سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 19)
ایک بار کرنل (آر) شہباز نے بتایا تھا ”میں 1978ء سے1980ء تک 2 این ایل آئی (2NLI) کا کمانڈر رہا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسکردو سے اولڈنگ تک کا راستہ تنگ، دشوار تھا اور اس مسافت طے کرنے میں سات (7) گھنٹے لگتے تھے۔ مرول ٹاپ سے آگے کا راستہ تو بہت ہی کٹھن…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 16)
سندھو کہانی جاری رکھے ہے؛ ”لیہہ میری شمال مغربی گزرگاہ پر واقع ہے۔ شیوک دریا بھی میرے متوازی بہتا ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ طے کرکے مجھ میں گرتا ہے۔“ ملبیک سے روانہ ہو کر مجھے اولڈنگ پہنچنا تھا۔ اپنے دیس، پاکستان۔۔ یہاں سے ایک سو پچاس میل کا سفر طے کر کے۔۔…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 10)
دم چک سے میں نے جیپ کرائے پر لی ہے۔ پنتیس (35) سالہ صحت مند، باریش، گوری رنگت، دم چک کا رہائشی نواز میرا ڈرائیور اور ہم سفر ہے۔ (کیا خوش قسمتی ہے کہ بہاول پور میں میرے ایک سرکاری ڈرائیور کا نام بھی نواز تھا۔ وہ کمال درویش منش اور عمدہ ڈرائیور تھا۔) میرا…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 9)
”میں تقریباً دو سو (200) میل یا تین سو بیس (320) کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے تبت کی شمال مشرقی سرحد عبور کر کے چھیالیس (46) سو میٹر کی بلندی سے مقبوضہ کشمیر کی وادیِ لداخ میں داخل ہوتا ہوں۔ لہہ سے تیس (30) کلومیٹر دور میری پہلی ڈسٹری بیوٹری دریائے ’زنگسار‘…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 5)
دو دہائیوں بعد مجھے اس کی زندگی پر لکھنے کا شوق پیدا ہوا تو میں پھر اس کے پاس چلا آیا ہوں۔ کئی سالوں کی غیرحاضری کا شکوہ کر کے بولا ”کیسے آئے ہو اتنی مدت کے بعد کہاں تھے تم؟“ میں نے جواب دیا؛ ”دوست! تمھاری کہانی لکھنے کو دل چاہا تو تمھارے پاس…
بلوچستان کی مہر گڑھ تہذیب اور ہزاروں سال قبل ’ڈرل مشین‘ کے ذریعے دانت کا علاج!
انسان اپنی تلاش کے سفر میں ماضی کو کھوجتا جا رہا ہے اور اِس تلاش کا ایک رُوپ آثار قدیمہ کی بازیافت بھی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کا ماضی کتنا تابناک تھا۔ اگر مصری تہذیب سے گنجے پن کے علاج، نعشوں کو محفوظ رکھنے اور دیگر بیماریوں کے بارے میں…
سندھی اجرک اور سعودی عرب میں ’قماش رمضان‘
سعودی عرب میں رمضان کی آمد سے قبل اس مناسبت سے سڑکوں اور بازاروں کو مختلف اشیا اور طریقوں سے مزین کیا جاتا ہے ان اشیا میں لال رنگ کا ایک منقش کپڑا خاص اہمیت رکھتا ہے، جو رمضان کے دوران ہر چھوٹے بڑے بازار اور ہر اہم عمارت پر نظر آتا ہے سعودی عرب…