Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ نیند کی کمی آپ کے دماغ کے ساتھ کیا کر سکتی ہے

By Akhtar Rasool
اپریل 24, 2021 2 Min Read
0

یورپی ماہرین کی ایک کثیرالاقوامی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ ادھیڑ عمری میں روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والوں کو بڑھاپے میں دماغی خلیات/سیلز کے تیزی سے خاتمے یعنی ’’ڈیمنشیا‘‘ کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے

اب تک کم نیند کا شریانوں، دل اور دماغ کی مختلف بیماریوں سے واضح تعلق سامنے آچکا ہے۔

یہ تحقیق پینتیس سال کے طویل عرصے تک جاری رہی، جو 1985ع میں شروع کی گئی تھی، اس تحقیق میں برطانیہ، ہالینڈ، فرانس اور فن لینڈ کے ماہرین شریک ہیں

اس تحقیق میں 35 سے 55 سال کے تقریباً دس ہزار رضاکار بھرتی کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں 25 سال تک ان رضاکاروں میں سونے جاگنے کے معمولات اور صحت کا محتاط جائزہ لیا گیا، جس کے بعد مزید دس سال تک یہ مطالعہ جاری رکھا گیا

مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ جو لوگ ادھیڑ عمری میں خراب اور ادھوری نیند کا مسلسل شکار رہتے ہیں، ان کی بڑی تعداد بڑھاپا شروع ہونے پر ہی ڈیمنشیا میں بھی مبتلا ہوجاتی ہے

آن لائن ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینے والے افراد میں دماغ تیزی سے ختم ہونے (ڈیمنشیا) کا خطرہ زیادہ نمایاں، یعنی معمول کی نیند لینے والوں کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ تھا

واضح رہے کہ ڈیمنشیا کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ دماغی خلیوں کے تیزی سے مرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مختلف دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا مجموعی نام ہے

اس نوعیت کی بیماریاں بہت آہستگی اور خاموشی سے اپنی پیشرفت جاری رکھتی ہیں۔ اسی لیے ان کے اثرات نمایاں ہونے میں بعض مرتبہ دس سے پندرہ سال تک لگ جاتے ہیں

البتہ ان اثرات کے ظاہر ہو جانے کے بعد اکثر مریض کے پاس زیادہ وقت نہیں بچتا اور وہ چند سال بعد ہی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے

مذکورہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ادھوری/خراب نیند اور ڈیمنشیا میں تعلق کسی شخص کی رنگت، نسل اور جغرافیائی تعلق پر بالکل بھی انحصار نہیں کرتا۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﺩﻭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﯿﮟ 60 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻨﺪﺅﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺭﺳﻮﻣﺎﺕ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ

Next

نابینا فوجی چیونٹیاں اور ان کے کارنامے، ایک نئی حیرت انگیز تحقیق

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme