Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سائنسدانوں نے ایسی کشتی بنا لی جو، جسے انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ پائ

By Akhtar Rasool
اکتوبر 30, 2020 2 Min Read
0

ہالینڈ: سائنسدانوں نے الیکٹرون خردبین، تھری ڈی پرنٹنگ اور دوسری جدید ٹیکنالوجی سے دنیا کی سب سے چھوٹٰی کشتی تیار کی ہے۔ یہ انسانی آنکھ سے بھی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اس کی جسامت صرف تیس مائکرو میٹر ہے، جی ہاں، صرف تیس مائکرو میٹر!

تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کی لائڈن یونیورسٹی نے کشتی نما یہ شے ایک تحقیقی منصوبے کے تحت بنائی ہے جس میں ایسے مختصر روبوٹ بنانے تھے، جو انسانی جسم یا خون کی رگوں میں دوڑ سکیں۔ ایسے روبوٹ  بنانے کا مقصد ان کو  بہت سے طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا تھا

یاد رہے کہ لکڑی کی کشتی کا یہ انتہائی مختصر ماڈل تھری ڈی پرنٹر سے چھاپا گیا ہے جو ایسے پرنٹراور اس کی ٹیکنالوجی کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے

لائڈن یونیورسٹی کی ماہرِ طبیعیات ، ڈینیئلا کرافٹ  کہتی ہہیں کہ اگر کسی مادی شے کے ایک قطرے میں لیزر پہنچائی جاسکتی ہے تو حسبِ ضرورت اشیاء ڈھالنا آسان ہوتا ہے۔ یعنی اگر لیزر کو ڈی این کی شکل میں گھمایا جائے تو اس طرح آپ ڈی این اے ہی بنارہے ہوتے ہیں

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ٹیم نے لیزر اور تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے کئی خردبینی اشیاء بھی بنائی ہیں۔ ان میں خلائی جہاز، گیندیں، اور دیگر اشکال شامل ہیں۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ جس طرح ہمارے جسم میں بیکٹیریا، الجی اور نطفے تیر کر سفر کرتے ہیں، اسی طرح سے ایسے خردبینی روبوٹ بھی تیار کیے جائیں جو تیر کر انسانی جسم میں ایک سے دوسرے مقام پر جا سکیں

اگر ایسے روبوٹ بن گئے تو یہ جسم کے مطلوبہ مقام تک دوا پہنچانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں جو اس وقت طبی سائنس میں ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس کی تفصیلات سافٹ میٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہیں ۔ فی الحال یہ ایجاد بیکٹیریا کے نقل و حکم کو سمجھنے کی کوششوں تک ہی محدود ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نیوزی لینڈ میں لاعلاج مریضوں کو ہمدردانہ موت کی اجازت دے دی گئی

Next

یہ تو وہی جگہ ہے… کراچی میں پیش آنے والا ایک انوکھا واقعہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme