اور پل ٹوٹ گیا
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور گوتما ابھی تک نہیں آئی تھی۔ ریستوران، جس کی بالکونی میں بیٹھا میں اس کا انتظار کر رہا تھا، شہر کے بڑے باغ کے پچھواڑے واقع تھا اور کسی پرانی خانقاہ کے مانند چیڑ، یوکلپٹس اور مولسری کے دراز قد درختوں میں گھرا ہوا تھا۔ ان…