Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

فضائی آلودگی سے پاکستانیوں کی اوسط عمر میں چار سال کی کمی!

By Akhtar Rasool
اگست 30, 2023 5 Min Read
0

ایک نئی تحقیق میں کرہ ارض پر ایک شخص کی صحت کے لیے فضائی آلودگی کو سگریٹ نوشی یا شراب نوشی سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، ایسے میں ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی میں اضافے سے شہریوں کی اوسط عمر چار سال کم ہورہی ہے

یونیورسٹی آف شکاگو کے انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، شیخوپورہ، قصور اور پشاور جیسے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی عمر چار سال کم ہو سکتی ہے

انڈیکس کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان میں صحت کے لیے دوسرا سب سے اہم خطرہ ہے، تاہم بنیادی طور پر دل کی بیماریاں سب سے زیادہ خطرے کی علامت ہیں

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آلودگی میں اضافے سے دماغی صحت کے کئی امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیں، جن میں انزائٹی اور ڈپریشن شامل ہیں

عالمی سطح پر جنوبی ایشیا کو سب سے زیادہ سنگین نتائج کا سامنا ہے، بنگلادیش، بھارت، نیپال، اور پاکستان (جو دنیا کی تقریباً 25 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں) میں سب سے زیادہ آلودگی پائی جاتی ہے

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پوری ’بائیس کروڑ‘ آبادی ان خطوں میں مقیم ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سالانہ اوسط عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے

یہ معیار تجویز کرتے ہیں کہ پارٹیکیولیٹ میٹر (پی ایم) 2.5 کی سالانہ اوسط سطح پانچ مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے کم رہنی چاہیے، اس کے علاوہ 24 گھنٹے کی اوسط نمائش 15 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے

ملک کی تقریباً 98.3 فیصد آبادی ان علاقوں میں مقیم ہے جہاں سالانہ اوسطاً فضائی آلودگی پاکستان کے قومی فضائی معیار اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طے کردہ فضائی آلودگی کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے

رپورٹ کے مطابق اگر آلودگی کی موجودہ سطح اسی طرح برقرار رہی تو پنجاب، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں رہنے والے افراد کی اوسط عمر میں تقریباً 3.7 سے 4.6 سال کی کمی واقع ہونے کا امکان ہے

اس کے علاوہ 1998 سے 2021 تک پاکستان میں سالانہ اوسط ذرات کی آلودگی میں 49.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس اضافے کے نتیجے میں شہریوں کی اوسط عمر میں 1.5 سال کی کمی واقع ہوئی ہے

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر پاکستان نے ڈبلیو ایچ او کی طرف سے مقرر کردہ سفارشات پر عمل کیا تو ممکنہ طور پرکراچی کے شہریوں کی متوقع عمر میں 3 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے، اسی طرح لاہور کے رہائشی افراد کی عمر میں 8 سال کا اضافہ ممکن ہے، اور اسلام آباد میں رہنے والے افراد کی متوقع عمر میں تقریباً 5 سال تک کا اضافہ ہو سکتا ہے

دوسری جانب ایک نئی تحقیق کے مطابق کرہ ارض پر ایک شخص کی صحت کے لیے فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی یا شراب نوشی سے زیادہ خطرناک ہے اور اس حوالے سے چین میں نمایاں بہتری کے باوجود جنوبی ایشیا میں خطرہ بڑھتا جا رہا ہے

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کی سالانہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ گاڑیوں اور صنعت کے دھویں کے اخراج سے ہونے والی فضائی آلودگی، جنگل کی آگ اور آلودگی کے دیگر ذرائع باریک ذرات عوامی صحت کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ ہیں

اگر دنیا عالمی ادارہ صحت کے رہنما اصولوں کی حد کو پورا کرنے کے لیے ان آلودگیوں کو مستقل طور پر کم کرے تو اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر فرد کی متوقع عمر میں 2.3 سال کا اضافہ ہوگا

باریک ذرات کا تعلق پھیپھڑوں کی بیماری، دل کی بیماری، فالج اور کینسر سے ہے، تمباکو کا استعمال، اس کے مقابلے میں عالمی متوقع عمر میں 2.2 سال تک کمی لاتا ہے جبکہ بچے اور زچگی کی غذائی قلت 1.6 سال کی کمی کے لیے ذمہ دار ہے

اس حوالے سے سب زیادہ بوجھ ایشیا اور افریقہ اٹھاتے ہیں لیکن شہریوں کو بروقت، درست ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے کچھ کمزور ترین انفرااسٹرکچر موجود ہیں جنہیں پہلے ہی فلاحی کاموں کی انتہائی کم امداد میں سے کافی کم حصہ ملتا ہے

مثال کے طور پر افریقہ کے پورے براعظم کو فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے تین لاکھ ڈالر سے بھی کم رقم ملتی ہے

شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ایئر کوالٹی پروگراموں کی ڈائریکٹر کرسٹا ہیسن کوف نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس حوالے سے درست معلومات دستیاب نہیں کہ فضائی آلودگی سب سے زیادہ کہاں خراب ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کہاں اور کس جگہ وسائل استعمال کیے جانے چاہئیں

اگرچہ گلوبل فنڈ کے نام سے ایک بین الاقوامی مالیاتی اشتراک ہے جو ایچ آئی وی ایڈز، ملیریا اور تپ دق کے امراض سے نمٹنے کے لیے سالانہ چار ارب ڈالر تقسیم کرتی ہے لیکن فضائی آلودگی کے لیے اس طرح کی رقم مختص نہیں کی گئی

رپورٹ میں کہا گیا کہ ابھی تک فضائی آلودگی، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور کیمرون میں ایچ آئی وی ایڈز، ملیریا کے مقابلے میں اوسطاً ایک شخص کی زندگی سے ایک سال زیادہ کم کر دیتی ہے

عالمی سطح پر جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر خطہ ہے۔ بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان آلودہ ممالک کی فہرست میں سب سے آگے ہیں

بنگلہ دیش کے رہائشی جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 74 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تھی، اگر اسے عالمی ادارہ صحت کے 5 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر کے رہنما اصولوں پر لایا جائے تو وہ 6.8 سال کی زیادہ زندگی حاصل کر سکیں گے

اس دوران بھارت کا دارالحکومت دہلی 126.5 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سالانہ اوسط ذرات کی آلودگی کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر ہے

دوسری طرف چین نے فضائی آلودگی کے خلاف جنگ میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے جہاں اس حوالے سے اقدامات 2014 میں شروع کیے گئے تھے

2013 اور 2021 کے درمیان چین کی فضائی آلودگی میں 42.3 فیصد کمی آئی، اگر بہتری کا یہ عمل برقرار رہتا ہے تو اوسط چینی شہری 2.2 سال زیادہ زندہ رہ سکے گا

امریکا کلین ایئر ایکٹ جیسی قانون سازی نے 1970 سے آلودگی کو 64.9 فیصد تک کم کرنے میں مدد کی جس سے امریکیوں کو متوقع طور پر 1.4 سال زیادہ عمر کے حصول میں مدد ملتی ہے

لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے درجہ حرارت کے سبب جنگل کی آگ کا بڑھتا ہوا خطرہ امریکا سے لے کر لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا تک آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے

مثال کے طور پر 2021 کے سیزن میں کیلیفورنیا کے جنگل میں آگ لگنے کی وجہ سے پلوماس کاؤنٹی کو عالمی ادارہ صحت کے رہنما خطوط کے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ باریک ذرات موصول ہوئے تھے

شمالی امریکا میں حالیہ دہائیوں میں فضائی آلودگی کی کہانی یورپ سے مماثلت رکھتی ہے لیکن مغربی اور مشرقی یورپ کے درمیان واضح فرق موجود ہے جہاں بوسنیا براعظم یورپ کا سب سے آلودہ ملک ہے۔

Tags:

Air Pollutionair pollution in bangladeshair pollution in delhiair pollution in delhi case studyair pollution in delhi todayair pollution in dhakaair pollution indexair pollution indiaair pollution life expectancyair pollution pakistanbangladesh air pollutionchina air pollutionchina reduced air pollutionepic air pollution case studyfew lines about air pollution in englishPakistan Air PollutionPollutionThe average age of Pakistanis decreased by four years due to air pollution!what is air pollution
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بجلی کے اضافی بلوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری، وزیر خزانہ منظر عام سے ہی غائب!

Next

بیروت: شہریوں کے حالات میں واضح تقسیم کو بے نقاب کرنے والے میوزک کنسرٹ کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme