Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

انکوگنیٹو موڈ پر کچھ بھی دیکھنا پرائیویٹ نہیں ہوتا، تحقیق

By Akhtar Rasool
ستمبر 29, 2022 2 Min Read
0

عام طور پر اکثر انٹرنیٹ صارفین گوگل کروم ویب براﺅزر پر انکوگنیٹو موڈ کو یہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں کہ اس طرح ویب سائٹس ان کی شناخت نہیں کر سکیں گی یا یوں کہہ لیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں، اس کو ٹریک نہیں کرسکیں گی

لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے ایک تحقیق کے نتائج سے اس تاثر کی مکمل نفی ہوتی ہے اور یہ تحقیق اس تاثر کو محض خام خیالی ثابت کرتی ہے

تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انکوگنیٹو موڈ میں اگر صارف کسی قسم کا فحش مواد دیکھ رہا ہے تو گوگل، فیسبک اور یہاں تک کہ اوریکل کلاﺅڈ سمیت متعدد کمپنیاں خفیہ طور پر اس کی ٹریکنگ کر رہی ہوتی ہیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں

مائیکرو سافٹ، کارنیگی میلون یونیورسٹی اور پنسلوانیا یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بائیس ہزار سے زائد فحش ویب سائٹس کا ایک ٹول کے ذریعے جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ 93 فیصد پیجز صارف کو ٹریک کرتے ہوئے صارفین کا ڈیٹا تھرڈ پارٹی اداروں کو لیک کر دیتے ہیں

محققین کے مطابق ان فحش مواد پر مبنی سائٹس کی ٹریکنگ کئی بڑی کمپنیاں کرتی ہیں اور مجموعی طور پر دو سو تیس مختلف کمپنیوں اور سروسز کی شناخت ہوئی، جو صارفین کو ٹریک کرتی ہیں

محققین کے مطابق گوگل 74 فیصد سائٹس کو ٹریک کرتی ہے، اوریکل 24 فیصد جبکہ فیسبک 10 فیصد ویب سائٹس کی ٹریکنگ کرتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ایسی بڑی کمپنیوں کی اکثریت امریکا سے تعلق رکھتی ہے اور فحش مواد والی ویب سائٹس کی پرائیویٹ پالیسیاں ایسی ہوتی ہیں، جن کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، تاہم ہمارے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ویب سائٹس میں مخصوص جنس کی شناخت یا صارف کی دلچسپی جیسے ڈیٹا کو لیک کیا جاتا ہے

محققین نے ایک لیپ ٹاپ میں پورن دیکھنے کے لیے جیک کے نام سے پروفائل تیار کی اور براﺅزر پر انکوگنیٹو موڈ پر براﺅزنگ کی

محققین کے مطابق بیشتر افراد یہ نہیں جانتے کہ انکوگنیٹو موڈ صرف براﺅزنگ ہسٹری کو کمپیوٹر میں اسٹور نہیں کرتا، تاہم جن سائٹس پر صارف جاتا ہے، وہ اور تھرڈ پارٹی ٹریکرز صارف پر نظر رکھ کر آن لائن اقدامات کو ریکارڈ کر سکتے ہیں

بعد ازاں فحش مواد کو دیکھنے والوں کا ڈیٹا اشتہارات دکھانے کے مقاصد لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا کیا جاتا ہے

اس طرح صارفین کے سرچنگ اور براؤزنگ ڈیٹا کے مطابق ہی ان کی اسکرین پر اشتہارات نمودار ہوتے رہتے ہیں۔

Tags:

Chromegoogleincognito modePrivacy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایران: سابق صدر رفسنجانی کی بیٹی گرفتار، ایران کا عراقی کردستان پر حملہ

Next

قطر فٹبال ورلڈ کپ میں ڈنمارک کی ٹیم ’احتجاجی جرسی‘ پہنے گی!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme