شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…
دریچے سے دور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کبھی وہ زمانہ تھا کہ کہانی شفیق ماں کی طرح اسے لوریاں دیتی تھی۔ اس وقت وہ ورکشاپ میں کام کرتا تھا۔ دن بھر ہتھوڑوں کی آوازوں میں کرچ کرچ ہو کر جب شام کو گھر لوٹتا تو کہانی دبے پاؤں اس کے پیچھے آتی اور کسی سنسان سڑک پر اس کا ہاتھ تھام کر…
خوامخواہ کے سوالات (افسانہ)
دوپہر سے بادل گِھر آئے تھے۔ کالے نیلے بادل جانے کہاں کہاں سے جمع ہوگئے تھے۔ ہوا تیز چلنے لگی۔ آنگن میں سیم کی پھلی کا درخت ہلنے لگا۔ دوچار پھلیاں یکے بعد دیگرے ٹوٹ کر پیڑے سے نیچے گر پڑیں گھاس، سوکھے ڈنٹھل اور پتے ہوا کی انگلی پکڑ کر چکراتے ہوئے اوپر…
ندی (افسانہ)
ندی بہت بڑی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا پاٹ کافی چوڑا رہا ہوگا۔ مگر اب تو بے چاری سوکھ ساکھ کر اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا، جب اس کے دونوں کناروں پر تاڑ اور ناریل کے آسمان گیر درخت اُگے ہوئے تھے، جن کے گھنے سائے ندی کے…
لمحوں میں اترا بڑھاپا (افسانہ)
چوراسی سال کی عمر میں ایک صبح وہ اٹھا اور بندوق تھامے گھر سے نکل آیا لیکن کیا یہ کہانی یہاں سے شروع ہونی بھی چاہیے یا نہیں کہ جب اس کہانی کا مرکزی کردار بالکل بوڑھا پھوس ہو چکا ہے اور بندوق تھامنے والے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں پورے چھ ماہ بعد…
کتا (افسانہ)
کمدار دبے پاؤں چلتا ہوا آیا اور جھک کر سائیں کے کان میں سرگوشی کی ”سائیں۔۔ تھانیدار آیا ہے“ سائیں کے منہ کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ”اس وقت؟“ تھانیدار ہاتھ باندھے اوطاق میں داخل ہوا اور سائیں کے گھٹنوں کو عقیدت سے چھو کر ہاتھ باندھے باندھے کھڑا ہو گیا سائیں نے…
ہاسٹل میں پڑنا (مزاح)
ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کر لیا، لیکن اس نصف صدی کے دوران میں، جو کالج میں گزارنی پڑی، ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں صرف ایک ہی دفعہ ملی۔ خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا؟ یہ سوال ایک…