Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںفن

ناقدری کا شکوہ، نذیر خضداری نے بلوچستان کیوں چھوڑا؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 13, 2022 3 Min Read
0

بلوچستان اپنی منفرد اور متنوع ثقافت کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس ثقافت کا ایک خوبصورت رنگ بلوچی موسیقی ہے، جس میں خاص طور پر لوک فنکار ید طولٰی رکھتے ہیں۔ لیکن اس پسماندہ صوبے کی طرح بلوچی موسیقی اور اس سے جڑے فنکار بھی ناقدری کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں

بلوچستان کے ایسے کئی فنکار ہیں، جو موسیقی کا ہنر تو رکھتے ہیں لیکن معاشی تنگی، وسائل کی عدم موجودگی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کی وجہ سے گمنامی کے اندھیرے میں مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نذیر خضداری بھی ایسے ہی فنکاروں میں سے ایک ہیں، جن کی سریلی آواز اپنے پہاڑوں کو چھوڑ کر کراچی کی سڑکوں، ڈھابوں اور مزاروں پر بھٹک رہی ہے

نذیر خضداری کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ضلع خضدار سے ہے۔ انہیں موسیقی ورثے میں ملی ہے یعنی وہ بلوچستان کے ہنر سے سرشار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے باپ، دادا، چچا کا موسیقی سے خاص تعلق رہا ہے

وہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گزشتہ ایک دہائی سے رہائش پذیر ہیں اور اپنا گزارا کراچی کی سڑکوں، مزاروں اور ڈھابوں پر راگ سنا کر ہی کرتے ہیں، تا کہ ان کے گھر والوں کو بھوکے پیٹ نہ سونا پڑے

نذیر خضداری بتاتے ہیں ”موسیقی میرا خاندانی پیشہ ہے اور میں نے موسیقی کا آغاز پچیس سال کی عمر میں کیا“

انہوں نے بتایا ”میرے چچا حضور بخش خضداری میرے استاد ہیں۔ جنہوں نے صدارتی ایواڈ بھی حاصل کیا تھا اور اپنے وقت کے بڑے نامی گرامی گلوکار رہے ہیں“

نذیر خضداری کہتے ہیں ”میں نے بلوچستان میں پندرہ سال اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ میں نے ریڈیو اسٹیشن، ٹی وی، آرٹس کاؤنسل میں کام کیا اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی گیا۔ میں اسلام آباد، لاہور، ایوبیہ، کوہ مری تک بھی گیا۔ لیکن مجھ پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ پھر میں نے اپنے فن کا مظاہرہ ہر جگہ شروع کر دیا“

بلوچستان چھوڑنے سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا ”صوبہ چھوڑنے کی وجہ یہی تھی کہ وہاں ان کی قدر نہیں کی گئی اور دوسرے فنکاروں، کو جو کہ نسلی راگی نہیں ہیں، ان کو زیادہ ترجیح دی گئی“

نئی نسل کے موسیقی کی طرف رجحان کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا ”بلوچستان کی نئی نسل موسیقی پر توجہ دیتی ہے مگر جو حضور بخش خضداری کا نشین ہے وہ نہیں چلا سکتے، چاہے جو بھی ہو جائے کیونکہ وہ ہماری نسل اور ہمارے خون میں ہے۔ وہ ہمارا نسلی کام ہےاور صرف ہم ہی چلا سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہماری نسل ختم ہو رہی ہے۔ ہماری ثقافت پر فرق پڑھ رہا ہے“

خضداری نے اپنے معاشی حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے مزاروں اور ہوٹلوں پر اپنا راگ سنا کر دن میں تقریباً دو سے تین ہزار کما لیتے ہیں، لیکن کچھ دن ایسے بھی گزرتے ہیں کہ ان کو خالی ہاتھ گھر واپس جانا پڑجاتا ہے

بلوچستان واپس جانے سے متعلق سوال پر نذیرخضداری کا کہنا تھا ”ہماری بلوچی زبان میں کہتے ہیں ’آہے وطن ہشک دار‘ یعنی ہمیں آپ لندن بھی لے جائیں تو ہم آپ کو یہی کہیں گے کہ ہمارا وطن ہمارے لئے اچھا ہے، چاہے ہم امریکہ ہی کیوں نہ چلے جائیں“

انہوں نے کہا ”میں کراچی میں رہتا ہوں، کراچی ہمارا دل ہے مگر میرا وطن بلوچستان مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔ میں واپس جاؤں گا مگر ابھی میرا دل کمزور ہے، میں اپنا علاقہ ہی بھول چکا ہوں“

نذیر خضداری نے واپس جانے کے بعد پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں مشکلات ہی مشکلات ہیں کیونکہ وہاں کی آبادی کم ہے، اس لیے وہاں ان کو زیادہ توجہ نہیں دی جائے گی۔

Tags:

BalochiBaluchistanSingers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

لیاری، جو کبھی یونان تھا اور اب بھی برازیل ہے۔۔

Next

رواں برس پاکستان چھوڑنے والوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ، کیا یہ ’برین ڈرین‘ ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme