Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

مغرب میں مونارک تتلیوں کی نسل معدوم ہونے کے قریب، آبادی 99 فیصد کم ہو چکی

By Akhtar Rasool
مارچ 25, 2021 2 Min Read
0

ویسٹرن بٹرفلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور خیال ہے کہ 1980ع کے بعد سے اب تک ہر سال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے

بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980ع سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے

تحقیق میں شامل جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھنے والی سائنسداں کیٹی پروڈِک کا کہنا ہے کہ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں

کیٹی پروڈِک کا خیال ہے کہ ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جا پہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہو رہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جا رہی ہیں

اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں  نے مغربی امریکا سے جمع کیا گیا چالیس  سالوں پر مبنی ڈیٹا پیش کیا ہے۔ اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس میں مغربی یورپ کی گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے۔ لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے 230 شہروں میں موسمِ خزاں کا اوسط درجۂ حرارت بھی بڑھا ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ اوسط سے کچھ ہی زیادہ ہے لیکن تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے، ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور ہائبرنیشن کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں۔ مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

خبردار، کراچی میں شدید گرمی کی پیشگوئی

Next

بنی نوع انسان! سمندروں کا تحفظ کرو وہ تمہیں تین گنا فائدے لوٹائیں گے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme