Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

اسلام آباد ہائی کورٹ کا حنیف عباسی کے تقرر پر وزیراعظم کو نظر ثانی کا حکم

By Akhtar Rasool
مئی 9, 2022 6 Min Read
0

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو حنیف عباسی کے بطور معاون خصوصی تقرر پر نظر ثانی کا حکم دے دیا

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف خود بھی منی لانڈرنگ کرنے کے ایک کیس میں اس وقت ضمانت پر ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کی حنیف عباسی کو وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرنے سے فوری طور پر روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے

حنیف عباسی کو وزیراعظم کا معاون خصوصی بنانے کے خلاف سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی

سماعت کے آغاز پر شیخ رشید کے وکیل سجیل شہریار سواتی نے عدالت کو بتایا کہ ایک سزا یافتہ مجرم کو وزیراعظم کا معاون خصوصی بنایا گیا ہے

چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا حنیف عباسی کی سزا معطل ہوئی ہے؟ اور کیا سزا کی معطلی کے بعد کیس کی کوئی سماعت نہیں ہوئی

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی سزا معطل ہوئی ہے، اس کے باوجود حنیف عباسی کو معاون خصوصی بنا دیا گیا جبکہ سزا معطلی کے بعد چار سال سے ابھی تک کیس کی سماعت بھی نہیں ہوئی

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں موجود شیخ رشید سے استفسار کیا کہ شاید لوگوں کو یقین نہیں ہے کہ عدالتیں سب کے لیے ہیں، جلسوں میں کہا جا رہا ہے کہ عدالتیں رات بارہ بجے کیوں کھولی گئیں اور عدالتیں آزاد نہیں ہیں

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کے وکلا نے یقیناً آپ کو بتایا ہو گا کہ رولز کے مطابق چیف جسٹس کسی بھی وقت کیس کی سماعت کرسکتے ہیں، 2014 میں رات کو 11 بجے پی ٹی آئی ورکر جو حراست میں تھے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا

یاد رہے کہ اینکر پرسن ارشد شریف کی جانب سے انہیں ہراساں کیے جانے کی پٹیشن کی سماعت کے دوران اسی حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا ”رات کو بارہ بجے عدالتیں پِسے ہوئے طبقات کو رلیف دینے کے لیے کھولی تھیں“

چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں لاپتہ افراد اور بلوچ طلبہ کے کیسز ہیں، عوام کا اعتماد خراب نہ کیا جائے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو ہدایت کی کہ حنیف عباسی کے بطور معاون خصوصی تقرر پر نظر ثانی کی جائے اور کیس کی سماعت 17 مئی تک کے لیے ملتوی کر دی گئی

کیس کا پس منظر

واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے (ن) لیگ کے رہنما حنیف عباسی کی بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا

شیخ رشید نے وکیل سجیل شہریار سواتی کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق کو کابینہ سیکریٹری کے ذریعے اور (ن) لیگ کے رہنما کو فریق بنایا تھا

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب نئے تعینات ہونے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ایفیڈرین کیس میں ملوث حنیف عباسی نے شیخ رشید کی وِگ ان کے سر سے اتار کر لانے والے کو پچاس ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا، جبکہ لیگی رہنما کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا

درخواست میں شیخ رشید کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ حنیف عباسی کو 27 اپریل کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا، جبکہ نوٹیفکیشن اور ان کا تقرر دونوں غیر قانونی، غیر آئینی، اچھی طرز حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے مؤقف اپنایا کہ 21 جولائی 2012 کو حنیف عباسی کے خلاف راولپنڈی میں منشیات کنٹرول ایکٹ 1997 کے سیکشن 9 سی، 14 اور 15 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی

حنیف عباسی کے خلاف درج کی گئی مذکورہ ایف آئی آر کے حقائق کے مطابق حنیف عباسی نے دیگر لوگوں کے ہمراہ اپنی فرم گرے فارماسیوٹیکل کے لیے 500 کلوگرام ایفی ڈرین حاصل کی اور اس کے بعد انہوں نے طبی مقاصد کے لیے ایفی ڈرین استعمال کرنے کے بجائے اسے منشیات کے اسمگلروں کو فروخت کرکے غیر قانونی طور پر فائدہ اٹھایا

درخواست گزار نے یہ بھی کہا تھا کہ حنیف عباسی کو ٹرائل کورٹ نے 2018 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ حنیف عباسی نے بعد میں اس سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور سزا کی معطلی اور ضمانت کے لیے الگ درخواست بھی دائر کی

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 11 اپریل 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے حنیف عباسی کی سزا صرف معطل کی تھی، ختم نہیں کی

شیخ رشید نے درخواست میں دلیل دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاون خصوصی کا عہدہ ایک باوقار منصب ہے جبکہ ایک سزا یافتہ شخص کا، خاص طور پر وہ شخص جو منشیات جیسے غیر اخلاقی کاروبار کے لیے سزا یافتہ ہو، اس کا ایسے عہدے پر فائز ہونا کسی طور پر بھی موزوں اور مناسب نہیں

سابق وزیر نے اپنی درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حنیف عباسی کی صرف سزا کو معطل کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ فرد جرم ابھی ان پر عائد ہے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کرکے قانون کی حکمرانی اور آئین کا مذاق اڑایا

شیخ رشید نے اپنی درخواست میں عدالت سے اپیل کی تھی کہ مدعا علیہان کو ہدایت دی جائیں کہ وہ بتائیں کہ حنیف عباسی کو کس قانون کے تحت وزیر اعظم کا معاون خصوصی تعینات کیا گیا

یاد رہے کہ ایفی ڈرین کیس مارچ 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت، دو فارماسیوٹیکل کمپنیوں برلیکس لیب انٹرنیشنل اور ڈاناس فارماسیوٹیکل لمیٹڈ کو 9 ہزار کلوگرام ایفی ڈرین کے مبینہ طور پر مختص کوٹے کی تحقیقات کرے گی

قواعد کے مطابق کسی کمپنی کو 500 کلوگرام سے زیادہ منشیات کا پروڈکشن کوٹہ مختص نہیں کیا جا سکتا، یہ حد انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول بورڈ (آئی این سی بی) نے مقرر کی ہے

اس معاملے پر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے جون 2012 میں حنیف عباسی سمیت 9 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا

2018 میں حنیف عباسی منشیات کے اسمگلروں کو 500 کلوگرام ایفی ڈرین فروخت کرنے کے مجرم پائے گئے تھے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اپنی فرم یعنی گرے فارماسیوٹیکل کے لیے 500 کلوگرام ایفی ڈرین حاصل کی تھی اور اسے بعد میں انہوں نے طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے منشیات کے اسمگلروں کو فروخت کردیا تھا

لیگی رہنما پر عمر قید کے ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اس کیس میں دیگر افراد کو بری کر دیا گیا

راولپنڈی کی سی این ایس عدالت نے 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے کچھ روز قبل حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی

اس کے بعد حنیف عباسی نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی

راولپنڈی بینچ کے دو ججز نے ایفی ڈرین کیس میں لیگی رہنما کی اپیل کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا جبکہ کیس لاہور ہائی کورٹ کے لاہور بینچ کو منتقل کردیا گیا تھا

اپریل 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے حنیف عباسی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا معطل کر دی تھی اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا

جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حنیف عباسی کی سزا معطل کرنے کی درخواست منظور کرلی تھی جبکہ کیس کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارت: ہڑپہ دورکا 5 ہزار سال پرانا شہر دریافت

Next

میاں شہباز شریف کا جوش خطابت اور علامہ اقبال کا 1857 کی جنگ آزادی میں شاعری کرنا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme