پاکستان ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سرگرم

سنگت ڈیسک

28 فروری کو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایرانی اہداف پر فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب سینکڑوں میزائل اور راکٹ فائر کیے۔ اسی دوران خلیجی خطے میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات کو بھی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔

بعد ازاں 8 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک محدود اور مشروط فائر بندی پر اتفاق ہوا، جس میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ اس معاہدے کو اسرائیل کی حمایت بھی حاصل تھی۔

اسلام آباد مذاکرات کے بعد دوسرے دور کی تیاری

اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوا۔ تاہم اب اطلاعات کے مطابق اسی ہفتے مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ پاکستان میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد تہران میں

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر  اور وزیر داخلہ محسن نقوی اپنے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔

یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایران کی تصدیق: پاکستان کے ذریعے رابطے جاری ہیں

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح طور پر پیش کیا جا چکا ہے اور مختلف سفارتی رابطوں میں اسے بار بار دہرایا گیا ہے۔



جوہری پروگرام پر ایران کا مؤقف

ایران نے ایک بار پھر امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے۔

تہران کے مطابق اسے اپنی ضروریات کے مطابق یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا حق حاصل ہے، تاہم اس کی سطح اور نوعیت پر مذاکرات کی گنجائش موجود ہے۔

پاکستان کی ثالثی کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی راہ ہموار ہو رہی ہے، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی اور انتہائی نازک ہے۔


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button