کو ایک سو پانچ گھنٹے بعد ہفتے کے روز زندہ نکال لیا گیا

حکام کا کہنا ہے کہ چار دنوں بعد کان کنوں کا گیس دھماکے سے منہدم ہونے والی کان سے زندہ نکل آنا کسی معجزے سے کم نہیں

کان کنوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا

ڈپٹی کمشنر ہرنائی سردار محمد رفیق ترین کے مطابق تین کان کن 22 مارچ کی صبح سے کان میں پھنسے ہوئے تھے اور ان تک پہنچنے کے لیے قریب واقع دو دوسری کانوں سے سرنگیں کھود کر رسائی حاصل کی گئی

چیف انسپکٹر مائنز عبدالغنی نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والے کان کن چار دن تک کان کے اندر بھوکے پیاسے رہے

انہوں نے بتایا کہ ایک سو پانچ گھنٹوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جب انہیں نکالا گیا تو کان کن بہت ڈرے ہوئے تھے اور ذہنی تناؤ کا شکار تھے

پی پی ایچ آئی کی ٹیم نے موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر ریفر کر دیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے

واضح رہے کہ کوئٹہ اور ہرنائی کے درمیانی علاقے زرغون غر میں واقع کوئلے کی کان میں حادثہ گیس دھماکے کے باعث پیش آیا تھا جس سے کان کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر ہرنائی رفیق ترین نے بتایا کہ حادثے کے وقت کان میں چھ کان کن کام کر رہے تھے جن میں سے تین کو ساتھی کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندہ نکال لیا تھا جبکہ تین کان کن تیرہ سو فٹ کی گہرائی میں پھنس گئے تھے

چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان عبدالغنی نے کہا کہ متاثرہ کان میں آکسیجن کی فراہمی اور گیس کے اخراج کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں تھا اور اسی بنیاد پر اسے دو سال پہلے بند کر دیا گیا تھا لیکن کان کے مالک اور ٹھیکیدار نے غیر قانونی طور پر کام شروع کرا دیا تھا

انہوں نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے کان میں گیس جمع ہو گئی تھی اور دھماکا ہوا، جس سے کان کا چار سو سے پانچ سو فٹ حصہ بیٹھ گیا تھا

چیف انسپکٹر مائنز کے مطابق اتنے بڑے حصے سے ملبہ ہٹانا بہت مشکل تھا، اسی لیے قریب واقع دو دوسری کوئلہ کانوں سے متاثرہ کان کے لیے متبادل راستہ بنانے کی غرض سے کھدائی کا کام شروع کیا گیا۔
چار دنوں میں سو فٹ سے زائد لمبی متبادل سرنگ کھود کر کان کنوں کو باہر نکالا گیا

انہوں نے بتایا کہ آکسیجن کی فراہمی اور گیس کے اخراج کے لیے کان کے باہر بڑے پنکھے لگائے گئے، جس کی مدد سے پھنسے ہوئے کانکنوں کو چار دنوں تک زندہ رہنے میں مدد ملی

مقامی حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن میں محکمہ معدنیات کی چار ٹیموں کے ساتھ ساتھ پی پی ایچ آئی اور لیویز فورس کے اہلکار وں نے بھی حصہ لیا۔ ریسکیو آپریشن کےدوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران متعدد ریسکیو اہلکار فوڈ پوائزئنگ کا بھی شکار ہوئے

ڈپٹی کمشنر رفیق ترین کا کہنا ہے کہ متاثرہ کان کے مالک اور ٹھیکیدار کے خلاف مجرمانہ غفلت اور مائنز ایکٹ کی خلاف ورزی پر کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو لکھ دیا گیا ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مسلم لیگ (ق) کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی یقینی دہانی، ایم کیو ایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

Next

کھیرتھر میں ڈرلنگ کی اجازت پر سندھ حکومت کو مخالفت کا سامنا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme