Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کیا انورٹر اے سی کم بجلی خرچ کرتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
جون 1, 2021 4 Min Read
0

یہ مسئلہ پرانا ہے کہ آپ کو سورج کی تپش اور گرم موسم سے بچنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، مگر اے سی آن کرنا بجٹ پر کافی بھاری بھرکم بوجھ ثابت ہوتا ہے۔ لیکن ایجاداتِ نو اور ٹیکنالوجی نے ہمیں اس مسئلے سے نجات دلوا دی ہے؛ آج غریب ہوئے بغیر بھی اے سی جیسے فوائد سے لطف اندوز ہونا ممکن ہے۔

انورٹر ٹیکنالوجی والے اے سی کم بجلی خرچ کرتے ہیں، پیسے بچاتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ آرام فراہم کرتے ہیں۔

تو آخر یہ انورٹر پر مشتمل ایئر کنڈشنگ ہے کیا اور یہ موجودہ ٹیکنالوجی سے کس طرح مختلف ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں:

ہم عام طور پر اپنے کمرے کا درجہء حرارت اپنی ضرورت کے مطابق رکھتے ہیں (مثلاً ہم تھرموسٹیٹ کو 25 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھتے ہیں)۔ ہماری خواہش کے مطابق درجہء حرارت حاصل کرنے کے لیے کمپریسر کو ایک مقررہ رفتار سے چلنا ہوتا ہے جو کہ اس کی سب سے زیادہ رفتار ہوتی ہے، جس کے باعث بجلی بھی سب سے زیادہ خرچ ہوتی ہے۔

درجہء حرارت مطلوبہ سطح پر پہنچ جانے پر تھرموسٹیٹ کمپریسر ٹرپ کر دیتا ہے اور اس کا بلوور کافی سست رفتاری سے چلنے لگتا ہے۔ پر اگر ہمارے کمرے میں ہوا لیک ہونے کے راستے ہوں (جہاں سے گرم ہوا اندر آتی ہو) تو کمرے کا درجہء حرارت یکایک بڑھ جاتا ہے۔ نتیجتاً تھرموسٹیٹ کمپریسر کو پھر سے چلنے اور ہمارے مطلوبہ درجہء حرارت کو بحال کرنے کی ہدایات جاری کر دیتا ہے

مثالی طور پر کمپریسر کا ٹرپ ہوجانا فائدہ مند ہونا چاہیے کیونکہ جب کمپریسر چل نہیں رہا ہوتا تو ہم بجلی کم استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ کمپریسر کی بار بار ٹرپنگ اور دوبارہ اسٹارٹ ہونے کی وجہ سے زیادہ بجلی خرچ ہوتی ہے، کیونکہ جب یہ اپنے نارمل موڈ پر چل رہے ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں اسٹارٹ ہونے کے لیے زیادہ بجلی کھینچتے ہیں۔

انورٹر ٹیکنالوجی نے اس چیز کو بدل کر رکھ دیا ہے: کمپریسر کے چلنے کو مختلف رفتار سیٹ کرنے والی ڈیوائس کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جو کہ بجلی کے ایک ڈی سی ذریعے سے چلتی ہے۔

سادہ زبان میں کہیں تو یہ کمرے کا درجہ حرارت محسوس کرتے ہوئے کمپریسر کو چلانے والی موٹر کی رفتار کو مستحکم رکھتا ہے۔ اگر کمرے کا درجہ حرارت زیادہ ہے تو کمپریسر بھی اس مطابق تیز رفتاری سے چلے گا۔ اگر درجہ حرارت گرتا ہے تو کمپریسر کی رفتار بھی گر جاتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کبھی بھی کمپریسر کو ٹرپ نہیں ہونے دیتی، بلکہ خواہش کے مطابق ٹھنڈک کو برقرار رکھنے کے لیے اسے مناسب رفتار سے چلاتی رہتی ہے۔ اس طرح ایک عام کمپریسر اسٹارٹ ہونے کے دوران بجلی کا استعمال کم ہوجاتا ہے۔

انورٹر اے سی مہنگے ہوتے ہیں مگر یہ اپنی قیمت کو مؤثر کولنگ کے ذریعے پورا کر دیتے ہیں۔ کم اتار چڑھاؤ کی وجہ سے یہ بجلی بھی کم خرچ کرتے ہیں۔

انورٹر اے سی بجلی کے بلوں میں 30 فی صد کمی لاتے ہیں مگر ماحول کے درجہء حرارت، کولنٹ گیس کی قسم، موٹر کی قسم اور دوسرے تکنیکی پرزوں کی بناء پر یہ شرح 50 فی صد تک بھی جا سکتی ہے۔

اس طرح یہ چیزیں انورٹر اے سی کو کم آواز، کم خرابیوں اور بجلی کے کم استعمال کے ساتھ پرانے اے سی یونٹس کے مقابلے میں زیادہ بھروسہ مند اور مؤثر بنا دیتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک 1.5 کلوواٹ ریٹنگ والا ایک نان انورٹر اے سی 7.0 ایمپیئرز خرچ کرتا ہے اور ایک انورٹر اے سی جو 2.6 کلوواٹ کی ریٹنگ رکھتا ہے، (0.9 سے 3.0 کلوواٹ کے درمیان کام کرتا ہے) 2.8 ایمپیئرز کھینچتا ہے۔ تو ایک نان انورٹر اے سی 8 گھنٹے چلنے پر 10 یونٹس خرچ کرتا ہے، جبکہ ایک انورٹر اے سی اتنی ہی دیر تک چلنے کے بعد صرف 4 یونٹس خرچ کرتا ہے۔

اگر ہم یونٹ کی قیمت 6 روپے فی یونٹ مقرر کرتے ہیں تو ایک نان انورٹر اے سی ماہانہ 1,800 روپے کی بجلی خرچ کرتا ہے جبکہ ایک انورٹر اے سی اتنا ہی چلنے پر ماہانہ 720 روپے کی بجلی خرچ کرتا ہے۔ اس طرح آپ کو ماہانہ 1,080 روپے کی بچت ہوتی ہے۔

اگر ایک انورٹر اے سی پر 1 لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے اور اسی ریٹنگ اور کولنگ کے لیے ایک نان انورٹر اے سی پر 65,000 روپے کی لاگت آتی ہے، تو انورٹر اے سی کا خرچہ صرف تین سالوں میں ہی واپس موصول ہو جاتا ہے۔

اگر آپ کہیں کہ انورٹر اے سی پرانے ماڈلز کے مقابلے میں مہنگے ہوتے ہیں، تو آپ درست بھی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ انورٹر اے سی کے لیے اپنے پیسے خرچ کرسکتے ہیں، تو بدلے میں طویل مدت تک یہ آپ کے کافی پیسے بچائیں گے۔

بشکریہ ڈان نیوز

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حکومت کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور ٹیکس گزاروں کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان

Next

دنیا کے 55 فیصد پلاسٹک فضلہ کے لئے بیس کمپنیاں ذمہ دار ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme