Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کراچی: غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ سترہ سالہ لڑکی رکشہ چلانے پر مجبور

By Akhtar Rasool
جون 13, 2022 2 Min Read
0

غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے پریشان سندھ کے دارالحکومت کراچی کی ایک باہمت لڑکی معاشرتی روایات کے برخلاف رکشہ ڈرائیور بننے پر مجبور ہو گئی ہیں

کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ کی علیشہ نامی لڑکی نے رکشہ چلانا شروع کیا ہے، جس کی آمدنی سے وہ گھر کی کفالت کے ساتھ اپنے معاشی حالات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے پر عزم ہیں

گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی علیشہ کا کوئی بھائی نہیں ہے اور وہ اپنے والد کا خواب پورا کرتے ہوئے ان کا بیٹا بن کر معاشرتی روایات کو خاطر میں لائے بغیر رکشا چلا رہی ہے

اس حوالے سے باہمت علیشہ کہتی ہیں ”والدہ اور ایک بہن کی کفالت کا چیلنج درپیش تھا تو تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے ایک سال پہلے سے رکشہ چلانا شروع کر دیا“

رکشہ علیشہ کے والد نے لے کر دیا تھا، اسی لیے انہوں نے والد کی یاد میں رکشے پر اشعار لکھوائے جو اس کو ہمت دیتے ہیں اور انہیں پڑھ کر لوگ ان کی ہمت اور حوصلے کو سراہتے بھی ہیں

علیشہ کا کہنا تھا کہ وہ دو کمروں کے کرایے کے مکان میں اپنی والدہ اور غیر شادی شدہ بہن کے ساتھ رہتی ہیں، جبکہ چار بہنوں کی شادی ہو چکی ہے جو اپنے گھروں میں خوش ہیں

علیشہ نے رکشہ چلانے سے متعلق بتایا کہ وہ تعلیم صرف آٹھ جماعت تک حاصل کر سکیں اور مختلف فیکٹریوں میں چند ہزار کی ملازمت کی پیشکش کے سوا روزگار کا کوئی وسیلہ نہیں تھا، جبکہ خاندان والوں نے بھی کوئی مدد نہیں کی اور ان کٹھن حالات کو دیکھتے ہوئے اس نے رکشا چلانے کا عزم کر لیا

علیشہ کے بقول گرمی ہو یا سردی، بارش ہو يا کیسا بھی موسم ہو وہ صبح 8 بجے گھر سے رکشا لے کر نکل جاتی ہیں اور شام 7 بجے تک گھر واپس آجاتی ہیں

علیشہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے کمائی کا بڑا حصہ اس میں لگ جاتا ہے اور جس طرح سے وہ محنت کر رہی ہے اس حساب سے آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر گھر کا خرچہ پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں

علیشہ کی والدہ سلمیٰ کا کہنا تھا کہ علیشہ گھر کی واحد کفیل ہے، کبھی کبھی کمائی بہت کم ہوتی ہے، لیکن صبر و شکر کر لیتے ہیں

انہوں نے بتایا کہ جب میری بیٹی نے مجھے پہلی دفعہ اپنی محنت کی کمائی دی تو میرا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ میں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ ہر بیٹی اپنے ماں باپ کا سہارا بنے۔

Tags:

InflationPakistanPovertyunemployment
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا پانی کی شدید ہوتی قلت حکومتی ترجیحات میں شامل بھی ہے؟

Next

پاکستان میں پہلی بارذہنی رویوں کو پڑھنے والی تجربہ گاہ قائم

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme