کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں…
ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
ملیر کی کالونائزیشن
ملیر میں آج جس قسم کی صورتحال ہے، جس طرح مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کی تہذیب ،ثقافت، زبان اور وقار کو جس انداز میں ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے، اسے اگر ’ڈاکٹرائن آف ڈسکوری‘ اور ’ڈاکٹرائن آف ٹیرا نالیس‘ کے تناظر میں ملیر کی…
کسانوں کی بے بسی، حکمرانوں کی بے حسی اور دروازے پر دستک دیتا گندم کی نایابی کا خطرہ!
دنیا بھر میں بدلتے موسمیاتی حالات کے پیش نظر زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حکمران زراعت کو مضبوط کرنے کے بجائے ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں جو اس کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے…