آپ کا اگلا کمپیوٹر شاید کسی کھاد کے ڈھیر میں اُگے گا۔
ذرا لمحہ بھر کو تصور کیجیے کہ آپ کے باورچی خانے کے کاؤنٹر پر رکھا ہوا ایک مشروم نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ ڈیٹا بھی محفوظ کر رہا ہے، ردِعمل دے رہا ہے، اور وقت کے ساتھ ”سیکھ“ رہا ہے۔۔ یہ محض سائنسی افسانہ نہیں، بلکہ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حیران کن…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
پرندوں کے صبح کے گیت کا راز اور سائنس
سورج ابھرنے کے لیے ابھی راستے میں ہوتا ہے لیکن اس کے روشن قدموں کی آہٹ پا کر فضا میں ایک سرگوشی گونجنے لگتی ہے، پرندوں کا اجتماعی نغمہ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زمین، ہوا اور روشنی ایک ساتھ جاگتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آخر پرندے طلوعِ آفتاب سے پہلے اتنی…
یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…
بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا
دنیا کے نقشے پر ایشیا آج صرف آبادی یا معیشت کا استعارہ نہیں بلکہ تضاد کی ایک زندہ تصویر ہے، جہاں فلک بوس عمارتوں کے سائے میں جھونپڑیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی چمک میں لاکھوں چہرے اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو بظاہر ترقی کے…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
زیرِ زمین دنیا: کیا ارب پتی ’انسانیت کے بعد‘ کی زندگی کی تیاری کر رہے ہیں؟
دنیا کی سطح پر زندگی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت لکھ رہی ہے، روبوٹس گاڑیاں چلا رہے ہیں، اور انسان خود کو کائنات کا سب سے ذہین مخلوق سمجھ رہا ہے، لیکن زمین کے اندر گہرائی میں ایک خاموش تعمیر جاری ہے۔ وہاں، جہاں روشنی کم اور راز زیادہ ہیں،…
سمندر، ساحل کی سرحدوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے!
ہمارے شہروں کے نیچے ایک بے چین لہر سانس لے رہی ہے۔ روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں ہم اسے سنتے نہیں، مگر وہ ہمیں مسلسل دیکھ رہی ہے۔ سمندر جو ہمیشہ چھٹیوں، شام کی ہوا اور نمکین لہروں کا استعارہ تھا، اب ایک سخت حقیقت بن چکا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی حدود بڑھا رہا…