Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

نیپاہ وائرس کیا ہے اور کیا پاکستان میں اس کے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 10, 2023 3 Min Read
0

قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ پاکستان میں ’نیپاہ‘ وائرس (این آئی وی) کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے، تاہم اس نے حکام پر ملک بھر کے داخلی راستوں پر چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وائرس کی سب سے پہلے 1999 میں تشخیص ہوئی تھی۔ یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں، آلودہ کھانے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے یا پھر یہ براہ راست انسانوں سے انسانوں میں بھی منتقل ہوتا ہے

اس وائرس کے متاثرین (جانوروں یا انسانوں) کے لیے کوئی بھی علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن انسانوں کے لیے بنیادی دیکھ بھال ہی اس کا علاج ہے

یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے اور یہ خطرناک وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا کے جزائر نما علاقوں میں چمگادڑوں اور بعد ازاں خنزیروں میں تشخیص ہوا تھا

مذکورہ وائرس ملائیشیا کے علاقے ’نیپاہ‘ میں پہلی بار سامنے آیا، جس وجہ سے اس کا نام بھی یہی رکھا گیا اور جلد ہی مذکورہ وائرس وہاں کے دیگر علاقوں کے جانوروں میں پھیل گیا

بعد ازاں ’نیپاہ‘ وائرس آسٹریلیا میں بھی چمگادڑوں اور خنزیروں سمیت دیگر جانوروں میں پایا گیا، جہاں بعض انسان بھی اس میں مبتلا ہوئے

سال 2004 میں ’نیپاہ‘ وائرس کی تشخیص بنگلہ دیش میں بھی ہوئی اور وہاں بھی ابتدائی طور پر اس سے جانور متاثر ہوئے لیکن بعد ازاں یہ انسانوں میں بھی پایا گیا

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں آسانی سے منتقل ہونے والا خطرناک وائرس ہے، جب کہ یہ ایک سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے

حالیہ مہینوں میں بھارتی ریاست کیرالا میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آئے، جس کی وجہ سے ریاستی حکومت اسکول بند کرنے اور سیکڑوں رہائشیوں کے ٹیسٹ کرنے پر مجبور ہو گئی

قومی ادارہ صحت کی طرف سے 7 اکتوبر کو جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق ستمبر میں بھارتی ریاست میں چھ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے دو افراد کی موت ہوئی

ادارے نے کہا کہ اس سے قبل بنگلہ دیش، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور اور بھارت سمیت دیگر ممالک میں بھی انسانوں میں نیپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

اگرچہ نیپاہ وائرس ایشیا میں صرف چند ہی معلوم وباؤں کا باعث بنا، لیکن یہ جانوروں سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے اور انسانوں میں شدید بیماری اور موت کا سبب بنتا ہے، جس سے یہ صحت عامہ کا مسئلہ بن گیا ہے

پاکستان کے بارے میں این آئی ایچ کی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر وائرس پھیلنے کا خطرہ کم ہے اور ابھی تک کسی انسان یا جانور میں اس وائرس کی تشخیص کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا

ادارے نے کہا کہ تاہم بہت سے عوامل ہیں، جن سے پاکستان میں نیپاہ وائرس آنے کا خدشہ ہے، جن میں چمگادڑوں کی مختلف اقسام کی موجودگی، بین الاقوامی سفر اور بھارت کے ساتھ طویل سرحد شامل ہے

قومی ادارہ صحت نے پاکستان میں نیپاہ وائرس کو روکنے کے لیے متعدد احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالی

قومی ادارہ صحت نے مزید کہا کہ خطرے کے عوامل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے جیسے اقدامات نیپاہ وائرس کے پھیلنے اور منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں اہم ہیں، اس کے علاوہ سیکنڈری ٹرانسمیشن کو روکنے کے لیے موجودہ آپشنز میں فعال کیس کی تلاش، کانٹیکٹ ٹریسنگ، کیسز اور ان کے رابطوں کو قرنطینہ کرنا شامل ہیں

قومی ادارہ صحت نے احتیاطی تدابیر میں کہا کہ کمیونٹی بیداری میں مناسب طریقے سے کھانے کی اشیا بالخصوص پھلوں کو دھونے اور جزوی طور پر کھائے گئے پھلوں کو کھانے سے گریز شامل ہے جو کہ پھلوں کے چمگادڑوں سے آلودہ ہو سکتے ہیں۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ صحت کے ماہرین کو اس وائرس کی علامات سے آگاہ رہنا چاہیے، مریضوں کو دیکھتے وقت ان کی سفری تاریخ معلوم کرنی چاہیے اور نیپاہ وائرس کے مشتبہ کیسز کے نمونے قومی ادارہ صحت کو جمع کرائیں۔

قومی ادارہ صحت نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی، علاقائی محکمہ صحت، پوائنٹس آف انٹریز، ہسپتالوں، معالجین اور لیبارٹری کے افراد اور لائیو اسٹاک اور ڈیری محکموں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور عالمی ادارہ صحت کی تشریح کے مطابق نیپاہ کے کسی بھی مشتبہ کیس کے بارے میں صحت کے حکام کو مطلع کیا جائے۔

Tags:

2023 nipah virus outbreak3how did nipah virus start in kerala?is nipah virus real?kerala nipah viruskozhikode nipah virusnipah virusnipah virus alertnipah virus curenipah virus doubtnipah virus in indianipah virus in keralanipah virus infectionnipah virus keralanipah virus latest newsnipah virus newsnipah virus outbreaknipah virus preventionnipah virus symptomsnipah virus treatmentVIRUSvirus nipah moviewhat is nipah virus
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حماس کے غیرمعمولی حملے اور اسرائیل

Next

جوابی حکمتِ عملی کے طور پر پی ٹی آئی کے حلفیہ وڈیو بیانات۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme