Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

بچوں کو دودھ پلانے والی پلاسٹک کی بوتلیں کتنی خطرناک ہیں؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 20, 2020 2 Min Read
0

سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کو دودھ پلانے والی پلاسٹک کی بوتلوں کو اگر زور سے ہلایا جائے تو اس عمل سے پلاسٹک کے لاکھوں ذرات دودھ میں چلے جاتے ہیں جو آخر کار نومولود کے جسم میں  پہنچ جاتے ہیں

ماہرین کے مطابق اگر ایک لیٹر پاؤڈر والے دودھ کو بوتل میں ہلایا اور ملایا جائے تو دس سے چالیس لاکھ باریک ذرات بھی دودھ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ تاہم اب تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ خردبینی پلاسٹک بچے کے لیے مضر ہوسکتی ہیں یا نہیں

اس ضمن میں ٹرنینٹی کالج ڈبلن کے سائنسداں جان بولینڈ کہتے ہیں کہ بچوں کی بوتلیں پولی پروپائلین پلاسٹک سے بنی ہوتی ہیں اور 69 فیصد بوتلیں اسی قسم کے پلاسٹک پر مشتمل ہوتی ہیں۔

پلاسٹک کے ذرات کے لیے سائنسداں جان بولینڈ نے کچھ تجربات کئے۔ پہلے نئی فیڈر بوتلیں خریدیں اور انہیں دھوکر خشک کیا گیا۔ پھر اس میں صاف پانی ڈالا گیا اور پانی کو 70 سینٹٰی گریڈ پر گرم کیا گیا تھا۔ کیونکہ دودھ فارمولہ بنانے کے لیے پانی کو اسی درجہ حرارت تک گرم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بوتل کو ہلایا تو ایک لیٹر پانی میں پلاسٹک کے چالیس لاکھ ذرات نوٹ کئے گئے۔

اس کے بعد ماہرین نے فارمولہ دودھ تیار کیا اور اس میں بھی پلاسٹک کے اتنے ہی ذرات نوٹ کئے گئے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس طرح پلاسٹک کی بہت بڑی مقدار دودھ یا کسی بھی مائع میں شامل ہوجاتی ہے۔ لیکن پلاسٹک کے یہ ذرات بہت باریک ہوتے ہیں

جان بولینڈ کہتے ہیں کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر اشیاء دھیرے دھیرے گھلتی ہیں اور ان سے ذرات خارج ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہاں تک کہ بوتل کو ہلانے سے بھی پلاسٹک کے لاکھوں ذرات خارج ہوتے ہیں جو ایک حیرت انگیز بات ہے

سائنسدانوں کے مطابق ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ  یہ ذرات کس قدر نقصان دہ ہیں۔ تب تک ان کا مشورہ ہے کہ بچوں کا دودھ کسی دھاتی برتن میں گرم کرلیں یا فارمولہ بنالیں۔ اس کے بعد ہلاکر اسے بوتل میں ڈال کر بچے کو پلایا جائے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیسبک نے سو زبانوں میں ترجمہ کرنے والا مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کر لیا

Next

ﺍٓﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺟﻨﺮﻝ ﻗﻤﺮ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﺑﺎﺟﻮﮦ ﻧﮯ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﭨﺲ لے لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme