Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترین

تیرا خوشہ خوشہ نوچوں، تیرا گوشہ گوشہ لُوٹوں!

By Akhtar Rasool
مارچ 19, 2023 5 Min Read
0

توشہ خانہ کی ادھوری، منتخب اور مبینہ طور پر پُرکاری سے تیار کی گئی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ 21 برسوں کی ’لوٹ مار‘ کا ایک پہلو سے ذکر ہے، پچھتر برسوں کی کہانی نہیں۔ 466 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ ’سب ہڑپ کر جاؤ‘ کا ایک شاہکار ہے!

اس رپورٹ میں وہ بھی فیض یاب نظر آتے ہیں، جو ’فیض‘ والے نہیں بلکہ ’بے فیض’ مانے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حلوائی کی دکان پر نانا جی کے ختم سے زیادہ کھلا ہاتھ مارا گیا ہے۔ وزرائے اعظم، صدور مملکت، وزراء اور دیگر کے فیضِ عام پانے اور جام لنڈھانے کے نہیں تو کم ازکم انناس کے آب شیریں کے مزے اڑانے کی دلربا داستان موجود ہے

وزرائے اعظم کے اہل خانہ کے لیے تو فطری طور پر پاک وطن کا توشہ خانہ شِیرِ مادر تھا۔ اس لیے پاکپتن والوں کی بھی اس بارے میں کافی داستانیں سامنے آئیں۔ اس سے ریاست کے چوتھے ستون کے کئی معزز ناموں نے بھی خوب ابن الوقتی کی ہے۔ البتہ انہیں گھڑی چوری کی پھبتی کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے کہ یہ بہت گھسی پٹی سی اصطلاح بن چکی ہے۔ ویسے بھی معاملہ صرف گھڑی چوری کا نہیں گھڑیوں کی گھڑی گھڑی چوریوں کا ہے۔ اس رپورٹ کو دیکھا جائے تو گھڑی چور کوئی ایک فرد نہیں، اشرافیہ کی پوری قطار کا گھڑی چوروں میں شمار ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ چور چور اور گھڑی چور کی آوازے کسنے والے بھی اس حمام میں پوری طرح ننگے ہیں

لیکن اہلِ صحافت نے بوجوہ ان کی پردہ داری رکھی ہوئی ہے۔ خود ان اہلِ صحافت میں ایک نام ایسا بھی ہے، جو اس وقت پنجاب کی نگران حکومت کا سربراہ ہے۔ نگران حکومت کی حالت بظاہر گھڑی دو گھڑی کی ہوتی ہے۔ لیکن جس سرعت اور صفائی سے نگرانِ اعلیٰ پنجاب نے آتے ہی گھڑی اٹھائی ہے۔ اس کی دہائی ہے بھئی دہائی ہے۔ اس ’محسنِ پنجاب‘ کی کیا خوبصورت کلائی ہے اور کس ہاتھ کی صفائی سے اس کلائی پر نئی نویلی رولیکس سجائی ہے

توشہ خانہ رپورٹ میں سابق صدور اور سابق وزرائے اعظم کے ان ادوار کو فی الحال اخفاء میں رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے، جن میں ’ٹین پرسنٹ‘ اور ’نیکلس‘ بڑے مشہور ہوتے رہے ہیں۔ سچی بات یہی ہے کہ زیادہ مزے کے وہی دور تھے، جنہیں فی الحال اخفاء میں رکھا گیا ہے۔ جب حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کے ہی نہیں آس پاس والوں کو بھی کھل کر کھانے کا موقع ملا رہا اور کبھی توشہ خانہ کی خبر باہر نہ آ سکی۔ اگرچہ ان ادوار میں اپنے مخالفین کو گندا کرنے کے لیے احتساب بیورو بنایا گیا اور پھر نوبت نیب تک پہنچ گئی۔ لیکن توشہ خانہ کا خوشہ خوشہ نوچنے والوں کا کبھی ذکر سامنے نہیں آیا۔ وجہ صاف تھی کہ اس مالِ مفت پر سب بےرحمی سے ٹوٹے پڑتے تھے

اہم بات ہے کہ اس رپورٹ میں اکثر سفارتی و عسکری ضرورتوں کے پیشِ نظر امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے دوروں پر رہنے والے ملک و اقتدار کے اصل مالکان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ وجہ حکومت کا اخلاقی، سیاسی یا ڈھانچہ جاتی ضعف بنا ہے یا خدانخواستہ رپورٹ کے ضخیم ہو جانے کا خوف آڑے آیا ہے کہ اس طرح رپورٹ کی ایک سے زائد ضخیم جلدوں کی ضرورت پڑ جاتی۔ البتہ ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیر اعظم میں موجود حاضر سروس فوجی حکام اور ان کے گھر والوں نے توشہ خانہ پر جس طرح ہاتھ صاف کیا ہے، اُس کی خبر اس رپورٹ میں شامل ہے

وطن عزیز کی معیشت آج سے نہیں سالہا سال سے قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت ہے۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز ان قرضوں کی ادائیگی کرنے کی سکت سے بھی عاری ہے۔ حتیٰ کہ قرضوں کی وجہ سے عائد سود کی ادائیگی کے لیے بھی مزید قرضوں کا محتاج رہتا ہے۔ نتیجتاً حکومت کی شناخت ہر جگہ بھکاری کی بن کر رہ گئی ہے۔ وطن عزیز کے اس حال کو پہنچنے کی بھی وجوہات ہیں کہ اس کے با اقتدار اور با اختیار حکمران، اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ اس کا خون جونکوں کی طرح چوس رہے ہیں۔ توشہ خانہ ملک کا خون چوسنے والوں کی ایک مختصر کہانی ہے

ایک طرف عام لوگ ہیں، جن کی چالیس سے پچاس فی صد تعداد خطِ افلاس سے نیچے لڑھک چکی ہے اور دوسری جانب ڈی ایچ ایز کی لمبی قطار کا منظرِ بہار ہے۔ یہ مناظرِ بہار راولپنڈی، لاہور، کراچی میں نمایاں تھے۔ اب ملتان اور گوجرانولہ میں بھی دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان پر اس طرح ہن برس رہا ہے کہ اعلیٰ ترین مناصب پر فائز لوگوں کے لیے دنیا کی مہنگی ترین اور پُرتعیش جگہوں پر گھر بنانا، منتقل ہو جانا اور ریٹائرمنٹ کی زندگی چَین ہی چَین کے ساتھ گزارنا فطرت کے بلاوے کی طرح ضروری ہوگیا ہے۔ لیکن معاملہ صرف ڈی ایچ ایز کا ہی نہیں، جاتی عمرہ، بنی گالا، کلفٹن کے علاوہ بحریہ ٹاؤن کے مالک سے تحائف میں ملنے والے بڑے بڑے بلاول اور زرداری ہاؤس اور ایوین فیلڈ سب عوام کی مفلسی اور بےبسی کے ماتھے پر اشرافیہ کی خوشحالی کے چمکتے دمکتے جھومر ہیں

یادش بخیر۔۔ جنرل پرویز مشرف مرحوم کا تابوت حالیہ مہینوں میں ہی بیرونِ ملک سے آیا تھا۔ ان کے اس حال میں وطن واپس آنے سے چند ہفتے پہلے ہی جنرل ریٹائرڈ باجوہ کبھی دبئی کے چوک چوراہوں پر زیبرا کراسنگ پر اور کبھی کسی بنک نما دفتر میں نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ گویا ایک سے بڑھ کر ایک۔۔ ایک گیا، دوسرا آیا!

حکمران اشرافیہ قومی خزانے اور پاک سرزمین کو جس طرح نوچ اور لوٹ رہی ہے۔ اس میں سے یہ اکا دکا اشارے ہیں۔ سول بیوروکریسی کے پردہ نشیں بھی کسی سے کم نہیں۔ ان کی دولتیں بیرونِ ملک تلاش کرنا یقیناً ایک لمبا کام ہے۔ مگر بیرونِ ملک جن بیوروکریٹس نے اپنے بچوں کو منتقل کیا ہے، شہریتیں دلوائی ہیں یا خود کسی دوسرے ملک کی شہریت لی ہے، کیا یہ ایک غریب ملک کے عمال کے لیےرزق حلال یا جائز قانونی ذرائع سے ممکن تھا؟ یقیناً نہیں!

اسی لیے حکمران طبقے نے لوٹ مار کو قانونی بنانے کے ہتھکنڈوں کو روایت سے بڑھ کر ایک صنعت کا درجہ دے رکھا ہے۔ آئین میں ترمیم ہو یا قانون سازی و قانون کی تبدیلی سب حکمرانوں کی لوٹ مار کو جاری و ساری رکھنے، اقتدار کو قائم دائم رکھنے اور بائیس کروڑ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے دور رکھنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ جمہوریت کا دور ہو یا چھپی اور کھلی آمریت کا دور ہو، چھری ہمیشہ قومی خزانے کے خربوزے پر گرتی اور پھرتی ہے

اس لیے توشہ خانہ رپورٹ کو مکمل اور کافی کارروائی کے طور پر نہ لیا جائے۔ اسے محض ایک گوشہ وا ہونے سے تعبیر کیا جائے اور کچھ بے رحم ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ تاکہ ’قانونی لوٹ مار‘ کے سارے گوشے سامنے آ سکیں۔ خدشہ ہے کہ ’قانونی لوٹ مار‘ ، غیر قانونی لوٹ مار سے زیادہ منظم اور خطرناک ہو چکی ہے کہ قانونی لوٹ مار کرنے اور قوم کے خزانے کو شِیرِ مادر سمجھنے والے ہی اختیار کے مالک اور اقتدار پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ صاف نظر آتا ہے کہ ان سب کی ہے ٹولی ایک، ان سب کی ہے بولی ایک۔۔ اس اشرافیہ کا وطنِ عزیز کے لیے ایک ہی نعرہ ہے۔ ”تیرا خوشہ خوشہ نوچوں، تیرا گوشہ گوشہ لُوٹوں“

بشکریہ: العربیہ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

fix your businessfunny songs that will make you laughgolf with your friendsis scratch good?pros and cons scratchreasons not to use scratchreasons to use scratchrobert parker - the scratch - nolascratchscratch beginnerscratch buildscratch devlogscratch gamescratch game devscratch game enginescratch programmingscratch ticketscratchersew your own canvasshould i use scratchsymbol lottery scratchertexas lottery scratch off
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نندیتا داس کی ’زویگاٹو‘ اور ڈلیوری بوائے کپل شرما

Next

شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme