Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Who-caused-the-downfall-of-nations-the-people-or-the-rulers
کالماہم ترینتازہ ترین

قوموں کے زوال کا باعث کون، عوام یا حکمران؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 1, 2024 5 Min Read
0

تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کی داستان دلچسپ بھی ہوتی ہے اور آسودہ بھی کرتی ہے۔ کوئی قوم بھی اپنے عروج کو ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رکھ سکتی، ایک مرحلے کے بعد اس میں زوال کی علامتیں شروع ہو جاتی ہیں۔

عام طور سے قوموں کے زوال کو معاشرے کا اجتماعی زوال کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

طبقاتی معاشرے میں زوال کی ذمہ داری حکمراں طبقے پر آتی ہے، کیونکہ اس کے پاس ریاست کے ذرائع ہوتے ہیں، اقتدار کی طاقت ہوتی ہے جبکہ عام لوگ غربت اور مفلسی اور بےبسی کی زندگی گزارتے ہیں، لہٰذا نہ تو انہیں قومی عروج سے کوئی فائدہ ہوتا ہے اور زوال تو ان کا مقدر ہوتا ہے، جس میں ان کی ساری زندگی گزرتی ہے۔

یہاں ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ حکمراں یا اشرافیہ کیوں زوال کا باعث ہوتی ہے۔

اس سلسلے ہم رومی اور مغل سلطنت کا ذکر کریں گے۔ رومی سلطنت کا عروج اس وقت ہوا جب اس نے فتوحات کے ذریعے اپنی سلطنت کو وسعت دی۔ اس ابتدائی دور میں فوج میں رومن شہری بھی ہوا کرتے تھے، اور ان کی سربراہی رومی جنرل کیا کرتے تھے۔

جنرلوں کا مفاد اس میں تھا کہ فتوحات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مال غنیمت حاصل کریں، اپنی جائیدادیں بنائیں اور آخر میں فوجی سختیوں کو چھوڑ کر روم میں اپنے محلات میں آرام کی زندگی گزاریں۔

لہٰذا ایک تبدیلی تو یہ آئی کہ رومی فوج میں مفتوحہ علاقوں کے فوجی بھی شامل ہو گئے اور ایک بڑی تعداد میں جنگی قیدیوں کو غلام بنا کر لایا گیا۔

رومی اشرافیہ کے لیے ان غلاموں کی خدمات ہر وقت موجود رہتی تھیں، لیکن مفتوحہ علاقوں میں جب رومی تسلط کے خلاف بغاوتیں شروع ہوئیں تو ان بغاوتوں کو ختم کرنے کی اشرافیہ میں توانائی باقی نہیں رہی تھی۔

مثلاً جب انگلستان میں ان کے خلاف بغاوتیں شروع ہوئیں تو انہوں نے بوٹیکا کی بغاوت کو سختی سے کچل دیا۔

انہوں نے کیلٹ قبائل کے حملوں کو روکنے کے لیے دیوارِ ہیڈریون تعمیر کی مگر جب وہ اپنے خلاف بغاوتوں کو ختم نہ کر سکے، تو رومی فوجی اچانک انگلستان کو چھوڑ کر واپس آ گئے۔

زوال کو روکنے کی یہ کوشش بھی کی گئی کہ رومن سلطنت کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ان کے علیحدہ علیحدہ انتظام کیے جائیں، لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی کیونکہ حکمراں طبقوں کو اپنے سرمائے اور جائیدادوں کی حفاظت کی فکر تھی۔

ان میں جنگ جوئی کے اوصاف ختم ہو چکے تھے، وہ عیاشی کی زندگی گزارنے کے عادی ہو چکے تھے۔ ان میں حکومت کرنے کی صلاحیت باقی رہ گئی تھی، اور نہ اس قابل رہ گئے تھے کہ ان کے خلاف جو طاقتیں ہیں، ان کا مقابلہ کر سکیں۔

لہٰذا 410 عیسوی میں جرمن قبائل نے روم پر قبضہ کر کے مغربی رومی سلطنت کا خاتمہ کیا۔ اشرافیہ نے شہر کا دفاع کرنے کے بجائے فرار ہو کر اپنے دیہاتی محلوں میں پناہ لی، اور شہر کے عام لوگوں کو بےیار و مددگار چھوڑ دیا۔

رومی سلطنت کے خاتمے کے بعد اس کا حکمراں طبقہ بھی تاریخ میں روپوش ہو گیا۔

دوسری جانب ہم مغل سلطنت میں منصب داروں اور اشرافیہ کو بھی زوال کا باعث سمجھتے ہیں۔ جب مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی تو مغل امرا اپنی دولت اور سماجی وجود کی وجہ سے معاشرے کے اعلیٰ ترین طبقے میں شمار ہوتے تھے۔

اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب اورنگزیب دکن میں ریاستوں کے خلاف جنگ کر رہا تھا تو اس کے امرا جانفشانی کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے۔

مثلاً جب کسی قلعے کا محاصرہ کیا تو کوشش یہ ہوتی تھی کہ قلعے کے حاکم کو رشوت دے کر اس پر قبضہ کیا جائے۔ جب کوئی قلعہ فتح نہیں ہوتا تھا، تو اورنگزیب کو خود وہاں آنا پڑتا تھا اور قلعے کا محاصرہ کر کے جنگ کرنی پڑتی تھی۔

جب مغل منصب دار جنگ کے لیے جاتے تھے تو ان کے کیمپ میں ہر طرح کی آسائشیں ہوتی تھیں، جن کی وجہ سے ان کی رفتار بہت سست ہو جاتی تھی۔ جبکہ ان کے مقابلے میں مرہٹے حملہ کرتے تھے تو ان کے گھڑ سوار تیزی کے ساتھ آتے تھے اور حملے کے بعد تیزی سے واپس چلے جاتے تھے۔

مرہٹہ راہنما شیوا جی نے کئی بار سورت کی بندرگاہ کو لوٹا اور مغل اس کی حفاظت میں ناکام رہے۔ ایک بار شیوا جی اپنے فوجیوں کے ساتھ رمضان کے مہینے میں دکن کے گورنر میر جملہ کے گھر پر حملہ آور ہوا جس میں میر جملہ کی انگلیاں بھی زخمی ہوئیں۔

1707 میں اورنگزیب کی وفات کے بعد صورت حال اور بدتر ہو گئی۔ بادشاہت کے لیے خانہ جنگیوں کی ابتدا ہوئی۔ امرا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوئے اور اںہوں نے شہروں میں لوٹ مار شروع کی۔

جب نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملے ہوئے تو یہ سلطنت کا دفاع کرنے میں ناکام ہوئے۔ جب امرا مغل سلطنت کے زوال کو روکنے میں ناکام ہوئے تو عام لوگوں کی حالت اور زیادہ بدتر ہو گئی۔

مغل عروج کے زمانے میں بھی عام لوگ زوال کی حالت میں تھے۔ کچے مکانوں میں رہتے تھے اور روٹی اور چٹنی ان کی غذا تھی۔ لباس دھوتی تھی، پاؤں میں کبھی چپل ہوتی تھی کبھی یہ ننگے پاؤں ہوتے تھے۔ بےروزگاری عام تھی۔ محنت و مشقت کے باوجود معاشرے میں ان کی کوئی عزت نہیں تھی۔

اس لیے جب بھی کسی معاشرے میں امیر و غریب کا فرق بڑھ جائے تو معاشرہ اس قابل نہیں رہتا ہے کہ یہ اپنا دفاع کر سکے۔

جب مغل سلطنت کا زوال ہوا تو اس کے ساتھ ہی اس کی اشرافیہ کو بھی زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مغل بادشاہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا وظیفہ خوار ہوا تو دربار کی شان و شوکت بھی ختم ہو گئی۔

مغل اشرافیہ نے یا تو اپنے قصبوں اور دیہاتوں میں پناہ لی یا اودھ اور دکن کی ریاستوں کی سرپرستی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب بھی اشرافیہ ملک کے تمام ذرائع کو ذات کے لیے استعمال کرے گی، اور عام لوگوں کو محتاج کر دے تو اس صورت میں اشرافیہ زوال کی ذمہ دار ہوتی ہے، اور اس کا اپنا وجود بھی قائم نہیں رہتا ہے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

birth of a nationcollapse of nationsdesmond ang birth of a nationdestruction of looth ra nationdownfall of nationsfall of nationsfeminisation of men causing the fall of nationsfounders of league of nationshistory of league of nationsis the feminisation of men causing the fall of nations?league of nationsleague of nations breakupleague of nations explainedleague of nations wweleague of nations' rise and fallnationsnations downfallorgan of league of nationsrise and fall of nationsrise of nationsrise of nations gameplaythe birth of a nationthe birth of a nation reviewthe cause of all nations: an international history of the american civil warthe cause or our destructionthe downfall of nationsthe fall of nations?the feminisation of menthe rise and fall of nationsUnited Nationsus league of nationsweather causes destructionwhy nations fail
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-sea-is-heating-up-fast-Will-marine-life-become-extinct
Previous

تیزی سے گرم ہوتا سمندر۔۔ کیا سمندری حیات ناپید ہو جائے گی؟

The-history-of-fingerprints-and-the-surprising-story-of-two-prisoners-with-similar-looks-and-names
Next

فنگر پرنٹس کی تاریخ اور دو ہم شکل و ہم نام قیدیوں کی حیران کن کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme