Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ریاست کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث شاعر اشو لال کا ایوارڈ لینے سے انکار

By Akhtar Rasool
اپریل 2, 2022 3 Min Read
0

سرائیکی زبان کے معروف شاعر اور ادب محمد اشرف المعروف ڈاکٹر اشو لال نے پاکستان لیٹرز آف اکیڈمی (پی ایل اے) کی جانب سے دس لاکھ روپے کے نقعد انعام کا اعلیٰ ترین ادبی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا

تفصیلات کے مطابق اشو لال نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پاکستان لیٹرز آف اکیڈمی کی جانب سے اعلان کردہ ایوارڈ کو نہ لینے کا اعلان کیا

ان کی جانب سے ایوارڈ نہ لینے کی پوسٹ کیے جانے کے بعد ڈان نے جب ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے ریاست کی عوام دشمن اور آرٹ مخالف پالیسیوں کے باعث اعلیٰ ترین ادبی ایوارڈ لینے سے انکار کیا ہے

پاکستان لیٹرز آف اکیڈمی نے حال ہی میں اشو لال کے علاوہ معروف مصنف اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کو اعلیٰ ترین ایوارڈز دینے کا اعلان کیا تھا

ڈاکٹر اشو لال 13 اپریل 1959 میں محمد اشرف کے نام سے پیدا ہوئے، بعد ازاں انہوں نے والدہ کی جانب سے عطا کردہ نام اشو لال اپنایا

انہوں نے ایوارڈ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے سرائیکی میں کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ ان کا انکار ایوارڈ لینے سے زیادہ اہم ہے کیوں کہ ان کی چالیس سالہ ادبی سرگرمیاں ہیں ان کا انعام ہیں اور یہ کہ وہ بریکٹ میں نہیں رہنا چاہتے

اشو لال نے کہا کہ ریاست مقامی لوگوں کے وسائل اور ثقافت پر ظلم کر رہی ہے، فاشسٹ حکومت میں بچے لاپتہ ہو رہے ہیں، حکومت نے مقامی لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا ہے، یہ حکومت عوام اور آرٹ دشمن ہے، اس سے کیسے ایوارڈ لے سکتا ہوں؟

انہوں نے سرکاری ایوارڈز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈز زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں، ان کی اہمیت فوٹوسیشن سے زیادہ نہیں ہوتی

ڈاکتر اشو لال نے کہا کہ وہ کسی ایسے صدر سے ایوارڈ لینا نہیں چاہتے جو ان کا نام تک نہ جانتے ہوں

انہوں نے ایوارڈ کے لیے منتخب کرنے پر لیٹرز اکیڈمی کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے کوئی کتاب ادارے کو نہیں بھجوائی تھی جب کہ ماضی میں 1997 میں ان کے ایک دوست نے ذاتی طور پر ان کی کتاب اکیڈمی کو بھجوائی تھی، جس کے بعد تاحال آج تک انہوں نے کوئی کتاب وہاں نہیں بھجوائی

انہوں نے کہا کہ سرائیکی خطے کو معاشی طور پر غیر مستحکم رکھا جا رہا ہے، حکومت مقامی لوگوں کا خیال نہیں رکھتی اور یہاں کے لوگوں کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے، جس وجہ سے وہ ایوارڈ نہیں لے رہے

انہوں نے کہا کہ اب وہ باسٹھ برس کے ہوچکے ہیں، انہوں نے چالیس سال تک ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور وہی ان کا سرمایہ ہیں اور وہ موجودہ استحصالی حکومت سے ایوارڈ لے کر کیسے اپنی جدوجہد کو ضائع کیوں کریں؟

اشو لال نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی مقامی زبان کے خلاف نہیں ہیں، وہ پنجابی بولنے والوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسکولوں میں پنجابی میڈیم کو رائج کیا جائے، لوگوں کو مادری زبان میں تعلیم نہ دینا بھی انہیں محروم رکھنے کا ایک ریاستی حربہ ہے

اشو لال اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے کلچر ونگ کے صدر کے طور پر ذمہ داریاں بھی ادا کر رہے ہیں، وہ اس وقت ضلع لیہ میں کلینک چلاتے ہیں، جہاں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے

اشو لال پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں، انہوں نے قائد اعظم میڈیکل بہاولپور سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد تقریبا پورے خطے میں بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیں اور بعض اوقات انہوں نے ایسے مقامات پر بھی فرائض سر انجام دیے، جہاں پر کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی کرنے کو تیار نہ تھا

اشو لال کی اب تک سرائیکی شاعری اور مختصر کہانیوں کی چھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور وہ زمانہ طالب علمی سے ادب سے وابستہ ہیں

انہوں نے ایوارڈ لینے سے انکار کے بعد زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک فاشسٹ ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے جو کہ نصابی کتابوں کے ذریعے بچوں کے دماغوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے

اشو لال کے مطابق ریاست دماغی ڈاکہ ڈالنے کے بعد نئی نسل سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے اور پھر وسائل پر قابض ہوجاتی ہے.

Tags:

PakistanPresidentPresident AwardSeraiki Scholar
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ریکوڈک منصوبہ: ایک اور ’ڈیل‘ کا الزام… معاملہ کیا ہے؟

Next

لومڑی مرغیوں کی حفاظت کر رہی ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme