Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا رجحان کیوں نہیں؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 26, 2022 3 Min Read
0

ملک میں بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر ٹریفک میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کا مربوط نظام نہ ہونا ہے، جس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ آمد و رفت کے لیے ذاتی سواری کا استعمال کرتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ان مسائل کا سامنا سب سے زیادہ ہے

اگر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی بات کی جائے تو یہاں ٹریفک پولیس نے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی طرح کی تحقیقات کروائی ہیں، جن میں حیرت انگیز اعداد و شمار سامنے آئے ہیں

ٹریفک پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں اس وقت 77 لاکھ موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلائی جاتی ہیں، جبکہ سات لاکھ افراد نے گاڑی یا موٹرسائیکل چلانے کے لائسنس لے رکھے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں نوے فی صد ڈرائیور بغیر لائسنس کے ہی سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں

غالباً اسی وجہ سے حال ہی میں صوبے کی ہائی کورٹ نے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے والوں پر کم از کم دو ہزار روپے جرمانہ کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ اس سے پہلے قانونی طور پر گاڑیوں کے لیے یہ جرمانہ پانچ سو روپے، جبکہ موٹرسائیکلوں کے لیے دو سو روپے تھا

اس صورتحال پر سٹی ٹریفک پولیس چیف (سی ٹی او) منتظر مہدی کہتے ہیں ’یہ ایک بدقسمت صورت حال ہے کہ لوگ بالکل بھی ٹریفک لائسنس بنانے کا رجحان نہیں رکھتے۔ ابھی ہم نے ہائی کورٹ کے حکم سے جرمانے کی رقم بڑھا دی ہے، اس کے باوجود بھی اس رجحان میں کمی واقع نہیں ہوئی۔‘

اس سوال پر کہ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنواتے؟ چیف ٹریفک آفیسر کا کہنا تھا ”اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، جن میں سے ایک قوانین پر عمل کرنا ہماری عادات میں شامل نہیں ہے۔۔ اور یہ صرف لاہور کی بات نہیں، جو اعداد و شمار ہمارے پاس ہیں، پشاور سے کراچی تک یہی صورت حال ہے۔ بلکہ جتنی کوشش ہم کر رہے ہیں اور جو سہولیات ڈرائیونگ لائسنس بنانے کی ہم نے دے رکھی اتنی کسی اور شہر میں نہیں“

انہوں نے بتایا ”ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی سہولت کے لیے ایک دفتر چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ یعنی اگر آپ صبح پانچ بجے بھی اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوانا چاہتے ہیں تو مناواں کے علاقے میں ہمارے سنٹر سے آپ بغیر رکاوٹ کے بنوا سکتے ہیں“

قانون سے متعلق اجتماعی رویے سے ہٹ کر سی ٹی او منتظر مہدی کا کہنا تھا ”پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سے اتنی تیزی سے ٹریفک بڑھ رہی ہے کہ اب تو سڑکیں بھی جواب دے گئی ہیں۔ ہر سڑک پر اپنی اصل کیپسٹی سے کئی گنا زیادہ ٹریفک کا دباؤ ہے۔ جس وجہ سے لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانا ان کی ترجیح ہے ہی نہیں“

پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ٹریفک لائسنس بنوانے پر مجبور کرنے کے لیے کئی طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے، اس حوالے سے جامع سفارشات حکومت کو بھیجی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد پر صورت حال بہتر ہو سکتی ہے

خیال رہے کہ سڑکوں پر موٹرسائیکل، گاڑیاں اور رکشے چلانے والوں کی ایک بڑی تعداد کم عمر نوجوانوں کی بھی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے دوران 42 ہزار 667 کم عمر ڈرائیورز کےخلاف کارروائی کی گئی۔ ملکی قانونی کے مطابق جس شخص کا شناختی کارڈ نہیں بنا، وہ ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل نہیں کر سکتا

سٹی ٹریفک پولیس چیف کہتے ہیں ”حکومت کو تجویز دی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل نہ کرنے والوں پر کم سے کم جرمانہ پانچ ہزار روپے کیا جائے۔ پوری دنیا میں یہ جرمانہ اتنا زیادہ ہے کہ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ بغیر لائسنس کے سڑک پر موٹرسائیکل یا گاڑی لے آئے۔ دبئی سمیت کئی ملکوں میں تو جرمانے کے ساتھ ساتھ دو سال تک گاڑی چلانے پر بھی پابندی لگ سکتی ہے“

انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس نے جو سفارشات حکومت کو بھیج رکھی ہیں، ان میں یہ ایک یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور گاڑیوں کو ضبط کرنے کے قوانین بھی منظور کیے جائیں تاکہ لوگ لائسنس بنوانے کو ایک عمل سنجیدہ عمل سمجھیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات وزارت قانون کو موصول ہو چکی میں ہیں، جس پر قانونی سازی کے لیے کام ہو رہا ہے۔

Tags:

driving licenselicensePakistantendency
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے بعد استعفوں، معافیوں اور وضاحتوں کا سلسلہ جاری۔۔

Next

مارکیٹ میں نقلی شیمپو کی بھرمار: اصلی کی پہچان کیسے کی جائے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme