Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

History-and-deferent-schooling-thoughts-Dr.-Mubarak-Ali
کالماہم ترینتازہ ترین

تاریخ دو راہے پر

By Akhtar Rasool
جولائی 24, 2024 4 Min Read
0

تاریخ کے بارے میں مُفکرین کی دو اَراء ہیں۔ ایک یہ کہ تاریخ عالمی تہذیب کو ترقی کی جانب لے جاتی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تاریخ تہذیبوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، جس کے بعد اُن کے لیے ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔

بعض مُفکرین کے نزدیک تاریخ ایک ارتقائی عمل ہے۔ یہ عمل انسانیت کو مختلف مراحل سے گزار کر ترقی کی راہ پر لایا ہے۔ جیسے جیسے تاریخ کا عِلم پھیلتا جا رہا ہے، دنیا کے بہت سے گمنام گوشے بھی دریافت ہو رہے ہیں اور تاریخ کا حصّہ بنتے جا رہے ہیں۔ تاریخ کے علم نے افراد کے بنیادی حقوق کا بھی شعُور دیا ہے اور سیاسی اور سماجی نظاموں کو بدلنے کے بعد کوشش کی ہے کہ ایک ایسا نظام وجود میں آئے جو اَمن و اَمان اور خوشگوار زندگی کے لیے آسانیاں فراہم کرے۔

یہ تاریخ کا رومانوی تصوّر ہے۔ لیکن حقیقت میں ہم تاریخی عمل کو ایک اور ہی راستے پر دیکھتے ہیں۔ تاریخ کا یہ وہ نظریہ ہے، جس میں طاقتور کو فوقیت حاصل ہے اور کمزور کو غلامی کی زندگی گزارنا ہے۔ جب کسی بھی قوم کے پاس طاقت ہوتی ہے۔ تو اُس کے لیے اخلاقی قدروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

تاریخ کے نظریے کے تحت مورخین بھی تاریخ کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ مثلاً جب رومی سلطنت نے خونریز جنگوں کے ذریعے مغرب سے لے کر مشرق تک اپنا اقتدار قائم کر لیا تو مورخوں نے اسے”رومی اَمن‘‘ کا نام دیا۔ یہی دلیل مَنگولوں کے بارے میں بھی دی گئی، جب اُنہوں نے وسطِ ایشیا اور مَشرقِ وُسطیٰ میں قتلِ عام کر کے اور کُتب خانوں کو جلا کر اپنا اقتدار قائم کیا۔ تو اس کے نتیجے میں جو خاموشی ہوئی اُسے مَنگول امن کا نام دیا گیا، اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ منگول امن کی وجہ سے تجارتی راستے محفوظ ہو گئے اور تاجروں کو خوب مُنافع مِلا۔ لیکن رُومی سلطنت اور مَنگولیا کے اَمن کے پسِ منظر میں جو جنگیں ہوئی تھیں، قتل و غارت گری ہوئی تھی اس کو کسی نے جرم قرار نہیں دیا تھا۔

اسی طرح روایتی مورخین مُزاحمت، بغاوت اور تبدیلی کی ہر تحریک کو ترقی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جیسے انگلستان کے سیاستدان Edmund Burk نے فرانسیسی انقلاب پر اس لیے تنقید کی کیونکہ اس نے قدیم روایات اور اداروں کو ختم کر کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی۔

جو مورخین اور فلسفی روایتوں کو مُقدّس سمجھتے ہیں۔ اُن کی دلیل یہ ہے کہ روایتوں کی بنیاد تاریخی تجربات پر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان میں مضبوطی آ جاتی ہے، اور لوگوں کا ذہنی رِشتہ اِن سے گہرا ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر قدیم روایات اور اداروں کو توڑا جائے تو سماج میں انتشار پیدا ہو گا۔ قدیم روایتوں کے استحکام کی وجہ سے تبدیلی کا عمل ہمیشہ خونریز ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرانسیسی انقلاب میں ہوا۔

ہم تاریخی عمل کو ایک اور نقطۂ نظر سے بھی دیکھتے ہیں۔ جب قوموں کو قوم پرستی نسل پرستی، مذہبی انتہا پسندی اور سوشل ازم اور کمیون ازم کے نظریات اُنہیں دوسری قوموں سے علیحدہ کر دیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی انسانیت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قومی اور نسلی مُفادات کے نام پر کبھی کلونیل ازم اور کبھی امپیریل ازم کا تسلّط ہوتا ہے، اور کولونیز میں کلونیل طاقتیں قتل اور خونریزی کے ذریعے اپنے خلاف بغاوتوں کو ختم کرتی ہیں اور اُن کے ذرائع کو اس دلیل پر لوٹتی ہیں کہ اس سَرزمین کے لوگ اِنہیں استعمال کرنا نہیں جانتے ہیں۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ عالمی تہذیب میں عدم مساوات ہے۔ طاقتور قوموں نے سائنسدانوں کی مدد سے ایک سے ایک ہلاکت خیز ہتھیار تیار کیے ہیں، جن سے دنیا تباہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ جوہری بم۔ جن مُلکوں میں آمریت کا نظام ہے۔ ان کے عوام بھی غربت و افلاس میں زندگی گزارتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ میں عام لوگوں کا کردار نہیں ہے۔ اس لیے اشرافیہ کی نظروں میں وہ کاہل سُست اور جاہل ہیں۔ اس لیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخی عمل دُنیا کو اندھیرے سے نکالے گا یا اور مزید اندھیرے میں لے جائے گا۔ اس کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہوتا ہے کہ قدیم دَور میں تو جنگیں اُمراء کے لیے مَشغلہ تھیں لیکن اب یہ تباہی و بربادی کا ذریعہ ہیں۔

تاریخ طاقتور اور کمزور قوموں کے درمیان بھی فرق پیدا کرتی ہے۔ طاقت کی بنیاد فوجی قوّت پر ہوتی ہے۔ اَگر کمزور تہذیبی، اَخلاقی اور ذہنی اعتبار سے کتنا ہی اعلیٰ معیار کا حامِل ہو، فوجی قوّت اُس کو شکست دے کر غلام بنا لیتی ہے۔

جب تاریخ کو تقسیم کر دیا جائے تو اُس کے ساتھ ہی سچائی بھی تقسیم ہو جاتی ہے۔ ہر قوم کا مورخ تاریخ لکھتے ہوئے اپنی سچائی کو بیان کرتا ہے۔ جب سچائی کی کوئی بنیاد نہ رہے تو اُس پر اعتبار کرنا مُشکل ہو جاتا ہے۔ سَرد جنگ کے دوران امریکی اور رُوسی مورخوں کی تاریخ میں اپنی اپنی سچائیاں ہیں۔ اگر تاریخ میں سچائی کو ڈھونڈا جائے تو تاریخ اُسے ذہنی بحران میں مُبتلا کر دے گی۔ اس لیے تاریخ نویسی کے قوم پرستی اور نظریے کی گرفت سے نکالنا ضروی ہو گا۔ تا کہ ذہن ہر طرح کی سچائی کو تسلیم کرے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

development of four school of thoughts in islamdevelopment of four school of thoughts in islam hindidifferent school of thoughts in psychologyeconomic school of thoughthistory of chinahundred schools of thoughtslinguistic school of thoughtslinguistics school of thoughtslinguistics school of thoughts in urdumaliki school of thoughtpsychology schools of thoughtschool of thought of psychologyschools of thoughtshafi school of thought
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-are-some-drugs-dangerous-in-extreme-heat
Previous

شدید گرمی میں کچھ دوائیں کس طرح خطرناک ثابت ہوتی ہیں؟

FIFAs-unique-decision-two-hours-after-the-game-was-suspended-Argentinas-goal-was-disallowed-Morocco-was-declared-the-winner
Next

فیفا کا انوکھا فیصلہ، کھیل معطلی کے دو گھنٹے بعد ارجنٹائن کا گول مسترد، مراکش فاتح قرار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme