Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سیاست میں گر رہنا ہے تو جیے جنرل کہنا ہے

By Akhtar Rasool
نومبر 30, 2023 5 Min Read
0

سیاست میں آدھا کام سیاستدان کی عام آدمی سے رابطے کی صلاحیت اور محنت کرتی ہے اور باق کام اس پر لگی چھاپ سے ہو جاتا ہے۔

یعنی سیاستدان دائیں بازو کا ہے کہ بائیں کا، دبنگ ہے کہ موقع پرست، وعدہ نبھانے والا ہے یا وعدہ فراموش، عوامی طاقت پر کامل یقین رکھتا ہے یا چور دروازے کو بھی مباح سمجھتا ہے۔ وقت آنے پر وفاداروں کے ساتھ کھڑا رہتا ہے یا ترغیب و تحریص و دباؤ کے سبب ان کی بلی چڑھانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔

اپنی بات پر اڑ جاتا ہے یا حالات و ذاتی و بقائی فائدہ دیکھ کے رنگ بدل لیتا ہے۔ سیدھی بات کرتا ہے یا خود کو ہر بار درست ثابت کرنے کے لیے ہٹ دھرمی کی جلیبی بیچنے کی کوشش کرتا ہے۔

سچائی کچھ بھی ہو مگر چھاپ اکثر سچائی کو دبا لیتی ہے۔ مثلاً جماعتِ اسلامی لاکھ کہتی رہے کہ اس کے ارکان دیگر جماعتوں کی نسبت زیادہ منظم، ایمان دار، متقی و پرہیز گار ہیں۔ مگر جب جماعت کے سیاسی کردار کی بات ہوتی ہے تو عموماً یہ سننے کو ملتا ہے کہ ارے چھوڑیے صاحب وہ تو ہر اہم دوراہے پر عسکری اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ثابت ہوئی ہے۔

جمعیت علما اسلام کے فضل الرحمان کے والدِ محترم مفتی محمود کی سیاست بے شک اصولی رہی ہو گی۔ خود فضل الرحمان نے بھی اپنی جوانی میں مارشل لا مخالف ایم آر ڈی جیسی جمہوریت پسند تحریکوں کا ساتھ دیا ہو گا۔ مگر آج مولانا کی تصویر یوں ہے کہ وہ عملی سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ اعصابی تناؤ سے دور ہیں۔ اسی لیے بیک وقت پانچ گیندیں ہوا میں اچھال سکتے ہیں اور کبھی گرنے نہیں دیتے۔ لفافہ دیکھ کے خط کا مضمون بھانپ لیتے ہیں۔

کسی بھی فائدہ مند سودے بازی میں اپنے قریبی عزیز و اقارب کو بھی برابر کا حصہ دار بناتے ہیں۔ شکار اور شکاری کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں اور بوقت ضرورت وضع داری و سہولت برقرار رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے بھی کام آ جاتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی جب تک نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) تھی تب تک بائیں بازو کی ایک سرکردہ قوم پرست جماعت کہلاتی تھی۔ مگر جدید اے این پی ایک ایسی خاندانی جاگیر ہے جو عملیت پسند سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

اس میں اگر کوئی نظریاتی مخلوق پائی جاتی ہے تو وہ اس کے پرانے سیاسی کارکن ہی ہیں۔ اگر پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمت نہیں تو دشمنی بھی نہیں۔ پہلے وہ قومیتی مفاد کی حامی تھی۔ اب ’وسیع تر قومی مفاد‘ کی حامی ہے۔ خان عبدل ولی خان کی زندگی تک اس کی جڑیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے خاصے بڑے رقبے میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اب اس کے زیادہ تر اثرات ولی باغ سے پشاور تک ہیں۔ گویا یہ اپنی ہی عظمتِ رفتہ کی نشانی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف جب عوامی سطح پر متعارف کروائی گئی تو اسے عسکری اسٹیبلشمنٹ کی تازہ فخریہ پیش کش اور ملکی مسائل کے حل اور سیاسی گند کی صفائی کرنے والا الہ دین ٹائپ چراغ بتایا گیا۔

مگر پونے چار برس کے اقتدار میں ہی یہ فخریہ پیش کش ایسا کمبل بن گئی جس سے اسٹیبلشمنٹ تو جان چھڑانا چاہ رہی ہے لیکن کمبل جان نہیں چھوڑ رہا۔ حالانکہ نو مئی کے بعد سے پی ٹی آئی کی کمبل کٹائی بھی لگاتار جاری ہے۔ الہ دین اندر ہے اور چراغ باہر اور وہ بھی بجھا بجھا سا۔ فی الحال اس پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی چھاپ ہے۔ مگر پاکستان میں وقت اور چھاپ بدلتے دیر کہاں لگتی ہے۔

مثلاً جب پیپلز پارٹی وجود میں آئی تو وہ سرمایہ داری و جاگیر داری کے خلاف ’اینٹی اسسٹیٹس کو‘ جماعت کا رنگ لیے ابھری۔ اسی سانچے میں پارٹی ورکرز کو بھی ڈھالا گیا۔ یہ جماعت پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا تاثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

مگر مشرف کے این آر او کو قبول کرنے کے بعد ایک نئی چھاپ چپکنی شروع ہو گئی کہ وہ والی پیپلز پارٹی عوامی امنگوں کی ترجمان تھی۔ یہ والی پیپلز پارٹی نہ بائیں کی رہی نہ دائیں بازو کی بلکہ دھنئے کا شربت پی ہوئی ایک ہومیوپیتھک جماعت ہے۔ اس کی قیادت ذاتی ’سٹیٹس کو‘ کا تحفظ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ علامتی طور پر ملک گیر مگر عملاً صوبائی ہے۔

جب تشکیل پائی تھی تو ڈرائنگ روم کی سیاست کو سڑک پر کھینچ لائی تھی۔ پچپن برس بعد وہ سیاست کو دوبارہ ڈرائنگ روم میں لے گئی ہے اور عام آدمی جو پہلے لیڈر کے بنگلے میں پاؤں پسارے بیٹھا رہتا تھا اب گیٹ کے باہر بٹھایا جاتا ہے۔ جو قربانیوں کا پارٹی سرمایہ تھا وہ بھی دو ہزار آٹھ تک کھلا کرا لیا گیا۔ اب عوام کو کچھ نیا دینے کو نہیں بچا۔

مسلم لیگ نواز آغاز سے ہی ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے۔ اس کے اکثریتی شیئرز ایک ہی خاندان کے پاس ہیں۔ ابتدا میں یہ بھی اصلی مسلم لیگ کی ایک دور پار کی فرنچائز تھی مگر اس نے دیگر لیگی دھڑوں کے برعکس رفتہ رفتہ پنجاب کی حد تک عام آدمی کو متوجہ کر کے ایک مقبول جماعت بننے میں کامیابی حاصل کی۔

شروع میں اس پر ضیا نوازی کا سٹیکر لگا ہوا تھا اور اسے پیپلز پارٹی کو ’وختہ‘ ڈالنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ مگر تیسری بار اقتدار سے محرومی کے بعد اس کی قیادت نے کچھ عرصے کے لیے چی گویرا اور منڈیلا بننے کی کوشش کی۔ لیکن اب دوبارہ اس مصرعے کی قائل ہو گئی ہے کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔ سیاست میں گر رہنا ہے تو جئے جنرل کہنا ہے۔

پاکستان میں پچھلے چالیس برس میں کئی مد و جزر آئے مگر کوئی طوفان بھی نونی خاندان کا اندرونی اتحاد نہ توڑ سکا۔ پارٹی سٹرکچر بہت سادہ اور نظامِ شمسی کے اصول پر استوار ہے۔ ایک سورج اور اس کے گرد گھومتے گوجرانوالہ کے مریخ، سرگودھا کے عطارد، سیالکوٹ کے پلوٹو، گجرات کے نیپچون، فیصل آباد کے زحل اور لاہور کے زہرہ وغیر وغیرہ۔

بلوچستان میں جو سیاستدان اور جماعتیں آج بھی وفاق پرست ہیں۔ ان کا کردار سٹیپنی کا رہا ہے۔ جب اور جہاں جس گاڑی کے لیے ضرورت پڑی بارعائیت دستیاب ہو گئے۔ ایم کیو ایم کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے۔

مندرجہ بالا تمام جماعتیں دراصل سیاسی قبائل ہیں۔ جب تک یہ قبائل خود کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسی سیاسی جماعت کے جسم میں نہیں ڈھالتے جس میں نیا خون مسلسل بننا اور گردش میں رہنا چاہیے تب تک یہ طرح طرح کی متعدی بیماریوں کا شکار رہیں گے اور اسٹیبلشمنٹ ان کی اسی دلجمعی سے عیادت و علاج کرتی رہے گی۔

ایسے میں الیکشن سوائے ایک لاحاصل ورزش کے کچھ نہیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

baat se baat | wusatullah khan fansbaat se baat wusatullah khanlatest column of wusatullah khanwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah bbcwusatullah dawnwusatullah khanwusatullah khan about talib johriwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan bbcwusatullah khan biographywusatullah khan educationwusatullah khan fanswusatullah khan latestwusatullah khan urdu column
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سونے سے تین گنا قیمتی رنگ کی داستان، جسے پہننے پر لوگوں کو قتل کروا دیا جاتا تھا!

Next

فلسطینی كُوفية: زیتون اور ماہی گیری کے جال میں پنہاں مزاحمت

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme