Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ماحولیاتی مسائل اور اسلامی احکامات

By Akhtar Rasool
مارچ 24, 2023 3 Min Read
0

اسلام دین فطرت ہے۔ مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے۔ بطور خلیفہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کائنات کے وسائل کو اس کے دیے ہوئے اصولوں کے مطابق استعمال کریں۔

آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے اپنے برے اعمال کی وجہ سے کائنات کی فضا کو تباہ کر دیا ہے۔ لاہور کا شمار دنیا کے بدترین آلودگی والے شہروں میں ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک کو ہر سال سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ پاکستان کی بہت بڑی آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ فیکٹریاں آلودہ پانی کو براہ راست ندی نالوں میں پھینک دیتی ہیں، جس سے فصلوں کو سیراب کیا جا رہا ہے۔ گندے پانی سے اگنے والی فصلیں کھانے سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام ہم پر کیا ذمے داریاں عائد کرتا ہے اور ہم ماحول کو اپنی منفی سرگرمیوں سے کیسے بچا سکتے ہیں۔

اسلام دنیا میں زندگی گزارنے کےلیے مکمل ضابطۂ حیات فراہم کرتا ہے۔ جہاں اسلام یہ بتاتا ہے کہ ہمارے فرائض کیا ہیں، یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج، وہیں یہ ہمیں ماحولیات کے حوالے سے ہماری ذمے داریوں کے بارے میں بھی سکھاتا ہے۔ قرآن و احادیث میں ماحول (پانی، مٹی، درختوں، حشرات الارض اور نباتات اور جاندار) سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی ہے، یعنی ان کے استعمال کی حدود کیا ہیں۔

اسلام میں انسانی جسم خدا کی طرف سے دی گئی امانت سمجھا جاتا ہے۔ ہر مسلمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کو صحیح اور جائز طریقے سے استعمال کرے۔ مسلمان دنیا کے وسائل کو جائز حدود کے اندر رہ کر ہی اپنی دسترس میں لا سکتے ہیں۔ ماحولیاتی میدان میں یہ حدود قرآن اور احادیث میں بیان کی گئیں۔ مثلاً حرم کے مہینوں میں حرم کی حدود میں جانوروں کے شکار کی ممانعت، جنگ کے دوران درختوں کو کاٹنے کی ممانعت، اور جانوروں کے چرنے کی زمین کو نقصان پہنچانے کی ممانعت۔

ہمیں بتایا گیا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ پانی کا استعمال کفایت شعاری سے کرنے اور وضو کرتے وقت بھی پانی کے بے جا استعمال سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن میں کہا گیا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ فسادات فی الارض میں ماحولیاتی تباہی بھی شامل ہے۔ انسانوں نے ماحول کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ کھاؤ پیو لیکن اسراف سے کام نہ لو یعنی حدود میں رہ کر وسائل کا استعمال کرو اور ماحول اور خدا کے دیے ہوئے وسائل کو اپنے فائدے کےلیے بے جا ضائع نہ کرو۔ بلکہ انہیں ذمے داری سے استعمال کرو۔

اسلام انسانی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ فرمان نبویﷺ ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔ اسی طرح فرمان نبویﷺ ہے کہ جو شخص کسی پر زیادتی کرے گا، وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب تک کہ وہ اس شخص سے اپنی خطا کی معافی نہ مانگ لے، جس سے اس نے زیادتی کی ہے۔ اسی طرح رسولﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے دنیا میں ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھا تھا۔ قرآن اور احادیث ایسی ہدایات سے بھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و حدیث کو سمجھ کر پڑھیں اور ان میں دی گئی اپنی ذمے داری کو پہچانیں

مذکورہ بالا قرآن اور احادیث کے حوالہ جات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام مسلمانوں سے ذاتی اور معاشرتی طور پر ذمے داری کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلام اخلاقی طرز عمل کا ضابطہ فراہم کرتا ہے کہ کس طرح ہم اپنے اردگرد کے جانداروں اور بے جان چیزوں کے تحفظ کےلیے ذمے دار ہیں۔ اسلام کی ہدایات پر عمل کر کے ہی ہم اپنی معاشرتی اور ماحولیاتی ذمے داریوں کو احسن طریقے سے نباہ سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی حدود کو پہچانیں اور اپنے اعمال کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم صحیح معنوں میں اس دنیا میں خدا کے مطیع بن کر رہ سکیں۔ خدا کا خلیفہ ہونے کا حق ادا کر سکیں اور ثابت کر سکیں کہ ہم اچھے مسلمان اور پاکستانی ہیں۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز۔

Tags:

ahlulbayt and preserving the environmentchristianity and enviornmentcreation and the environment in judaismenvironment and sustainabilityenvironmental protectionenvironmental sustainabilityislam and environmentislam and the enviornmentislam and the environmentislam environmental protectionislamic environment in bahrainislamic environmental ethicspunishing environment and ahlulbayt teachingswhat does islam say about environmental protection?
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جہاز میں لٹر کی بجائے ایندھن کلو کے حساب سے کیوں بھروایا جاتا ہے؟

Next

کچھ کھیت تھے یہاں۔۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme