Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

نیوزی لینڈ میں لاعلاج مریضوں کو ہمدردانہ موت کی اجازت دے دی گئی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 30, 2020 2 Min Read
0

نیوزی لینڈ کے عوام نے ریفرنڈم میں لاعلاج مریضوں کو ہمدردانہ موت کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے

گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں ہمدردانہ موت پر استصواب رائے کرایا گیا جس میں 65.2 فیصد ووٹ اس کے حق میں ڈالے گئے جس کے نتیجے میں ملک میں موت کے حق کے قانون 2019 کی منظوری دے دی گئی ہے

منظور ہونے والے اس نئے قانون کے تحت ایسے لاعلاج مریض جن کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہو کہ وہ 6 ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گے، انہیں اپنی مرضی سے ہمدردانہ موت کو گلے لگانے کی اجازت ہوگی اور اس کے لیے دو ڈاکٹروں کی منظوری درکار ہوگی

نئے قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میں احتیاطی تدابیر اور مناسب حفاظتی اقدامات کا دھیان نہیں رکھا گیا۔

نیوزی لینڈ کی حکومت کے لیے اس استصواب رائے پر عمل درآمد لازمی ہے اور نومبر 2021ع سے ملک میں یہ قانون نافذ ہوجائے گا جس کے بعد  نیوزی لینڈ بھی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں ہمدردانہ موت قانونی ہے۔ دیگر ممالک میں نیدر لینڈز اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ میں ہمدردانہ موت کے ساتھ ساتھ حشیش، گانجا جیسی منشیات کو قانونی قرار دینے پر بھی استصواب رائے کرایا گیا، جسے عوام نے معمولی فرق سے مسترد کر دیا۔ اس قانون کے خلاف 53.1 اور حق میں 46.1 ووٹ ڈالے گئے

ہمدردانہ موت کے قانون کو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن اور اپوزیشن لیڈر جوڈتھ کولنز دونوں کی حمایت حاصل تھی اور اسی لیے اس کے منظور ہونے کے بھی کافی امکانات تھے۔

واضح رہے کہ ہمدردانہ موت میں لاعلاج مریض کو مرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سعودی عرب کے نئے کرنسی نوٹ پر بھارت کا شدید ردعمل

Next

سائنسدانوں نے ایسی کشتی بنا لی جو، جسے انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ پائ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme