Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

زرداری نے نواز شریف کے ساتھ ہاتھ کیا ہے یا ان کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار؟

By Akhtar Rasool
مارچ 28, 2021 6 Min Read
0

تازہ صورتحال یہ ہے

نوﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﯽ ﻧﺎﺋﺐ ﺻﺪﺭ ﻣﺮﯾﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﯿﻨﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮉﺭ ﺍٓﻑ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺍﺭﮐﺎﻥ ﺳﮯ مل کر ﺑﻨﺎ، ﺳﻠﯿﮑﭧ ﺑﻨﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﯾﮟ، ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺳﺐ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮨﮯ، ﻟﮑﯿﺮ ﮐﮭﻨﭻ ﮔﺌﯽ، ﺻﻒ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺲ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺎﻧﯿﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ۔ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﮟ، ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮈﯾﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﮯ۔ ﺟﺒﮑﮧ دوسری جانب ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺑﻼﻭﻝ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺑﮭﭩﻮ ﻧﮯ ﺗﺮﮐﯽ ﺑﮧ ﺗﺮﮐﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﯾﻢ ﻧﻮﺍﺯ ﺳﻤﯿﺖ ﺩﯾﮕﺮ ﻟﻮﮒ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ  کے خلاف ﺑﯿﺎﻥ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﻟﯿﮟ۔ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺭﮐﮭﮯ، ﺳﻠﯿﮑﭩﮉ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺩﯾﺎ، ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ، سلیکٹڈ ہونا ہمارے خون میں نہیں یہ عادت لاہور کے ایک خاندان کے خون میں شامل ہے. ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﻭﻭﭦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮﻭﭘﯿﮕﻨﮉﮦ، ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﮯ۔

تو جناب،
کسی ظالم نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیا خوب کہا تھا کہ یہ دراصل ایک ہی شوہر کی کئی بیویاں ہیں، جن میں سے ہر ایک بس اتنا چاہتی ہے کہ بس وہی ایک اپنے شوہر کی منظور نظر بنی رہے، ساری مارا ماری، غل گپاڑے، رونے دھونے، روٹھنے مننے اور دھمکیوں بھبھکیوں کا مقصد بس یہی ہے.

ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﺳﻨﮓ ﭘﺮﯾﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺍﺭ ﮔﺌﮯ،
ﺗﮑﺘﮯ ﺗﮑﺘﮯ ﺭﺍﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﻧﯿﻦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ!

پہلے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور لانگ مارچ کے لیے نواز شریف کی وطن واپسی کی شرط رکھنے اور اب یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں بطور اپوزيشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ

یہ وہی زرداری صاحب ہیں جنہوں نے ﺍﯾﮏ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻗﺒﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ کہ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ یہ تاثر عام ہے کہ ﺟﺐ ﺑﺎﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻔﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﯽ ﮨﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﯾﮕﺮ ﺗﻮ ﺍٓﺻﻒ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺛﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، لیکن سندھی کے مقولے کے مصداق.. اس معاملے میں دلہا راجہ اگر کھلاڑی ہیں، تو دلہن بھی کچھ کم نہیں!

ﺍﯾﮏ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﻗﺒﻞ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺻﺮﺍﺭ پر ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﻌﺎﮨﺪﮮ ﻗﺮﺍٓﻥ ﻭ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻘﺪﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍٓﺝ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ. لیکن سوال یہ ہے کہ، کیا ایسا ہمیشہ صرف ایک ہی طرف سے ہوتا رہا ہے؟

اب کی بار گلہ یہ ہے کہ زرداری صاحب ﻧﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﯿﭩﺮ ﮨﯽ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺑﺎﻻ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ۔ ﺗﺎﮨﻢ، ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮐﻮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﺑﻨﻮﺍ ﮐﺮ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﺍﻭﺭ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﻮ ﻣﺸﺘﻌﻞ کر دیا ہے. اور اب ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ کا ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺑﮭﯽ غیر یقینی سے دوچار ہو چکا ہے

ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺍﻻﺋﻨﺲ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﮬﭽﮑﮧ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺗﺎﮨﻢ، ﺍﮔﺮ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺑﻖ ﺻﺪﺭ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺍﻻﺋﻨﺲ ﮐﻮ ﻏﯿﺮﯾﻘﯿﻨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ہی لٹکا کر رکھیں گے.
سیاسی معاملات سے باخبر حلقوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا اکٹھ محض ایک سیاسی مجبوری تھی، ایسی مجبوری جس میں پہلے دن سے ہی کوئی کسی پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھا.

نوﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ، ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺍﺱ ﺍﻻﺋﻨﺲ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺻﻠﺢ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﮐﮯ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ہے

ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ میں ﻣﺸﺘﺒﮧ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻟﮍﯼ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﺍﻭﺭ نوﻥ ﻟﯿﮓ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻗﻮﯼ ﺍﻣﯿﺪﯾﮟ ﺗﮭﯿﮟ، لیکن ان امیدوں کی بنیاد بہرحال مجبوری پر ہی ٹکی ہوئی تھی

ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﺻﯽ ﺧﻮﺵ ﺍٓﺋﻨﺪ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺳﺴﭩﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﭼﺎﮨﮯ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﮈﯾﻞ ﮐﯽ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﻀﻞ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ نہ ہی ﺍﺳﺘﻌﻔﯽٰ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻧﺌﮯ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮐﺮﺗﮯ

ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ، اس لیے وہ اپنے تازہ اقدامات سے اگلے الیکشن میں ہل من مزید کے خواہشمند ہیں اور شنید ہے کہ آزاد کشمیر کے اگلے الیکشن میں انہیں اس حوالے سے کچھ امید بھی دلوائی گئی ہے، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ ﺳﮯ ﺗﺼﺎﺩﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ

ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﮧ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮈﻭﻣﯿﺴﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻧﻈﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﺍﮔﺮ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ، اس لیے نواز شریف کا باہر بیٹھ کر "ڈٹا رہنا” بھی ان کی مجبوری ہی ہے

ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺮﺧﻼﻑ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻭﮦ اپنی جارحانہ حکمت عملی سے ﺍﺳﭩﯿﺒﻠﺸﻤﻨﭧ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اس نہج پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کی پوزیشن کو کمزور کر کے اپنے لیے زیادہ مراعات اور مستقبل میں مریم نواز کے لیے محفوظ پوزیشن کی یقین دہانی حاصل کر سکیں، ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ کے ﺳﺨﺖ لہجے کی وجہ بھی یہی ہے، دراصل زرداری ہوں یا نواز شریف، مقصد دونوں کا ایک ہی ہے، ایک اسے زہر سے حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسرا گُڑ سے!

نوﻥ ﻟﯿﮓ کی ﺍﻋﻠﯽٰ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ کہ ﺍﺱ ﻣﺤﺎﺫ ﺍٓﺭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ، ﺟﺒﮑﮧ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﻮﺍﺯﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﯾﺌﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﺛﯿﻖ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻟﮓ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﯽ ﮈﯼ ﺍﯾﻢ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ.

زرداری نے نواز شریف کے ساتھ ہاتھ کیا ہے یا ان کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار، یہ تو وقت ہی بتائے گا…

سلیکٹڈ سلیکٹڈ کے شور کو ایوب اور ضیاء مسکراتے ہوئے سن رہے ہیں اور ان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی جا رہی ہے..

ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﺳﻨﮓ ﭘﺮﯾﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺍﺭ ﮔﺌﮯ
ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﺳﻨﮓ ﭘﺮﯾﺖ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮐﺲ ﺳﻮﺗﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺍﺭ ﮔﺌﮯ
ﺗﮑﺘﮯ ﺗﮑﺘﮯ ﺭﺍﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﯿﻦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﻧﯿﻦ ﻣﻼﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﻻﺝ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﻦ ﻣﻼﻧﮯ ﮐﯽ
ﺁﻧﮑﮫ ﭼﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺑِﺮﮨﻦ ﮐﮯ ﺗﯿﺮ ﮐﻠﯿﺠﮯ ﻣﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﮈﻭﺏ ﮔﯿﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺑِﺮﮨﺎ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ
ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻞ ﺩﯾﭗ ﺟﻼ ﮐﺮ ﻧﯿﻦ ﺑﭽﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺁ ﺟﺎﺅ، ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﺑﺎﻟﻢ، ﺗﻢ ﺟﯿﺘﮯ، ﮨﻢ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﻣﺎﻧﮓ ﻣِﺮﯼ ﺳﯿﻨﺪﻭﺭ ﮐﻮ ﺗﺮﺳﮯ، ﻧﯿﻨﺎﮞ ﺗﺮﺳﯿﮟ ﮐﺎﺟﻞ ﮐﻮ
ﺭﻭﭨﮫ ﮐﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﮨﺎﺭ ﺳﻨﮕﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﮐﺲ ﮐﯽ ﭘﯿﺖ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮐﺮ ﮨﻤﺮﯼ ﺳُﺪﮪ ﺑِﺴﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ
ﺭﻭﺗﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺑِﺮﮨﻦ ﮐﻮ ﺗﻢ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﯾﺲ ﺳﺪﮬﺎﺭ ﮔﺌﮯ…

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آپ کو باپ کے کہنے پر باپ کے ووٹ ملے، مریم نواز. آپ حوصلہ رکھیں اور پانی پئیں. بلاول

Next

سلیم نظامانی نامی شخص نے سینکڑوں کونجوں کی جان بچا لی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme