Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

جسمانی حرارت سے بجلی بنانے والی کراماتی انگوٹھی

By Akhtar Rasool
فروری 14, 2021 2 Min Read
0

ہم جانتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اتارچڑھاؤ کے اصول پر تھرموالیکٹرک جنریٹر کام کرتے ہیں۔ اب جامعہ کولاراڈو کے ماہرین نے تھرموالیکٹرک انگوٹھی بنائی ہے جو نہ صرف حرارت سے بجلی بناتی ہے بلکہ کسی نقصان کی صورت میں اپنی مرمت آپ بھی کرسکتی ہے

اسی اصول پر دنیا کا سب سے چھوٹا ریفریجریٹر اور تھرمل رنگ و روغن بنانے کے علاوہ اسمارٹ فون چلانے کے کامیاب تجربے بھی کیے جا چکے ہیں. اس انگوٹھی کا ابتدائی نمونہ یا پروٹو ٹائپ بھی 2018ع میں بنا لیا گیا تھا

یہ ایک لچکدار انگوٹھی ہے جو موڑی اور کھینچی جا سکتی ہے۔ اس کا اولین مقصد کمپیوٹر اور دیگر آلات کو انگوٹھی میں رکھنا ہے جبکہ اس دوران کسی خرابی کو یہ خود دور بھی کرسکتی ہے

اس کی الیکٹرانک جلد پولی امائن نامی خاص پالیمر سے بنائی گئی ہے، جس پر چاندی کے نینو ذرات چھڑکے گئے ہیں۔ اس طرح گھسنے اور مڑنے پر یہ خود کی مرمت کرتی ہے۔ اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ انسانی جسم ہی اس کی بیٹری ہے جس کی حرارت اسے بجلی دیتی ہے

اوپر کی ہوا اور انگوٹھی کے نیچے کی جلد کا درجہ حرارت کا فرق ہی اسے تھرموالیکٹرک بناتا ہے۔ اس کے لیے بہت چھوٹی تھرموالیکٹرک چپس لگائی گئی ہیں

سائنسدانوں کے مطابق ایک مربع سینٹی میٹر جلد کی حرارت سے انگوٹھی ایک وولٹ بنا سکتی ہے، جو صحت کے برقی پہناووں یا اسمارٹ واچ کو چلانے کے لیے بہت کافی ہے

اگر اسے پھیلا کر کلائی کا پٹہ بنایا جائے تو بجلی کی پیداوار 5 وولٹ تک بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگوٹھی ماحول دوست ہے اور بے کار ہونے پر ری سائیکل ہوسکتی ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیس بک کی اسمارٹ واچ کے منتظر مداحوں کے لیے خوشخبری

Next

ﺳﯿﻨﯿﭧ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ، ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﯽ ﭨﯽ ﺍٓﺋﯽ، ﺍﯾﻢ ﮐﯿﻮ ﺍﯾﻢ، ﺟﯽ ﮈﯼ ﺍﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻃﮯ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme