Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

دادا کے پاس سے مجھ تک پہنچا ’مُدِ نبوی‘

By Akhtar Rasool
اپریل 25, 2023 4 Min Read
0

’دادا اس برتن سے وضو کرتے تھے۔ تم آؤ گے تو میں تمہیں دوں گی۔‘

امی نے دو تین سال پہلے کہا تھا کہ ان کے پاس دادا کا ایک بہت پرانا برتن پڑا ہوا ہے، جس سے وہ وضو کیا کرتے تھے۔ پچھلی بار گھر گیا تو وہ برتن انہوں نے مجھے دے دیا

بہت وقت گزرنے کی وجہ سے وہ برتن کافی گہری رنگت کا ہو چکا تھا لیکن اس پہ کچھ لکھا ہوا اب بھی نظر آتا تھا

اسلام آباد آیا تو میں نے اسے ایک پرانے صندوق میں رکھ دیا اور دوبارہ دفتر آنا جانا شروع ہو گیا

پچھلے ہفتے ایک دن چھٹی کا آیا تو یونہی کچھ ڈھونڈنے کو صندوق کھولا، اس میں برتن وہیں سامنے پڑا تھا

سوچا اسے صاف کروں، دیکھوں، کیا لکھا ہوا ہے۔۔

تانبے کا وہ برتن جب صاف کیا تو اس پہ بسم اللہ لکھی ہوئی نظر آنے لگی۔ میں سمجھا قرآن کی آیتیں لکھی ہوں گی تو مزید دھیان سے اسے صاف کرنے لگا

جو کچھ بھی لکھا تھا، مکمل پڑھا نہیں جا رہا تھا۔ سِرکہ ایک صاف کپڑے پر لگایا اور برتن دوبارہ چمکانا شروع کر دیا

اب بسم اللہ کے بعد جو کچھ تھا، وہ آیتیں بہرحال نہیں تھیں، اس میں بہت سارے نام آتے تھے

برتن جب مکمل اپنے اصل رنگ میں آ گیا تو میں نے پڑھنے کی کوشش کی

نام اس طرح سلسلہ وار تھے جیسے حدیثوں کی روایت میں آخری سند تک مکمل پہنچتے ہیں

اب میں غور سے پڑھنا شروع ہو گیا۔ 1261 ہجری کی تاریخ بھی آخر میں دی ہوئی تھی۔ یہ سال عیسوی کیلنڈر کے حساب سے 1845 بنتا ہے

انٹرنیٹ پہ جا کے ڈھونڈنا شروع کیا تو اس شکل کا ایک برتن بھی نظر نہیں آ رہا تھا

کافی تلاش کرنے کے بعد ایک ویب سائٹ پہ اس شکل کا جست سے بنا برتن دکھائی دیا

وہاں جا کے تفصیل دیکھی تو جو حروف اس پہ لکھے تھے، وہ کچھ اپنے والے سے ملتے جلتے تھے

ان حروف کو ٹائپ کیا اور پھر ڈھونڈنا شروع کیا تو تھوڑی دیر میں علم ہوا کہ اس برتن کو ’مُدِ نبوی‘ کہتے ہیں

پرانے دور میں ہمارے یہاں بھی فصلوں کی کٹائی پر لین دین کے لیے مخصوص پیمانے استعمال ہوتے تھے

تولنے کی بجائے ان برتنوں میں جتنا غلہ سما جاتا، وہ برتن کے حجم کے حساب سے شمار کیا جاتا تھا

ایک ’مُدِ نبوی‘ سے ناپے گئے غلے کا اگر وزن کیا جائے تو 524.880 گرام بنتا ہے

یہ تحقیق اپنی کتاب ’اسلامی اوازن‘ کے لیے فاروق اصغر صارم نے کی

تو مختلف احادیث اس حوالے سے ہیں کہ زکوۃ اور فطرانہ جب دیا جائے تو کتنے مُد کا حساب رکھا جائے یا پیغمبر اسلام کے وضو اور غسل کے بارے میں ہیں کہ اس میں کتنے مُد استعمال ہوتے تھے

’مُد‘ کا سائز کیسے طے ہو۔ عراق سے بھی ایک مُد تاریخ میں نظر آتا ہے جو ’مُدِ نبوی‘ سے تھوڑے زیادہ حجم کا ہے

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اکثر علما ’مُد حجازی‘ کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ یہ عین اسی حجم کا ہے، جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکہ یا مدینے والے استعمال کیا کرتے تھے۔ل

’مُدِ نبوی‘ کی پیمائش بالکل ویسی رکھنے کے لیے کہ جیسی خود پیغمبر اسلامﷺ کے زمانے میں تھی، اسے سند کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا

’مُدِ نبوی‘ کی جو نقل میرے پاس دادا سے پہنچی اس کی سند صحابی حضرت زید بن ثابت تک کی ہے، یعنی یہ مُد عین اسی مُد کے برابر ہے، جو پیغمبر اسلامﷺ استعمال کیا کرتے تھے

دادا کے پاس ’مُدِ نبوی‘ کیسے پہنچا؟ اس بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ انہیں اپنے والد سے ملا ہو گا یا وہ خود اوائل جوانی کے دوران لکھنئو یا ایران سے لائے ہوں گے

دادا کی غیر مطبوعہ سوانح کے مطابق ان کے والد یعنی میرے پردادا کی وفات 18 مارچ، 1918 کو طاعون کی وبا میں ہوئی

دادا کے الفاظ میں وہ ’زیارت مدینہ اور حج بیت اللہ سے مشرف تھے‘

عین ممکن ہے یہ مُد میرے پردادا حج کے دوران خود ہی خرید کے لائے ہوں

دوسرا امکان اس چیز کا ہے کہ دادا نے اسے لکھنئو یا ایران سے خریدا ہوگا

مذکورہ سوانح میں انہوں نے پانچ جنوری، 1943 تک کے حالات لکھے ہیں اور اس دوران ان کے مطابق وہ مدرسہ فرنگی محل لکھنو بھی داخل رہے اور بعد میں قم جا کے بھی دینی تعلیم حاصل کی

اسی سوانح میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ پاک اور نجس اشیا کے بارے میں حد سے زیادہ احتیاط پسند تھے اور دن کا بیشتر حصہ اس دھیان میں صرف رہتا تھا۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

america and israelback from the deadbiblical prophecydead abd came back to lifedevils grandmotherdied and went to heavenend times prophecygod message for me todaygrandfathergrandfather red crowgrandfather red crow speaks: the seven fires prophecypeople who died and came back to lifeprophecythe news pope franciswarnings of the last days from godwhat you need to know about the book of revelation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا مصنوعی ذہانت انڈس ویلی اسکرپٹ کو ڈی کوڈ کر سکے گی؟

Next

فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (آخری حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme