Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بہت تلخ ہیں بندہِ مزدور کے اوقات۔۔۔

By Akhtar Rasool
مئی 1, 2023 4 Min Read
0

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے صدر ٹاؤن میں بلوچ آئس کریم کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گاہکوں کا انتظار کرنے والے مزدوروں میں محمد ناصر بھی شامل ہیں

ناصر عمارتوں کو پینٹ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ وہ دیگر مزدوروں کے ساتھ پینٹ کے برش، پینٹ کھرچنے کے اوزار اور دیگر اشیا لیے صبح سے شام تک گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں

اگر کوئی اپنے گھر، دکان یا دیگر عمارتوں کو پینٹ کروانے کے لیے مزدور کی تلاش میں وہاں آتا ہے، تو ادھر بیٹھے ایک درجن کے قریب مزدوروں کی امید بندھ جاتی ہے کہ اب انہیں دہاڑی ملے گی، لیکن ان میں کسی ایک کو کام ملتا ہے اور باقی مزدور مایوس ہو کر دوبارہ سے انتظار کرنے لگ جاتے ہیں

محمد ناصر نے بتاتے ہیں ”کبھی ہفتے میں دو تو کبھی تین دن مزدوری ملتی ہے۔ میری دہاڑی پندرہ سو روپے ہے۔ پورے مہینے میں پندرہ ہزار سے بیس ہزار روپے کماتا ہوں۔ بڑی مشکل سے گزر بسر ہو رہی ہے“

ناصر کہتے ہیں ”حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت پینتالیس ہزار رکھی ہے، لیکن آج کے دور میں اتنی اجرت کون دیتا ہے؟ اگر اتنی اجرت مل بھی جائے تو اس دور میں اتنی رقم سے بھی گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مزدوری نہ ملنے اور پورا معاوضہ نہ ملنے کے باعث جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا“

پاکستان میں 2021 کے لیبر فورس سروے کے مطابق سات کروڑ سے زائد افراد بطور ’لیبر فورس‘ موجود ہیں، جن میں سے چھ کروڑ ستر لاکھ کسی نجی ادارے کے ملازم ہیں جبکہ باقی تیس لاکھ افراد بغیر مستقل ملازمت کے کام کرتے ہیں

بغیر ملازمت کام کرنے والے افراد کی لیبر فورس میں شرح خیبر پختونخوا میں 8.8 فیصد، پنجاب میں 6.8 فیصد، بلوچستان میں 4.3 فیصد اور سندھ میں 3.9 فیصد ہے

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی مزدوروں کے حوالے سے قوانین یا تو بہت پرانے ہیں یا ان پرعمل درآمد کم ہوتا ہے، آج بھی صوبے میں ایک مزدور کی کم سے کم تنخواہ پچیس ہزارمقرر کی گئی ہے، جو مہنگائی کے تناسب سے انتہائی کم ہے

کوئٹہ کے باچا خان چوک پر دوسرے مزدورں کی طرح کام کے منتظر انور شاہ ایک مستری ہیں، جو گھروں کی تعمیر کا کام کرتے ہیں

آج کل کام نہ ملنے سے پریشان انور شاہ بتاتے ہیں ”اجرت مزدور کے نام سے جاری ہوتی ہے، لیکن ملتی دوسروں کو ہے، ہمارے نام پر دفتروں میں یا باہر، ہر جگہ حساب کتاب چل رہا ہے، لیکن ہم ابھی بھی اسی طرح ہیں، دیہاڑی بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے“

انور شاہ کہتے ہیں ”پہلے اس مزدوری میں مستری کو دو ہزار سے بائیس سو روپے ملتے تھے، اب وہ کم ہو کر ایک ہزار سے آٹھ سو روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اوپر سے کام بھی نہیں ہے کیوں کہ لوگوں نے مہنگائی کی وجہ سے کام کروانا بند کر دیا ہے“

انور شاہ کے مطابق انہوں نے چار مہینوں کے دوران صرف دس ہزار کی مزدوری کی ہے

وہ پوچھتے ہیں ”اس رقم سے ہم اخراجات کیسے پورے کر سکتے ہیں؟ ہم بس اللہ کے آسرے پر اس چوک میں بیٹھے رہتے ہیں، مہنگائی کے باعث مزدور سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سمینٹ کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، سریے کی قیمت بڑھنے سے تعمیراتی کام بند ہیں، کوئی ایک دن کی مزدوری مل جاتی ہے، جس سے گزارا چل رہا ہے“

مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت کم سے کم اجرت پچیس ہزارروپے مقرر ہے، اس پر بھی نجی شعبے میں عمل درآمد نہیں ہو رہا

پیر محمد کاکڑ کہتے ہیں ”بلوچستان میں مزدوروں کی تعداد کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں کیوں کہ یہ سب محکمہ لیبر میں رجسٹر نہیں ہیں۔ ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ تمام مزدوروں کو رجسٹر کیا جائے تاکہ ان کے مسائل اور قوانین کے ساتھ ان کے حقوق کا تحفظ بھی ہو سکے“

وہ بتاتے ہیں ”اگر ایک اندازہ لگایا جائے تو بلوچستان میں مزدوروں کی تعداد دس سے پندرہ لاکھ ہو سکتی ہے، تاہم زراعت کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد اس سے بھی بڑھ سکتی ہے، ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تمام مزدوروں کو سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، ورکرز ویلفیئر فنڈ میں رجسٹر کیا جائے“

پیر محمد کاکڑ کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومتِ بلوچستان سے مزدور کی بنیادی اجرت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے

ان ہی مزدوروں میں خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے محمد عیسیٰ بھی شامل ہیں، جو پشاور کے مقامی ہوٹل میں بطور باورچی کام کرتے ہیں

عیسیٰ کو مزدور کی سرکاری ماہانہ اجرت کا کوئی علم نہیں لیکن انہیں ماہانہ پندرہ ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے

عیسی بتاتے ہیں ”اس مہنگائی کے دور میں پندرہ ہزار میں گزارا مشکل ہے کیونکہ گھی، چینی اور آٹے کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ آٹے کا ایک تھیلا آج کل تین ہزار سے اوپر ہے جبکہ چینی کا ایک تھیلہ پانچ ہزار تک ہے اور اسی طرح گھی کی قیمت بھی بہت بڑھ گئی ہے“

ماہانہ خرچے کے حوالے سے عیسیٰ خان نے بتایا کہ ایک دوسرے سے قرض لے کر ماہانہ خرچہ پورا کیا جاتا ہے

خیبر پختونخوا میں ان سکلڈ لیبر (غیر ہنرمند مزدور) کی ماہانہ اجرت چھبیس ہزار روپے ہے جو اگست 2022 میں مقرر کی گئی تھی۔

Tags:

a bitter pill to swallowangostura bittersbitterbitter (love to infinity radio edit)bitter melonbitter melon noodlebitter truthdrink around the worldhow to deal with bitter peoplehow to deal with bitter people jordan petersonhow to let go of resentmentin front of garment factorylabourpeterson bitter peopleseeking the truthstewed chicken noodle with bitter melonthe fifth estatethe impact of bitterness on othersworkers get out of work
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

شہروں کی گرمی سے بڑھتے خطرات اور لوگوں کی عدم توجہی۔۔ عالمی بینک کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

Next

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ: حنا ربانی اور وزیراعظم کی لیک گفتگو میں کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme