
تصور کیجیے کہ ایک صبح آپ بیدار ہوں اور گھڑی بتائے کہ دن اب 24 نہیں بلکہ 25 گھنٹوں کا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں روزانہ ایک اضافی گھنٹہ مل جائے گا؟ کیا اسکول، دفاتر اور ہماری پوری زندگی کا نظام بدل جائے گا؟ یہ خیال بظاہر کسی سائنسی فلم یا مستقبل کے ناول کا پلاٹ معلوم ہوتا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے حقیقی سائنس موجود ہے۔ لیکن اس کہانی میں سب سے اہم لفظ ”جلد“ ہے۔۔ اور یہی وہ لفظ ہے جس پر سائنس دان ہمیں غور کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زمین کی گردش واقعی آہستہ آہستہ سست ہو رہی ہے، لیکن یہ تبدیلی اتنی تدریجی اور صدیوں پر محیط ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود یہ عمل بالکل حقیقی ہے، اور اس کے پیچھے زمین اور چاند کے درمیان ایک خاموش مگر مستقل کشمکش جاری ہے۔ وہی قوتیں جو سمندروں میں مدّوجزر پیدا کرتی ہیں، زمین کی گردش کو بھی ہلکی سی بریک کی طرح متاثر کرتی رہتی ہیں اور دن کے دورانیے میں آہستہ آہستہ اضافہ کرتی رہتی ہیں۔
”دن“ اتنا مستقل نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں
ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں یہ تصور راسخ ہے کہ ایک دن ہمیشہ 24 گھنٹوں کا ہوتا ہے۔ ہمارے اسکولوں کے اوقات، دفتری شیڈول اور موبائل فون کی الارم گھڑیاں اسی پیمانے پر چلتی ہیں۔ لیکن فلکیات دان جب زمین کی گردش کو ناپتے ہیں تو انہیں ایک دلچسپ فرق نظر آتا ہے۔
اگر سورج کے بجائے دور دراز ستاروں کو حوالہ بنا کر زمین کی گردش کو ماپا جائے تو دن کی مدت تھوڑی کم نکلتی ہے۔ اس کو سڈیریئل ڈے (Sidereal Day) کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین بیک وقت دو حرکتیں کر رہی ہوتی ہے: ایک طرف وہ اپنی محور پر گھومتی ہے اور دوسری طرف سورج کے گرد گردش بھی کرتی ہے۔
چنانچہ جب زمین ایک مکمل چکر لگا لیتی ہے تو سورج کو دوبارہ آسمان میں اسی مقام پر لانے کے لیے اسے تھوڑا سا اضافی گھومنا پڑتا ہے۔ اسی اضافی گردش کی وجہ سے ”شمسی دن“ یعنی سولر ڈے (Solar Day) تقریباً 24 گھنٹوں کا بنتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ 24 گھنٹے بھی ہمیشہ بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں معمولی سا اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، اور طویل مدت میں یہ دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے۔
زمین کی رفتار کیوں کم ہو رہی ہے؟
زمین کی گردش کے سست ہونے کی سب سے اہم وجہ چاند ہے۔ چاند کی کششِ ثقل زمین کے سمندروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس سے پانی میں ابھار پیدا ہوتا ہے اور مدّوجزر یعنی ”ٹائیڈز“ وجود میں آتے ہیں۔ جب زمین اپنی محور پر گھومتی ہے تو یہ ابھار مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔
لیکن یہ ابھار ہمیشہ چاند کے عین نیچے نہیں ہوتے۔ سمندروں کی گہرائی، سمندری فرش کی ساخت اور پانی کی رگڑ اس عمل میں مداخلت کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایک قسم کی مزاحمت پیدا ہوتی ہے جو زمین کی گردش سے معمولی سی توانائی کھینچ لیتی ہے۔
اسے یوں سمجھیں کہ جیسے آپ ایک گھومتی ہوئی دفتر کی کرسی پر بیٹھے ہوں اور آپ کا پاؤں فرش پر ہلکا سا رگڑ کھا رہا ہو۔ کرسی گھومتی تو رہے گی، لیکن آپ کے پاؤں کی رگڑ کی وجہ سے اس کی رفتار بتدریج کم ہوتی جائے گی۔ اسی طرح زمین کی گردش بھی بہت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، اور اس کے بدلے میں چاند ہر سال چند سینٹی میٹر زمین سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دراصل توانائی کے تبادلے کا نتیجہ ہے۔
ناسا (NASA) کی تحقیق کے مطابق ”اس رگڑ کی وجہ سے زمین کی گردش سے توانائی چھن رہی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف دن طویل ہو رہے ہیں بلکہ چاند بھی آہستہ آہستہ زمین سے دور ہوتا جا رہا ہے۔“
سیکنڈز کی جنگ: لیپ سیکنڈ اور ایٹمی گھڑیاں
اس حوالے سے یہ سوال فطری ہے کہ جب زمین کی رفتار میں تبدیلی انتہائی معمولی ہو، اتنی معمولی کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اسے محسوس نہ کر سکے، تو پھر سائنس دان اس کا پتہ کیسے لگاتے ہیں؟ اس کا جواب جدید فلکیاتی پیمائش اور تاریخی ریکارڈز میں چھپا ہے۔
ماہرین نہایت درست ایٹمی گھڑیوں یعنی اٹامک کلاک کے وقت کا تقابل زمین کی حقیقی گردش سے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم زمانوں کے سورج اور چاند گرہن کے ریکارڈ بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے اوقات فلکیاتی حساب سے بالکل درست انداز میں معلوم کیے جا سکتے ہیں۔
جب ان قدیم ریکارڈز کا جدید حسابات سے موازنہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی گردش میں معمولی مگر واضح تبدیلی آ چکی ہے۔
اسی وجہ سے عالمی نظامِ وقت میں کبھی کبھار ”لیپ سیکنڈ“ شامل کیا جاتا ہے تاکہ گھڑیوں کا وقت زمین کی حقیقی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔
ماضی میں عالمی وقت کو زمین کی گردش کے مطابق رکھنے کے لیے ”لیپ سیکنڈ“ کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ ”انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹم سروس“ وہ ادارہ ہے جو باقاعدہ بلیٹن جاری کر کے بتاتا ہے کہ زمین کی سمت اور وقت میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔
ایک سیکنڈ کا اربواں حصہ کم ہونا شاید عام انسان کے لیے اہمیت نہ رکھتا ہو، لیکن سائنس دانوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ”نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی“ (NIST) اور ”یو ایس نیول آبزرویٹری“ جیسی تنظیمیں ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے وقت پر کڑی نظر رکھتی ہیں۔
تو پھر 25 گھنٹوں کا دن کب آئے گا؟
یہ وہ سوال ہے جو اکثر خبروں کی سرخی بن جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور طویل المدت ہے۔
سائنس دانوں کے موجودہ اندازوں کے مطابق اگر زمین اور چاند کا نظام اسی رفتار سے ارتقا پذیر رہا تو زمین پر دن کے 25 گھنٹے ہونے میں تقریباً 200 ملین سال لگ سکتے ہیں۔
یعنی یہ تبدیلی اتنی دور کے مستقبل میں متوقع ہے کہ انسانی تہذیب، ہمارے کیلنڈر یا ہماری روزمرہ زندگی پر اس کا کوئی عملی اثر نہیں پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں، ہم اور ہماری آنے والی بے شمار نسلیں بھی 24 گھنٹوں کے دن کے ساتھ ہی زندگی گزارتی رہیں گی۔ گئی بھینس پانی میں!
دن کی مدت کو متاثر کرنے والے دوسرے عوامل
مدّوجزر زمین کی گردش میں تبدیلی کا بنیادی سبب ضرور ہیں، لیکن یہ واحد عنصر نہیں۔
زمین پر جب بڑے پیمانے پر مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، مثلاً گلیشیئرز کے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کے استعمال، یا سمندری سطح میں تبدیلی کے باعث، تو زمین کی گردش میں بھی معمولی سا فرق آ سکتا ہے۔
یہ فرق انتہائی معمولی ہوتا ہے، لیکن جدید سائنسی آلات اسے بھی ناپ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین زمین کو ایک مکمل سخت اور کامل گھومنے والا لٹو نہیں سمجھتے۔ حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ اور متحرک نظام ہے جس کی گردش مختلف قدرتی عوامل سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔
چنانچہ جب آپ کہیں یہ سنیں کہ ”زمین پر جلد ہی دن 25 گھنٹوں کے ہو جائیں گے“ تو یاد رکھیے کہ یہ خیال سائنسی طور پر ممکن ضرور ہے، لیکن انسانی پیمانے پر نہیں۔ یہ تبدیلی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سال کے عرصے میں وقوع پذیر ہوگی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کے لیے ہماری گھڑیاں، کیلنڈر اور روزمرہ زندگی بدستور 24 گھنٹوں کے دن کے گرد ہی گھومتی رہیں گی، بالکل اسی طرح جیسے زمین اپنی محور پر خاموشی سے گردش کر رہی ہے، اور چاند کے ساتھ اپنی قدیم فلکیاتی رقص میں مصروف ہے۔ تو فی الحال انہی چوبیس گھنٹوں پر گزارا کریں۔
____________________________________________________________________




