زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
شام: نویدِ صبح یا خطے میں شام کے سایوں کی یلغار
شام میں بعث پارٹی اور اسد خاندان کے اقتدار کی بالآخر شام ہو گئی۔ طاقت، جبر اور بے رحمی کی ایک بڑی علامت محض چند دنوں میں قصہِ پارینہ ہونے کے سفر پر روانہ ہوئی۔ ایسا سفر کہ اس طاقت اور جبر کی نشانی بنے رہے بشار الاسد کے سفر کے آغاز کا تو معلوم…
ملک میں مہنگائی کی حکومتی لوٹ سیل، ریکارڈ قرضے اور کابینہ میں مزید توسیع۔۔
گزشتہ دنوں معروف تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ”اسٹاک ایکسچینج سے گزارش ہے کہ آئندہ وہ جب بھی اوپر جائے تو پاکستانی عوام کو بھی ساتھ لے کر جائے۔“ اس ٹویٹ کا پسِ منظر یہ ہے کہ ایک طرف روزانہ کی بنیاد پر اسٹاک ایکسچینج کے ریکارڈ حد تک نفسیاتی…
زندگی کے یہ رنگ بھی دیکھنے ہی پڑیں گے
آج کل ٹک ٹاک ویڈیوز اور فیس بک ریلز کا زمانہ ہے، ایسے بہت سے ویڈیو کلپ ملیں گے جن میں کوئی نوجوان چپکے سے کیمرہ اٹھائے اپنے کسی اہل خانہ یا دوست کا تعاقب کرتا اور اس کی دلچسپ حرکتوں کو ریکارڈ کرتا ہے۔ آج کل ہمارے حوالے سے کوئی ریکارڈنگ کرے تو اکثر…
جمہوریت کے رنگ ڈھنگ
آج ہم اپنے طور پر جمہوریت کے رنگ روپ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اساتذہ سے جمہوریت کے بارے میں ہم کچھ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ ہمیں ٹال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، فقیروں کا کیا کام جمہوریت اور آمریت سے؟ تم لوگ اللّٰہ اللّٰہ کیا کرو، اور…
”میں نے پہاڑ کی چوٹی سے ارضِ موعودہ کو دیکھا ہے۔۔“ وہ تقریر جس کے بعد مارٹن لوتھر کنگ کو قتل کر دیا گیا!
ایک پُر سکون شام، 3 اپریل 1968 کی شب، جب میمفس، ٹینیسی میں بادلوں نے زمین کو اپنی چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ شہر کے صفائی کارکن (سینیٹری ورکرز) اپنی تنخواہوں میں اضافے اور برابری کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ ان مظاہروں کا آغاز یکم فروری 1968ع کو دو…
ہمارے اندرونی سکون اور خوشی کو غارت کرنے والی دس عادات
زندگی کا راستہ وہی بن جاتا ہے جو ہم روزانہ دہراتے ہیں۔ ہم آخر کار وہی بنتے ہیں، جو ہم بار بار کرتے ہیں۔ یہی تو ہماری عادات ہیں، جنہیں ہم لاشعوری طور پر دہراتے رہتے ہیں، جو ہم بار بار کرتے ہیں۔۔ زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنے اندرونی سکون اور خوشی کو…
ٹیکسلا کی لوک کہانیاں جو دو ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں
ٹیکسلا کس نے بسایا، یہ سوال حل طلب ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر سر جان مارشل تقریباً سو سال پہلے ٹیکسلا کی کھدائیاں نہ کرتے اور یہاں سے وہ کتبہ دریافت نہ کرتے جس پر شہر کا نام ٹیکسلا لکھا ہوا تھا توہم آج بھی اس شہر کو شاہ ڈھیری ہی پکار رہے…