
دنیا کافی عرصے سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش سے دیکھ رہی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالات ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے ٹکراؤ ناگزیر ہو۔ تاہم حالیہ دنوں میں منظرنامہ اچانک بدلتا محسوس ہو رہا ہے، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر سے نسبتاً نرم اور پسپائی کی طرف اشارے ملنے لگے ہیں۔
"زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی سے ہٹ کر سفارت کاری کی جانب رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ داخلی اور عسکری دباؤ نے مل کر ایک نیا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ برسوں بعد پہلی مرتبہ ایسا لگ رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کثیرالجہتی فریم ورک کوئی بعید از قیاس بات نہیں بلکہ ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔
1. بحران بطور محرک: دباؤ کے اثرات میں کمی
واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے نے اُن کی سیاسی حکمت عملی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس واقعے کے بعد اُن کے بیانات اور لہجے میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی، اور جارحانہ انداز کی جگہ نسبتاً محتاط طرزِ عمل سامنے آیا۔
حملے کے ایک مشتبہ شخص کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اسرائیلی دفاعی افواج کی وردی میں تھا، جس سے اس معاملے کو مزید پیچیدہ زاویہ ملا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اس واقعے کو بعض حلقوں کے دباؤ سے فاصلہ اختیار کرنے کے اشارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا غیر روایتی ردعمل "ایسا اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو بہت زیادہ کام کرتے ہیں” اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ وہ بیرونی محاذ آرائی سے پیچھے ہٹنے کا سوچ رہے ہیں۔ ممکن ہے وہ اب خود کو اس پوزیشن میں سمجھتے ہوں کہ تہران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کر سکیں۔
2. یکم مئی کی حد: سیاسی بقا کی دوڑ
ٹرمپ کو ایک آئینی تقاضے کا بھی سامنا ہے۔ یکم مئی تک، جو کہ تنازع کے دو ماہ مکمل ہونے کا وقت ہوگا، انہیں عسکری کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری درکار ہوگی۔
گرتی ہوئی عوامی مقبولیت اور جنگ کے مقاصد پر اٹھنے والے سوالات نے اُن کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ اگر وہ اس تاریخ سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ کانگریس میں ممکنہ سخت بحث اور تحقیقات سے بچ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے لیے مئی سے قبل امن کا خاکہ پیش کرنا محض سفارتی قدم نہیں بلکہ سیاسی ضرورت بھی ہے۔ عسکری تعطل کو سفارتی کامیابی میں بدلنا ہی اُن کے لیے داخلی تنقید کم کرنے کا راستہ ہو سکتا ہے۔
3. سفارتی سرگرمیاں: اسلام آباد اور مسقط کا کردار
جہاں توجہ جنگی محاذ پر مرکوز ہے، وہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایشیا میں سفارتی رابطوں کو تیز کر چکے ہیں۔ تہران، اسلام آباد، مسقط اور دوبارہ اسلام آباد کے درمیان ہونے والے رابطے ایک منظم حکمت عملی کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں، جس کے بعد ماسکو اور بیجنگ کا رخ کیا گیا۔
مسقط میں مبینہ طور پر "آبنائے ہرمز معاہدہ” زیرِ غور آیا، جس میں خطے کے ممالک کے ساتھ آمدنی کی شراکت کا تصور شامل ہے۔ اس سے عمان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسلام آباد کو ایک اہم رابطہ پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ٹرمپ خود بھی اسلام آباد کا دورہ کرنے پر غور کر سکتے ہیں تاکہ پسِ پردہ رابطوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
4. عسکری حقائق: برتری کے تصور کو چیلنج
امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی فضائیہ کے ایک پرانے طیارے نے جدید دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے کویت میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
اس واقعے نے امریکی عسکری حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا موجودہ جنگی حکمت عملی مؤثر ہے یا نہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق اب مکمل عسکری فتح کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
ایسے میں توجہ "باعزت انخلا” کی طرف مبذول ہو رہی ہے۔ پینٹاگون کے اندر بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ سفارتی حل ہی واحد راستہ ہو سکتا ہے۔
5. بیجنگ کا ممکنہ کردار: حتمی ثالثی؟
اطلاعات کے مطابق اگلے ماہ 14 اور 15 تاریخ کو بیجنگ میں اہم ملاقات متوقع ہے، جہاں چینی صدر شی جن پنگ ممکنہ طور پر مرکزی ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ روس کی حمایت بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ سفارتی سلسلہ اسلام آباد سے ماسکو اور بیجنگ تک پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر بیجنگ اور ماسکو اس معاہدے کی ضمانت دیتے ہیں تو ٹرمپ اسے عالمی استحکام کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
نتیجہ: نازک امن یا حکمتِ عملی کے تحت پسپائی؟
ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت معاشی دباؤ، قانون ساز اداروں کی ممکنہ مزاحمت اور عسکری تعطل جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں اُن کے لیے سفارت کاری محض انتخاب نہیں بلکہ بقا کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔
کیا یہ عالمی سفارت کاری کے نئے دور کا آغاز ہوگا یا محض ایک وقتی حکمتِ عملی؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا کہ تہران کی جانب بڑھتا ہوا یہ قدم مستقل امن کی بنیاد بنتا ہے یا محض وقتی تناؤ میں کمی۔
__________________
روس پہنچنے پر عباس عراقچی کا بیان: پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، امریکہ کے رویے پر تحفظات
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنا دورۂ پاکستان مکمل کرنے کے بعد روس پہنچ گئے ہیں، جہاں اُن کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔ روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر نے حالیہ سفارتی پیش رفت اور ایران۔امریکہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ اُن کے مطابق مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیش رفت اور درپیش رکاوٹوں پر تبادلۂ خیال کے لیے پاکستان کا دورہ ضروری تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بعض مراحل پر بات چیت میں پیش رفت دیکھنے میں آئی، تاہم امریکہ کی جانب سے غیر متوازن رویہ اور حد سے زیادہ مطالبات سامنے آنے کے باعث مذاکرات اپنے طے شدہ اہداف حاصل نہ کر سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق انہی وجوہات کی بنیاد پر اسلام آباد میں مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ پاکستان میں ہونے والی ملاقاتیں مفید اور تعمیری رہیں۔ اس دوران ماضی کی سفارتی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور یہ غور کیا گیا کہ کن شرائط اور حالات میں مذاکراتی عمل کو دوبارہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور ایران اپنے علاقائی و بین الاقوامی تعلقات کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
___________________________




